غزہ میں نہ پھٹنے والے بموں کا خطرہ

غزہ میں نہ پھٹنے والے بموں کا خطرہ

?️

سچ خبریں:ایک بین الاقوامی تنظیم نے خبردار کیا کہ غزہ میں نہ پھٹنے والے بارودی مواد کے باعث عوام کی غیر محفوظ واپسی سے جانی ہلاکتیں متوقع ہیں؛ ادویات، ملبہ ہٹانے اور مین‌ صاف کرنے کے سازوسامان کی آمد میں رکاوٹیں تعمیرنو کے عمل کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔

معذور افراد کی نگراں بین الاقوامی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ صیہونیوں کی جانب سے ملبہ ہٹانے اور مین‌ صاف کرنے کے سامان کی آمد میں رکاوٹ کے باعث غزہ کی پٹی میں  نہ پھٹنے والا بارودی مواد ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے اور بے گھر افراد کی غیرمحفوظ واپسی بڑے جانی نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ پر خاموش قبضے کے لیے مذاکرات اور انسانی امداد کے معاملے میں اسرائیل کا دھوکہ

معذورین کی نگراں بین الاقوامی تنظیم نے گذشتہ شب جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تازہ ترین صیہونی حملوں کی وسیع تباہ کاریوں کے بعد، نوارِ غزہ میں غیر پھٹنے والی بارودی مواد بازگشت کرنے والے پناہ گزینوں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہیں۔
اس تنظیم کی مقامی سربراہ آن کلر یعیش نے کہا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 70000 ٹن بارودی مواد غزہ پر برسایا گیا اور ملبے اور کوڑا کرکٹ کی گھنی تہہ نے خصوصاً شہری آبادی والے علاقوں کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔

تنظیم نے فوری اجازت نامے کے اجراء کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غزہ میں مین صاف کرنے اور آوار برداری کے کام کے لیے ضروری مشینری اور آلات داخل کیے جا سکیں، ورنہ بے خطر واپسی بڑے پیمانے پر انسانی جانی نقصانات اور بازسازی کی کوششوں میں رکاوٹ کا باعث بنے گی۔

اقوام متحدہ کے مین ایکشن دفتر نے پہلے تخمینہ لگایا تھا کہ غزہ کی پٹی میں گولہ باری کا 5 تا 10 فیصد حصہ نہ پھٹا ہو سکتا ہے، مگر اسرائیلی پابندیوں نے متاثرہ علاقوں کا مکمل جائزہ لینے میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے،زہریلے مواد ناکارہ کرنے والی بکتر بند گاڑیاں 3 مہینوں سے سرحدوں پر ہیں اور غزہ میں داخلے کی منظوری کا انتظار کر رہی ہیں۔

ادارۂ کوآرڈینیشن برائے انسانی امور (OCHA) نے بھی رپورٹ دی ہے کہ میدان میں کام کرنے والی ٹیمیں سامان کی قلت اور سکیورٹی پابندیوں کے سبب صرف چند مرکزی سڑکوں پر ہی خطرات کا جائزہ لے سکیں، اور وسیع پیمانے پر خطرات کی جانچ اور صفائی کے آپریشن بہت محدود ہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ کی تباہ کن صورتحال؛مصری ڈاکٹر کی زبانی

یہ خدشات ایسے وقت میں بڑھ گئے ہیں جب شہری اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف واپسی شروع کر رہے ہیں؛ اقوامِ بین الاقوامیہ اور امدادی اداروں نے فوری، مکمل اور بغیر رکاوٹ مین رو بی سازوسامان کی رسائی کو ناگزیر قرار دیا ہے تاکہ مزید جانی نقصانات روکے جا سکیں اور غزہ کی محفوظ بازسازی ممکن بنائی جا سکے۔

مشہور خبریں۔

آنکارا اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی؛ وجہ؟

?️ 30 جولائی 2024سچ خبریں: عراق کے ماہر اور تجزیہ نگار مهند العزاوی نے فلسطین کی

کینیڈا: غزہ میں بھوک تباہ کن سطح پر پہنچ گئی ہے

?️ 24 جولائی 2025سچ خبریں: کینیڈا کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس بات

سید حسن نصراللہ کی تدفین میں شرکت کرنے کے جرم میں برطانوی پروفیسر گرفتار

?️ 1 مارچ 2025 سچ خبریں:برطانوی جامعہ شناس اور محقق پروفیسر ڈیوڈ ملر نے انکشاف

فلسطین کی حمایت ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے: پاکستانی وزارت خارجہ

?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں: سینٹر فار ڈپلومیسی نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی

یمنی عوام کے لیے بین الاقوامی برادری نے کیا کیا ہے؟

?️ 22 اگست 2023سچ خبریں: صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر نے بین

صیہونی حکومت تیونس ساتھ کیوں سمجھوتا کرنا چاہتا ہے؟

?️ 14 اگست 2023سچ خبریں:الجزائر کی البنا الوطنی تحریک کے سربراہ عبدالقادر بن قرینہ نے

کون سے ممالک فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے خواہاں ہیں؟

?️ 31 جولائی 2025سچ خبریں: نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں

عالمی ممالک کے اقدامات سے تل ابیب چراغپا

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: یدیعوت اخرونوت اخبار نے اطلاع دی ہے کہ دنیا کے 80

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے