?️
سچ خبریں:امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یمنی حملوں کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو سکیورٹی خطرات اور معاشی عزائم کے درمیان مشکل فیصلے کا سامنا ہے۔ فوجی کشیدگی بڑھانے یا تناؤ کم کرنے، دونوں راستوں کے اپنے خطرات ہیں۔
مغربی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ اور اس دلدل کے بارے میں تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں سعودی عرب پھنستا دکھائی دے رہا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاض پر یمنی حملوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ایک مشکل دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔
انہیں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور اپنے معاشی عزائم کے درمیان توازن قائم کرنا ہے، جبکہ ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اخراجات واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں کے لیے بھی تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا کہ سعودی عرب کئی دہائیوں سے امریکہ کی سکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن اب وہ خود کو ایسی جنگ کے نتائج کا سامنا کرنے پر مجبور پا رہا ہے جس کا انتخاب اس نے خود نہیں کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، یمنی حملوں میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ ہوائی اڈہ بند کرنا پڑا اور سیکڑوں پروازیں منسوخ ہو گئیں۔
اس امریکی اخبار نے زور دیا کہ اس حملے سے سیاحت، فضائی نقل و حمل اور تجارت جیسے اہم شعبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس صورت حال سے سعودی عرب کے وژن 2030 کے ایک بنیادی ستون کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
چنانچہ محمد بن سلمان پر یمن کے خلاف فوجی کارروائی کا جواب دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ یمن میں طویل جنگ سعودی عرب کے وسائل ختم کر سکتی ہے اور معیشت کو متنوع بنانے کے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن بھی کسی نئی وسیع فوجی محاذ آرائی میں شامل ہونے کا خواہش مند دکھائی نہیں دیتا، خصوصاً وسط مدتی انتخابات سے پہلے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی جانب سے مدد کی درخواستیں 2 مرتبہ مسترد کر دیں، جس سے خلیجی ممالک کی سلامتی کے حوالے سے امریکہ کے وعدوں کی قابل اعتماد حیثیت پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ سعودی عرب اب 2 مشکل راستوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے: ایک طرف فوجی کارروائیوں میں شدت لانا ہے، جس سے یمن کے ساتھ ایک طویل اور غیر حل شدہ محاذ کھل سکتا ہے؛ دوسری طرف کشیدگی کم کرنا ہے، جسے کمزوری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اس سے یمن کو مزید حملوں کی ترغیب مل سکتی ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اس بحران کے نتیجے میں علاقائی اتحادوں کی صورت حال تبدیل ہونے اور خلیجی ممالک کا امریکہ کی سکیورٹی ضمانتوں پر اعتماد کمزور پڑنے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
پاکستانی پارلیمنٹ کے اسپیکرنے ایران اور چین کے ساتھ پارلیمانی سفارتکاری کی حمایت
?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں: اسد قیصرایک نیوز رپورٹر جنہوں نے اسلامی مشاورتی اسمبلی میں
اکتوبر
یو ایس ایڈ کا پاکستان میں کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر سرمایہ کاری پروگرام بند ہوگیا
?️ 9 فروری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں امریکی مالی اعانت سے چلنے
فروری
اکیاسی فیصد امریکی ریاستہائے متحدہ میں زندگی سے غیر مطمئن
?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:ریاستہائے متحدہ میں کیے گئے تازہ ترین سروے کے مطابق، ریاستہائے
فروری
کیا امریکی پولیس طلباء کے مظاہرے ختم کر سکی ہے؟ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے سربراہ
?️ 6 مئی 2024سچ خبریں: امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے سربراہنے طلباء کے احتجاج
مئی
حماس نے معمر قیدیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی
?️ 17 دسمبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے لکھا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے
دسمبر
’ تقریباً 40 فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے متاثر ہو سکتی ہیں ’
?️ 15 جنوری 2024سچ خبریں: عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا
جنوری
مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں سیاستدانوں کا جرم بھاری ہے: عرب پارلیمنٹ
?️ 7 جون 2022سچ خبریں: عرب پارلیمنٹ نے اسلام کی علامتوں اور مقدسات کی توہین
جون
حماس کی شکست تک ہم غزہ میں جنگ جاری رکھیں گے: گیلنٹ کا نیا دعویٰ
?️ 1 جولائی 2024سچ خبریں: اگرچہ صیہونی حکام غزہ میں تقریباً 9 ماہ کی جنگ
جولائی