صہیونی شہری قابض فوج پر کتنا اعتماد کرتے ہیں؟

صہیونی

?️

سچ خبریں: جب کہ مقبوضہ علاقوں کے شمالی علاقے روحوں کے قصبوں میں تبدیل ہوچکے ہیں اور سرحد سے کئی کلومیٹر دور تک خالی کرالیے گئے ہیں، صہیونی میڈیا آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان عدم اعتماد کے بحران کی بات کر رہا ہے۔

صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے حزب اللہ کے کل کے حملوں کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوں کے شمال میں ہونے والی وسیع تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں کے شمال میں صیہونی بستیاں مکمل طور پر لاوارث ہو چکی ہیں اور ان بستیوں کے مکینوں میں اسرائیلی فوج کے خلاف عدم اعتماد کا گہرا بحران ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کتنے اسرائیلی شہری قابض کابینہ اور فوج پر اعتماد کرتے ہیں؟

آج Haaretz اخبار نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ حزب اللہ نے مقبوضہ علاقوں کے شمال میں ایک قسم کی سکیورٹی بیلٹ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے کیونکہ ان علاقوں میں آباد بستیوں کو مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے۔

صیہونی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے شمالی سرحدوں میں سب سے زیادہ کشیدہ آپریشن کل ہوا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ صفد کے علاقے کی طرف بڑی تعداد میں راکٹ فائر کیے گئے جن میں سے ایک راکٹ شمالی علاقے کے ہیڈ کوارٹر پر لگا اور ایک خاتون فوجی اہلکار ہلاک اورآٹھ دیگر زخمی ہوئے۔

اخبار نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے علاوہ، شمال میں جنگ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکی اور ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں اینٹی آرمر راکٹ اور مارٹر ، حملہ آور ڈرون شمال سے اسرائیل کی طرف فائر کیے جاتے ہوں۔ .

اس صہیونی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کل کے حملے ہمہ گیر جنگ کے آغاز سے تھوڑے فاصلے پر ہوئے ہیں جنہوں نے شمال میں اسرائیل کے لیے غیر مستحکم حالات پیدا کر دیے ہیں اور ان علاقوں میں صیہونی بستیوں کو 5 کلو میٹر تک خالی کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے 4 مہینوں کے دوران صیونی بستیاں عارضی فوجی اڈوں میں تبدیل ہو گئی ہیں، اور اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں نے بھی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

ہاریٹز کے مطابق اسرائیلی فوجی صیہونی آباد کاروں کے گھروں کو اپنا سمجھتے ہیں اور انہیں بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اور بغیر اجازت ان گھروں میں داخل ہوتے ہیں جبکہ اس کے بعد کوئی بھی ادارہ آباد کاروں کی جائیداد کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا جس کے نتیجہ میں اس حوالے سے فوج کی جانب سے نظر انداز کیے جانے سے آبادکاروں میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے۔

ہاریٹز کے ساتھ بات چیت میں، اپر گلیلی کونسل کے سربراہ، گیورا زلٹس نے کہا کہ قابض حکومت اس جنگ میں ہمارے ساتھ نہیں ہے، بہت سے تعلیمی ادارے غیر محفوظ ہیں اور فیصلوں میں کوئی ہم سے مشورہ نہیں کرتا،ہمارے مسائل حل کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب کہیں آگ لگتی ہے تو ہمیں خود بجھانی ہوتی ہے کیونکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے اور فائر فائٹرز میزائلوں کی بارش کے خوف سے علاقے میں داخل نہیں ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فوج کی بڑی غلطیاں کیا ہیں ؟

اس صہیونی آباد کار نے اعتراف کیا کہ غزہ کی سرحد پر پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے اسرائیلی آباد کاروں اور فوج کے درمیان بداعتمادی کا شدید بحران ہے جب کہ حزب اللہ حماس کی طرح نہیں ہے اور یہاں کی صورتحال 7 اکتوبر سے کہیں زیادہ بڑے واقعے کا باعث بن سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی، غزہ میں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

?️ 3 نومبر 2025پشاور: (سچ خبریں) ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی

مزار شریف شیعہ مسجد میں دھماکہ؛ 70 شہداء اور زخمیوں کے ابتدائی اعدادوشمار

?️ 21 اپریل 2022سچ خبریں:  مزار شریف میں عوامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ

ایندھن بحران کے سبب پی آئی اے کی ’مخصوص پروازیں‘ آپریشنل

?️ 27 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ایندھن کی کمی کے باعث گزشتہ 2 ہفتوں

مٹھی بھر گمراہ عناصر بلوچستان کے عوام کا عزم متزلزل نہیں کر سکتے، آرمی چیف

?️ 9 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ

ٹک ٹاکرز کو جاہل، بدتمیز کہنے پر فیصل قریشی کا وضاحتی بیان

?️ 9 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان فیصل قریشی

پاکستان نے سعودی عرب کے فیصلے کا خیر مقدم کیا

?️ 20 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) دفتر خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا

بحیرہ عمان میں صیہونی بحری جہاز پر حملہ کیسے ہوا؛امریکی فوج کا اعلان

?️ 31 جولائی 2021سچ خبریں:امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے دھماکہ خیز

تائیوان چین کا تائیوان ہے:چینی وزیر دفاع

?️ 25 اگست 2022سچ خبریں:چین کے وزیر دفاع نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے