شام میں فوجی کارروائیاں تاریخی موقع ضائع کر سکتی ہیں:واشنگٹن کا اسرائیل کو انتباہ

شام ، اسرائیل

?️

شام میں فوجی کارروائیاں تاریخی موقع ضائع کر سکتی ہیں:واشنگٹن کا اسرائیل کو انتباہ

واشنگٹن نے تل‌آویو کو خبردار کیا ہے کہ شام کے اندر حالیہ اسرائیلی حملے نہ صرف دمشق کے ساتھ ممکنہ تعلقات کی بحالی کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ عارضی شامی حکومت کے سربراہ ابومحمد الجولانی کو مستقل دشمن میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ صدر ڈونالد ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کی شام کے اندر فوجی کارروائیوں پر سخت تشویش میں مبتلا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بیت‌جن میں ہونے والا تازہ حملہ، جس میں کم از کم ۲۰ شامی شہری مارے گئے، واشنگٹن کو شدید حیرت میں ڈال گیا کیونکہ اس آپریشن سے قبل نہ امریکی حکومت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی دمشق کے ساتھ موجود حفاظتی رابطہ چینل استعمال ہوا۔

امریکی حکام کے مطابق اس واقعے نے شام اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ ’’نیا سکیورٹی معاہدہ‘‘ بری طرح متاثر کیا ہے۔ واشنگٹن اس معاہدے کو دمشق کے ممکنہ طور پر معاہدۂ ابراہیم میں شمولیت کی بنیاد سمجھتا ہے۔ اسی سلسلے میں ٹرمپ کے خصوصی نمائندے تام باراک نے اسرائیلی اور شامی فریقوں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کیے اور دمشق میں الجولانی سے ملاقات بھی کی تاکہ تناؤ میں اضافہ نہ ہو۔

اس صورتِ حال کے بعد ٹرمپ نے پہلی بار عوامی سطح پر اسرائیل کو پیغام دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو شام کے ساتھ مضبوط اور حقیقی مکالمہ جاری رکھنا چاہیے اور ایسے واقعات سے گریز کرنا چاہیے جو شام کی ترقی اور دونوں ملکوں کے بہتر مستقبل میں رکاوٹ بنیں۔ ان کے مطابق ’’یہ ایک تاریخی موقع ہے‘‘۔

ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد ان کی نتانیاهو سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔ اگرچہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے شام کے حوالے سے کچھ نہیں کہا، لیکن بتایا کہ ٹرمپ نے انہیں جلد واشنگٹن آنے کی دعوت دی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ ملاقات ممکن ہے کرسمس سے پہلے ہی ہو جائے، تاہم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ امورِ راهبردی ران درمر کے استعفے کے بعد اسرائیلی کابینہ میں شام کے معاملے کی سربراہی غیر واضح ہے، جو سفارتی پیش رفت میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

شام میں اسرائیلی حملے ایسے وقت میں تیز ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ شامی عبوری حکومت کی حمایت، سابق پابندیوں کے خاتمے اور دمشق–تل‌آویو تعلقات کی بحالی کے لیے سرگرم ہے۔ واشنگٹن اور تل‌آویو کے درمیان شام کی نئی سیاست سے متعلق گہرا اختلاف اب ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

اسرائیل سقوطِ حکومتِ اسد کے بعد سے شام کے دفاعی ڈھانچے پر کئی حملے کرچکا ہے اور القنیطرہ سمیت جنوبی علاقوں میں پیش قدمی بھی کی ہے۔ گزشتہ جمعے کو بیت‌جن پر حملہ اس سال کا خونریز ترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں مقامی اطلاعات کے مطابق امدادی ٹیموں تک رسائی بھی مشکل بنا دی گئی۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ’’جماعت اسلامی‘‘ سے تعلق رکھنے والے مطلوب افراد کی گرفتاری تھا، تاہم دمشق اسے براہِ راست جارحیت قرار دے کر شدید ردعمل کا مطالبہ کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

پیرس کی سڑکوں پر کیا ہو رہا ہے؟

?️ 9 جولائی 2023سچ خبریں: سکیورٹی اداروں کی طرف سے اعلان کردہ پابندیوں کے باوجود

خطے میں امارات کی حرکتیں تل ابیب کے مطابق ہیں: سعودی تجزیہ کار

?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: سعودی تجزیہ کار فواد ابراہیم نے زور دے کر کہا

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 25 خوراج ہلاک، 5 جوان شہید

?️ 26 اکتوبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں

 ایران میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق ممکن نہیں

?️ 27 فروری 2026 ایران میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق ممکن نہیں بین الاقوامی

جان بولٹن نے روسی حکومت کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کیا

?️ 6 اکتوبر 2022سچ خبریں:   ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں امریکی قومی سلامتی کے

قیام امن کیلئے جنوبی وزیرستان میں دفعہ 144 لگا دی گئی

?️ 7 مارچ 2021جنوبی وزیرستان (سچ خبریں) صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع جنوبی وزیرستان میں امن

یمن میں سعودی اتحاد کی مسلسل شکست کے بعد امریکہ کی براہ راست مداخلت

?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں:یمن کے شہر میں امریکہ کے بنائے ہوئے سعودی اتحاد کی

ہماری بِلّی اور ہمیں کو میاؤں

?️ 13 جولائی 2023سچ خبریں: ایک معتبر امریکی اخبار نے لکھا کہ لیتھوانیا میں نیٹو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے