ایران کے ساتھ معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے دعوے، خلیجی رہنماؤں سے ممکنہ ملاقات متوقع

ٹرمپ کے دعوے

?️

سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، تاہم ابھی اس کے لیے تیار نہیں۔ ادھر امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی محدود کرنے کی قرارداد بھی منظور ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ان کے بقول تہران ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہے۔

ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی 11 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن میرے خیال میں وہ تیار نہیں۔ یا تو ہم ایسا معاہدہ کریں گے جو اچھا ہو، یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس نے 3 ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ توقع ہے کہ ٹرمپ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل کے 6 رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ پہلے ہی ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت ختم کرچکا ہے۔

 ان کے بقول، اگر بی-2 بمبار طیارے استعمال نہ کیے جاتے تو ایران اس وقت جوہری ہتھیار رکھتا۔

امریکی صدر نے اپنے دعوؤں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایران کو دنیا بھر میں بدترین ملک سمجھا جاتا ہے اور یہ صورت حال طویل عرصے سے برقرار ہے۔

 انہوں نے کہا: ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔ وہ ایرانیایرانی انتہائی کمزور پوزیشن میں ہیں۔

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں اپنا دعویٰ دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، امریکی فورسز تقریباً ہر رات کچھ جہازوں کو نشانہ بناتی ہیں، کیونکہ وہ انہیں دیکھ نہیں پاتے، جبکہ امریکہ ان کے ریڈار تباہ کرچکا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت بدترین صورت حال سے دوچار ہے اور وہاں مہنگائی کی شرح 300 فیصد سے زیادہ ہے۔ ٹرمپ کے بقول، ایران کی صورت حال افراتفری کا شکار ہے اور اب دیکھنا ہوگا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ بالآخر امریکہ کامیاب ہوگا۔ ان کے مطابق، انہیں معلوم نہیں کہ یہ کامیابی معاہدے کے ذریعے حاصل ہوگی یا نہیں، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ ابھی بھی کامیابی حاصل کر رہا ہے۔

توقع ہے کہ خلیجی رہنماؤں کے ساتھ مجوزہ ملاقات میں جنگ کے بعد کی حکمت عملی اور تنازع کے اگلے مراحل سے متعلق واشنگٹن کے مؤقف پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کے روز ابتدائی دعوت نامے ارسال کیے تھے۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس اجلاس میں دیگر عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز امید ظاہر کی تھی کہ واشنگٹن جنگ کے خاتمے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکہ کو براہ راست ایران کی جانب سے یہ پیغام ملا ہے کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کے روز 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی، جس کا مقصد ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنا ہے۔

ڈیموکریٹ رکن کانگریس سیٹھ مولٹن کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کے تحت امریکی حکومت کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ایران کے ساتھ فوجی تنازع سے امریکی افواج کو واپس بلائے، سوائے ان مخصوص حالات کے جن میں دفاعی کارروائی ضروری ہو۔ 7 ریپبلکن ارکان نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔

مشہور خبریں۔

ایران سے پابندیاں ہٹانے کا بائیڈن کا نیا دعویٰ

?️ 1 اگست 2022سچ خبریں:   پیر کو 10ویں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر نظرثانی

ملک بھر میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ

?️ 30 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا سے متعلق سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پچھلے

بشار الاسد کے یو اے ای کے دورے پر امریکی ردعمل

?️ 19 مارچ 2022سچ خبریں:  محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بشار الاسد کے یو اے

جھوٹ بولا گیا کہ اڈیالہ کے باہر ہم پر پانی پھینکا گیا۔ عظمی بخاری

?️ 21 نومبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ

ایران سے تیل خریدنے کی صورت میں قیمت 150 روپے ہو جائے گی

?️ 28 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں) سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ

وزیر اعظم نے بھارت سے اظہار یکجہتی کی

?️ 24 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی

بدعنوانی اسکینڈل اور یوکرائنی عہدیداروں کے بڑے پیمانے پر استعفے

?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے والوں میں ویاچسلاو شاپووالوف، نائب وزیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے