?️
امریکا نے عراقی امور کے خصوصی نمائندے کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
امریکی حکام اور مغربی ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے صدر کے خصوصی نمائندہ برائے امورِ عراق مارک ساویا کو بغیر کسی واضح وجہ کے ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ مارک ساویا، جنہیں اکتوبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیا تھا، اب اس عہدے پر فائز نہیں رہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور بغداد کے درمیان عراق کی سیاست میں ایران کے مبینہ اثر و رسوخ کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مارک ساویا ایک عراقی نژاد امریکی مسیحی تاجر ہیں اور ان چند عرب نژاد امریکیوں میں شامل تھے جنہیں ٹرمپ نے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات کیا۔ امریکی صدارتی انتخابات 2024 کے دوران ٹرمپ نے ڈیٹرائٹ سمیت مختلف علاقوں میں عرب اور مسلم ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی تھی۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ساویا کی برطرفی کی اصل وجہ کیا ہے یا ان کی جگہ کسی نئے نمائندے کا تقرر کیا جائے گا یا نہیں۔ تاہم ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ اہم سیاسی معاملات میں مبینہ بدانتظامی، بالخصوص سابق عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی کی دوبارہ نامزدگی کو روکنے میں ناکامی، اس فیصلے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے، حالانکہ ٹرمپ اس معاملے پر بغداد کو پہلے ہی خبردار کر چکے تھے۔
ایک ذریعے اور ایک سینئر عراقی عہدیدار کے مطابق، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترکی میں امریکا کے سفیر اور شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام باراک، جو حال ہی میں کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز سے ملاقات کے لیے اربیل گئے تھے، عراق سے متعلق امور کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مارک ساویا نے جمعرات کے روز رائٹرز سے بات کرتے ہوئے اپنی برطرفی یا کردار میں کسی تبدیلی کی تردید کی اور کہا کہ وہ اب بھی اس عہدے کے لیے درکار انتظامی مراحل مکمل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل جلد مکمل ہو جانا چاہیے۔
تاہم ساویا کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اکاؤنٹ، جو کچھ عرصہ پہلے تک فعال تھا، جمعرات سے غیر فعال ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ڈیٹرائٹ میں ماریجوانا کے کاروبار سے وابستہ ساویا کا ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلق تھا، تاہم سفارتی تجربہ نہ ہونے کے باعث ان کی تقرری ابتدا ہی سے حیران کن سمجھی جا رہی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقرری کے بعد وہ کبھی باضابطہ طور پر عراق کا دورہ بھی نہیں کر سکے۔
دو عراقی حکام نے بتایا کہ ساویا گزشتہ جمعے عراق کا دورہ کرنے اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کے لیے شیڈول تھے، مگر یہ دورہ اچانک منسوخ کر دیا گیا۔
یہ پیش رفت اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں صدر ٹرمپ نے عراق کو خبردار کیا تھا کہ اگر نوری المالکی کو دوبارہ وزیرِ اعظم منتخب کیا گیا تو امریکا عراق کی حمایت ختم کر دے گا۔ نوری المالکی، جن پر اپنے دورِ اقتدار میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے اور داعش کے ظہور کا الزام عائد کیا جاتا ہے، حال ہی میں عراق کے سب سے بڑے پارلیمانی اتحاد کی جانب سے دوبارہ اس عہدے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
میک اپ سرجریز کرانے کی وجہ سے ہر کوئی ایک جیسا دکھنے لگا ہے، نیلم منیر
?️ 31 دسمبر 2024 کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ نیلم منیر نے کہا ہے کہ آج
دسمبر
یمن کا ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان
?️ 11 فروری 2026یمن کا ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان یمن کے نائب
فروری
سینیئر صہیونی فوجی کا استعفیٰ کے مطالبہ
?️ 31 اکتوبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے ریزرو میجر جنرل اسحاق باریک نے اعتراف
اکتوبر
شام میں داعش کے دوبارہ سر اٹھانے عراق کا اظہار تشویش
?️ 25 جنوری 2025سچ خبریں:عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے شام میں داعش کے
جنوری
لندن میں فلسطین کی حمایت پر 400 افراد گرفتار
?️ 7 ستمبر 2025سچ خبریں: برطانیہ، جو کہ اظہار رائے کی آزادی کا دعویٰ کرتا
ستمبر
سعودی اتحاد برائے نام جنگ بندی چاہتا ہے:یمن
?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:یمن کی قومی نجات حکومت کے وزیر خارجہ نے اس بات
اکتوبر
اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا جماعتِ اسلامی کے دھرنے پر اثر
?️ 31 جولائی 2024سچ خبریں: جماعت اسلامی کراچی نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے باعث
جولائی
یمنی عوام کے خلاف امریکی اقدامات کے اثرات؛ یمنی سیاسی کارکن کی زبانی
?️ 3 مارچ 2024سچ خبریں: یمن کے ایک سیاسی کارکن نے اقتصادی میدانوں میں اس
مارچ