?️
امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا کو وارننگ
جنوبی کوریا، جو گزشتہ کچھ عرصے سے امریکا سے جنگی حالات میں آپریشنل کمانڈ واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے، اب پارلیمنٹ میں ایسے بل منظور کرانے کی کوشش کر رہا ہے جن کے تحت اسے شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان حائل علاقے، یعنی غیر فوجی زون (DMZ)، تک رسائی حاصل ہو سکے۔ اس اقدام کو امریکا کی جانب سے حالیہ دنوں میں واضح مخالفت اور ’’نرم عسکری‘‘ وارننگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سیئول کا مؤقف ہے کہ اس علاقے تک رسائی نہ دینا اس کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
جنوبی کوریا میں قائم اقوام متحدہ کی کمان (UNC)، جو سلامتی کونسل کے تحت اور امریکی قیادت میں کام کرتی ہے، نے حال ہی میں سیئول حکومت کی جانب سے DMZ تک رسائی کے لیے کی جانے والی قانونی کوششوں کی کھل کر مخالفت کی۔ اس کے بعد امریکی افواج برائے جنوبی کوریا (USFK) کے کمانڈر نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے جنوبی کوریا کو ایک نرم عسکری انتباہ دیا اور کہا کہ غیر فوجی زون کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔
خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق، امریکی افواج کے کمانڈر جنرل خاویر برنسن نے اس قانون سازی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ DMZ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے یہ بیانات اقوام متحدہ کی کمان کی جانب سے جاری حالیہ اعلامیے کے بعد سامنے آئے، حالانکہ جنرل برنسن خود بھی UNC کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔
برنسن نے کہا کہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریا جنگ کے بعد طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ اب بھی دونوں کوریا کے رویے کا بنیادی پیمانہ ہے۔ ان کے مطابق، اس معاہدے کے تحت اس وقت DMZ تک رسائی کی منظوری یا مخالفت کا اختیار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس ہے۔
انہوں نے جنوبی کوریا کی جانب سے اپنے ہی علاقے تک رسائی کے مطالبے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ یہ حائل علاقہ سیاسی تنازعات کا مرکز نہ بنے، کیونکہ اس علاقے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدہ موجود ہے۔
یونہاپ کے مطابق، امریکی کمانڈر نے اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی کہ جنوبی کوریا نے حال ہی میں شمالی کوریا کے ساتھ DMZ میں فوجی حد بندی واضح کرنے کے حوالے سے مذاکرات کی تجویز دی ہے تاکہ ممکنہ جھڑپوں سے بچا جا سکے، تاہم ان کے بقول تمام اقدامات جنگ بندی معاہدے کے دائرے میں ہونے چاہییں۔
جنرل برنسن نے واضح کیا کہ امریکا جنگ بندی معاہدے کو ختم یا اس میں یکطرفہ تبدیلی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک طے شدہ اصولوں پر عمل کیا جاتا رہے گا، کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔
یہ وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل اقوام متحدہ کی کمان نے ایک غیر معمولی بیان میں خود کو دو کوریا کے درمیان غیر فوجی زون کا ’’نگران‘‘ قرار دیا تھا اور اس علاقے تک رسائی پر سخت پابندی عائد کی تھی۔
غیر فوجی زون، جو نام کے برعکس دنیا کے سب سے زیادہ فوجی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، تقریباً 250 کلومیٹر طویل اور 4 کلومیٹر چوڑا ہے اور کوریا جنگ کے خاتمے کے بعد سے دونوں کوریا کے درمیان بفر زون کے طور پر موجود ہے۔
امریکی کمانڈر نے جنگی حالات میں آپریشنل کنٹرول کی مرحلہ وار منتقلی کے حوالے سے بھی کہا کہ امریکا اس عمل میں تاخیر کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر عمل ضروری ہوگا۔ یہ منتقلی جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی مدتِ صدارت کے اختتام، یعنی 2030 تک مکمل ہونا طے ہے۔
ایرنا کے مطابق، اقوام متحدہ کی کمان نے گزشتہ ماہ واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ غیر فوجی زون میں کسی بھی شخص، چاہے وہ فوجی ہو یا شہری، کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سوائے ان افراد کے جو انتظامی یا امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہوں یا جنہیں عسکری جنگ بندی کمیشن نے خصوصی اجازت دی ہو۔ سیئول نے اس فیصلے کو اپنی علاقائی خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے۔
سیئول سے شائع ہونے والے اخبار کوریا ٹائمز نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کسی سیاسی نوعیت کے معاملے پر اقوام متحدہ کی کمان کی جانب سے عوامی بیان غیر معمولی بات ہے۔ اخبار کے مطابق، جنوبی کوریا کے وزیر برائے اتحاد نے انکشاف کیا کہ قومی سلامتی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو بھی DMZ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا، جسے حکومت نے خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اسی تناظر میں، حکمران ڈیموکریٹک پارٹی کے دو ارکانِ پارلیمنٹ نے ایسے بل پیش کیے ہیں جن کے تحت غیر فوجی اور پرامن مقاصد کے لیے DMZ تک رسائی ممکن بنائی جا سکے، تاہم امریکا اور اقوام متحدہ کی کمان کی سخت مخالفت نے اس معاملے کو ایک نیا سفارتی اور عسکری چیلنج بنا دیا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا نیا دہشت گردی کا منصوبہ کیا ہے؟
?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں: عراق کے سیاسی امور کے ماہر نے مغربی ایشیائی خطے
ستمبر
توشہ خانہ، 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان کی جیل ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
?️ 24 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی
جنوری
بحر الکاہل کے پانیوں میں دو برطانوی جنگی بیڑوں کی مستقل تعیناتی
?️ 21 جولائی 2021سچ خبریں:برطانوی وزارت دفاع نے ہند بحر الکاہل کے پانیوں میں دو
جولائی
امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے ساتھ ہی ایران کے خلاف متحدہ عرب امارات کی میڈیا جنگ
?️ 6 مئی 2026 سچ خبریں: ویب سائٹ "عربی پوسٹ” نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں
مئی
پتنگ بازی پر مکمل پابندی کے لیے وزیراعلی پنجاب، آئی جی، چیف سیکرٹری سمیت دیگر کو خط
?️ 25 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) جوڈیشل ایکٹیوزم پینل نے پتنگ بازی پر مکمل پابندی
اکتوبر
وائٹ ہاؤس نے بھی صحافیوں کی رسائی محدود کر دی، آزادی صحافت پر خدشات میں اضافہ
?️ 1 نومبر 2025وائٹ ہاؤس نے بھی صحافیوں کی رسائی محدود کر دی، آزادی صحافت
نومبر
امریکہ اور آسٹریلیا کی مشترکہ فوجی مشق کے مقاصد
?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں:آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اعلان کیا ہے کہ
جولائی
ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکیاں خطرناک وہم، ایران وینزویلا نہیں: پاکستانی سینیٹر
?️ 31 جنوری 2026سچ خبریں:پاکستانی سینیٹر ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ایران کے
جنوری