غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کی بندش کا آخری دن، رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا امکان

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) غیر رجسٹرڈ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی اینز) کی بندش کی ڈیڈ لائن کا آج آخری دن ہے، وی پی اینز رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا امکان ہے تاہم حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کرے گی۔

ڈان نیوز کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کی بندش کی ڈیڈ لائن کا آج آخری دن ہے تاہم وی پی اینز کی رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا امکان ہے۔

ذرائع پی ٹی اے نے بتایا ہے کہ وی پی اینز رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ وزارت داخلہ کرے گی جب کہ اب تک 27 ہزار سے زائد وی پی اینز رجسٹرڈ کیے جاچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ٹی انڈسٹری، فری لانسرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کررکھا ہے۔

پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ رجسٹرڈ وی پی اینز کے ذریعے ملک میں سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے جب کہ قومی سلامتی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے وی پی این رجسٹریشن ضروری ہے۔

خیال رہے کہ پی ٹی اے نے وی پی این رجسٹریشن کی ڈیڈ لائن 30 نومبر مقرر کر رکھی ہے، تاریخ میں توسیع نہ ہونے پر غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔

اس سے قبل، وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز ایسوسی ایشن نے وی پی اینز کی رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔

چیئرمین وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز ایسوسی ایشن شہزاد ارشد نے سیکریٹری داخلہ کو اس حوالے سے خط ارسال کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع حکومت کے مقاصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔

چیئرمین وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز ایسوسی ایشن شہزاد ارشد نے سیکریٹری داخلہ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ’وی پی اینز کی رجسٹریشن کے عمل سے متعلق شہریوں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔

ایسوسی ایشن وی پی اینز کو ریگولیٹ کرنے کی حکومتی کوششوں کی تعریف کرتی ہے، تاہم وی پی اینز کی رجسٹریشن کا عمل آسان کرنے سے شہریوں، فری لانسرز اور بزنس کمیونٹی کو سہولت میسر آئے گی۔

وائر لیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلے سے جاری عمل میں حساس معلومات سے متعلق خدشات دور ہوئے ہیں، اب فری لانسرز اور شہریوں نے وی پی این کی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا ہے۔

ایسوسی ایشن اپنے ممبران کو وی پی اینز کے استعمال کا محفوظ راستہ اپنانے کی ترغیب دے رہی ہے، سروس پروائیڈرز آئی ٹی انڈسٹری کے ساتھ مل کر وی پی این رجسٹریشن کا عمل مزید آسان کرسکتے ہیں، تاہم پہلے سے موجود شکوک و شبہات میں صارفین کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے یکم دسمبر سے غیر رجسٹرڈ وی پی این کو بلاک کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، وی پی این کا استعمال کسی ایپ کی بندش کے دوران اسے بلاتعطل استعمال کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران سیاسی جماعتوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں اور مارچ کے دوران انٹرنیٹ کی بندش اور بعض ایپس تک رسائی میں مشکلات کی وجہ سے فری لانسرز، آن لائن کام کرنے والے پروفیشنلز وی پی این استعمال کرکے اپنے خاندانوں کے لیے روزگار کما رہے تھے۔

تاہم اب پی ٹی اے نے وی اینز کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے اور کہا ہے کہ یکم دسمبر کے بعد غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کام نہیں کریں گے۔

مشہور خبریں۔

سفرا کے متعلق وزیر اعظم کے بیان پر فواد کا چوہدری کا رد عمل سامنے آگیا

?️ 7 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کے ہمراہ

سی پیک کے تحت بننے والے ساڑھے تین ہزارمیگاواٹ کے کچھ منصوبے ملتوی

?️ 3 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاک چین تعلقات کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے پاکستان چین

غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے نقصانات کی تفصیل 

?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں:صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق غزہ کی پٹی کے خلاف

نصف سے زائد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کول پاور پروجیکٹس میں موصول ہوئی

?️ 23 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک میں 50 فیصد سے زائد براہ راست

آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر اقوام متحدہ کی کانفرنس، اسرائیل اور امریکہ کی برہمی

?️ 23 ستمبر 2025آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر اقوام متحدہ کی کانفرنس،اسرائیل اور امریکہ

امریکی حکام کا غزہ میں بائیڈن حکومت کے خلاف احتجاج

?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں:امریکہ کے ہزاروں سے زائد اہلکاروں نے بائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ

پاکستان کا بھارت کیلئے فضائی حدود مزید ایک ماہ بند رکھنے کا فیصلہ

?️ 19 ستمبر 2025کراچی (سچ خبریں) پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود مزید

تردید، پالیسی بیانات کےباوجود نیٹ میٹرنگ پالیسی سے متعلق غلط خبریں نشر کی جا رہی ہیں، وزیر توانائی

?️ 5 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانی اویس لغاری نے اظہار تاسف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے