?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں جن میں امریکی مذاکراتی دباؤ، اسرائیل کے سکیورٹی خدشات، چینی و روسی تجزیے اور عرب میڈیا کی آراء شامل ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارح فریقین کے لیے ایک اسٹریٹجک تعطل کے بڑھتے ہوئے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔
یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور عام شہریوں خصوصاً معصوم طلبہ کی ہلاکت سے شروع ہوئی، جلد ہی انسانی، سلامتی اور معاشی سطح پر وسیع اثرات کی حامل بن گئی اور بین الاقوامی میڈیا میں مختلف ردعمل کا باعث بنی۔ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی اور بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے توسیع بھی دی، تاہم اب بھی اس جارحیت کے حقیقی خاتمے تک ایک پیچیدہ راستہ باقی ہے۔
عالمی میڈیا نے اپنے اپنے زاویوں سے اس جنگ کی تصویر کشی کی ہے، اور ان آراء کا جائزہ موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
عرب اور علاقائی میڈیا
الجزیرہ نے اپنے ایک تجزیہ میں کہا ہے کہ ۲۰۱۵ کے ایران اور امریکہ معاہدے کے ساتھ ۲۰۲۶ کے کسی ممکنہ معاہدے کا موازنہ درست نہیں کیونکہ موجودہ حالات بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ مصنف کے مطابق موجودہ مذاکرات امریکہ، ایران، پاکستان، قطر اور دیگر فریقوں کے درمیان ایک مختلف سیاسی ماحول میں ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ جنگ بندی کا مطلب مکمل فوجی سرگرمیوں کا خاتمہ نہیں ہے۔ امریکہ اب بھی نگرانی، بحری گشت اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ خطے میں امریکی افواج مکمل الرٹ ہیں۔ ابتدائی معاہدے کی سطح پر بات چیت جاری ہے جو آبنائے ہرمز کے قریب فوجی دباؤ میں کمی اور بحری آمدورفت پر پابندیوں میں نرمی پر مرکوز ہے، اور اس پر عملدرآمد ۶۰ دن کے اندر ممکن تصور کیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق یہ ابتدائی معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بڑے مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ امریکہ داخلی سیاسی و اقتصادی وجوہات کی بنا پر تیزی سے معاہدہ چاہتا ہے جبکہ ایران پر دباؤ زیادہ ہے، لیکن تکنیکی اور سیاسی پیچیدگیاں اب بھی موجود ہیں۔
المیادین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مذاکرات میں تاخیر کی بنیادی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی داخلی سیاسی ضروریات میں تضاد ہے۔ اسرائیل میں عوامی اعتماد میں کمی کے باوجود جنگ جاری رکھنے کی حمایت موجود ہے کیونکہ اسرائیلی رائے عامہ کے مطابق جنگ کا خاتمہ بغیر اہداف کے ناکامی تصور ہوگا۔
اس کے برعکس امریکہ میں بڑی تعداد جنگ کو غلط فیصلہ سمجھتی ہے اور معاشی دباؤ کی وجہ سے جلد تناؤ میں کمی چاہتی ہے۔ اسی وجہ سے امریکی قیادت ایک معاہدے کو سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رائے الیوم نے عمان کی تعریف کرتے ہوئے اسے خطے کا ایک مستحکم اور تاریخی ملک قرار دیا ہے جو صبر اور حکمت کی بنیاد پر قائم ہے۔ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ عمان کو دباؤ یا دھمکی سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور یہ ملک خلیج فارس میں استحکام کی علامت ہے۔ تجزیہ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ عرب اقوام، خصوصاً غزہ اور عمان، دباؤ کے باوجود اپنی شناخت اور مزاحمت برقرار رکھتی ہیں۔
چین اور روسی میڈیا
چین کی چائنا ڈیلی نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک ابتدائی سمجھوتے کے قریب ہیں جس کے تحت جنگ بندی کو ۶۰ دن کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیج فارس میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔
چائنا ڈیلی کے مطابق امریکہ جوہری پروگرام پر مزید پابندیاں چاہتا ہے جبکہ ایران اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور اپنے حقوق کے تحفظ پر زور دے رہا ہے۔ عالمی منڈی اور توانائی کی قیمتیں بھی ان مذاکرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
صہیونی میڈیا
اسرائیل ہیوم نے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ جنگ میں ایران پہلے سے زیادہ تیزی سے حملہ کر سکتا ہے۔
صیہونی داخلی محاذ کے مطابق آئندہ جنگ میں ابتدائی گھنٹوں میں ہی میزائل حملے شروع ہو سکتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر نقصان اور شہری نظام کی معطلی کا خطرہ ہے۔
ہارٹیز نے لکھا ہے کہ نیتن یاہو کو سابق امریکی صدر اوباما سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ۲۰۱۵ کے جوہری معاہدے کے خلاف اقدامات نے بالآخر ایران کے پروگرام کو مزید مضبوط کیا۔
گلوبز کے مطابق اسرائیل میں رہائشی بحران سنگین ہو گیا ہے اور گھر خریدنا عام شہری کے لیے مشکل ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مہنگائی اور بلند شرح سود نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔


مشہور خبریں۔
صہیونیوں کا فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک؛سرایا القدس کی زبانی
?️ 16 فروری 2025 سچ خبریں:جہاد اسلامی کی عسکری شاخ سرایا القدس کے ترجمان ابوحمزہ
فروری
غزہ کو امداد کی فراہمی میں رکاوٹ کا ذمہ دار کون ہے؟برطانوی وزیر اعظم کا دعویٰ
?️ 24 اکتوبر 2024سچ خبریں: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن
اکتوبر
امریکہ میں مہنگائی کی بڑی وجہ ؛ نیویارک کے میئر کی زبانی
?️ 14 مئی 2026سچ خبریں:نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے امریکہ میں بڑھتی مہنگائی کا
مئی
خیبرپختونخوا کے اساتذہ کی مراعات کے خلاف مشترکہ درخواست خارج
?️ 4 دسمبر 2022اسلام آباد 🙁سچ خبریں) سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے
دسمبر
وزیر اعلی کے انتخاب سے قبل پنجاب میں بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے
?️ 15 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں) پنجاب میں وزیر اعلی کے انتخاب سے قبل بڑی تبدیلی کی
اپریل
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے133 ضمنی انتخاب کے شیڈول جاری کردیا ہے
?️ 26 اکتوبر 2021لاہور (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے133
اکتوبر
پاکستان کے حالیہ دہشتگردانہ حملوں پر حسن نصراللہ کا بیان
?️ 3 اکتوبر 2023سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے نبی مکرمؐ
اکتوبر
بائیڈن نے زیلنسکی کے بجائے صدر پیوٹن کو استعمال کیا
?️ 12 جولائی 2024سچ خبریں: امریکی بلومبرگ میڈیا کے مطابق جو بائیڈن کی بڑی زبانی
جولائی