صہیونیوں کا جنوبی شام سے دمشق تک قبضہ بڑھانے کا خفیہ منصوبہ

جنوبی شام سے دمشق

?️

سچ خبریں:شامی باخبر ذرائع نے جنوبی شام سے دمشق کی جانب صہیونی قبضے کو بتدریج وسعت دینے کے منصوبے سے خبردار کیا ہے۔ صیہونی فوجی اڈوں، زمینی کارروائیوں اور دمشق کے مضافات تک حملوں میں اضافے نے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

شام کے باخبر ذرائع نے جنوبی شام سے دمشق کی جانب صہیونی حکومت کے قبضے کو بتدریج وسعت دینے کے منصوبے سے خبردار کیا ہے۔

ایسے وقت میں جب ابو محمد الجولانی کی حکومت صہیونی حکومت کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر انحصار کر رہی ہے، اسرائیل جنوبی شام میں اپنی فوجی موجودگی مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ دمشق کے مضافات تک حملوں کا دائرہ بڑھا رہا ہے، جو اب بیت جن تک پہنچ چکا ہے۔

شام میں دمشق تک صہیونی قبضے کو وسعت دینے کا منصوبہ

یہ عمل نہ صرف جنوبی شام میں صہیونی قبضے کو مستحکم کررہا ہے بلکہ دمشق کی جانب پیش قدمی کی راہ بھی ہموار کررہا ہے۔ صہیونی حکومت جولانی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جنوبی شام کے جن علاقوں پر قبضہ کرکے بیٹھی ہے، وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور ساتھ ہی دمشق کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کی حمایت کرنے والے امریکا کے کردار پر انحصار کررہی ہے۔

اس دوران ایسا لگتا ہے کہ شام میں صہیونی حکومت کے لیے امریکی حمایت نے گزشتہ اگست میں ادلب کے مضافات میں ابو الظهور ایئرپورٹ پر صیہونی حملے کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

دوسری جانب شامی سفارت کاری 1974 کے عدم جارحیت معاہدے کے اصولوں کی پابندی پر قائم ہے اور جولانی حکومت اب بھی صیہونی حملوں کو اس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس معاہدے کے مستقبل کے منظرنامے میں بنیادی تبدیلیوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔

تل ابیب نے گزشتہ چند ماہ کے دوران قبضے کا ایک جامع ڈھانچہ تشکیل دیا ہے جسے 3 بنیادی پہلوؤں میں بیان کیا جاسکتا ہے:

اول: مستقل فوجی ڈھانچہ

اسرائیل نے جنوبی شام میں ایک مستقل فوجی ڈھانچہ قائم کیا ہے جس میں نگرانی کے نظام سے لیس تقریباً 10 فوجی اڈے شامل ہیں۔ یہ اڈے کوہ حرمون سے اردن کی سرحد پر دریائے یرموک کے طاس تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی سڑک صوفا 53 کی تعمیر بھی مکمل کی گئی ہے، جس کا کام 2022 میں شروع ہوا تھا۔

یہ سڑک علیحدگی کی لکیر سے تقریباً 2 کلومیٹر آگے تک پھیلی ہوئی ہے، جس سے صہیونی قابض فوج کو نقل و حرکت کی زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے۔ یہ پیش رفت اسمارٹ سکیورٹی وال پر جاری کام کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کے مستقبل میں ان نئے فوجی اڈوں سے انخلا کی صورت میں بھی یہ کامیابی برقرار رہے گی۔ اس لیے یہ مؤقف اختیار کیا جاسکتا ہے کہ مذکورہ سڑک دراصل صیہونی فوج کے لیے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتی ہے، نہ کہ لازماً ان نئے اڈوں سے جو بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد قائم کیے گئے ہیں، اگرچہ یہ تمام مقامات ایک ہی جغرافیائی علاقے میں واقع ہیں جسے صوفا 53 کے منصوبے کے تحت ہدف بنایا گیا ہے۔

الاخبار کے ذرائع کے مطابق اسرائیل نے قنیطرہ کے مضافات میں اپنے بعض فوجی اڈوں کو بھاری ہتھیاروں سے مزید مضبوط کیا ہے۔ یہ اقدام ان زمینی سرگرمیوں کے ساتھ جاری ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل وہاں طویل عرصے تک قیام کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوم: سکیورٹی کا براہ راست انتظام

صہیونی حکومت کی فوج جنوبی شام کے اندر مسلسل حملے اور تلاشی کی کارروائیاں کررہی ہے، جو گزشتہ اگست میں اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔

دوسری جانب قابض فوج عملاً جنوبی شام میں شامی سرکاری فورسز کی نقل و حرکت، بالخصوص صیہونی فوجی اڈوں کے اطراف میں ان کی آمدورفت کا تعین کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورتحال عدم جارحیت معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان میں سے بعض فوجی اڈے اس بفر زون کے اندر قائم کیے گئے ہیں جسے دونوں فریقوں کی کسی بھی فوجی سرگرمی سے پاک ہونا چاہیے۔

سوم: سیاسی اور فوجی سطح پر قبضے کو مستحکم کرنا

شام میں صہیونی قبضے کے عمل کو صیہونی حکام کے بیانات اور جنوبی شام کے مقبوضہ علاقوں کے ان کے دوروں سے مزید تقویت مل رہی ہے۔ ان میں صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا 9 ستمبر کو اس علاقے کا دورہ بھی شامل ہے۔

جنوبی شام میں صہیونی حکام کی مسلسل موجودگی اور دمشق کے مضافات میں حملوں میں اضافے کے پس پردہ کیا ہے؟

جنوبی شام میں صہیونی حکام کی بار بار موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل شام میں اپنے قبضے کو مستحکم کرنا چاہتا ہے اور ایسی کسی مؤثر فوجی طاقت کے قیام کو روکنے کا خواہاں ہے جو مستقبل میں اس کے لیے خطرہ بن سکے۔

اسی تناظر میں اگست کے آغاز سے ستمبر کے وسط تک صیہونی حملوں کے انداز میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ صہیونی قابض فوج نے ابتدا میں صرف جنوبی شام کے علاقوں کو ہدف بنایا، تاہم بعد میں حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دمشق کے مغربی مضافات میں واقع بیت جن تک پہنچا دیا۔

18 اگست سے 12 ستمبر تک صرف بیت جن میں تقریباً 11 حملے ہوئے۔ ان میں سب سے نمایاں باط الورد کی پہاڑی پر 12 گھنٹے تک جاری رہنے والا حملہ تھا، جس کے بعد مسلسل بمباری کی گئی۔

اس کے بعد صہیونی قابض فوج نے اپنے حملے مزید تیز کردیے اور 2 ٹینکوں، 1 بلڈوزر اور 10 سے زائد فوجی گاڑیوں پر مشتمل دستے کے ساتھ بیت جن کے باغات میں داخل ہوگئی۔ اس کارروائی کے دوران جاسوس طیاروں نے دمشق کے مضافات میں واقع الدیماس تک پروازیں کیں۔

الاخبار سے بات کرتے ہوئے فوجی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ان حملوں اور ان کے نتیجے میں مقامی آبادی پر پڑنے والے نفسیاتی دباؤ کے ساتھ ساتھ شامی شہریوں کے مسلسل اغوا کے ذریعے ممکنہ خفیہ اسلحہ ڈپوؤں کے بارے میں معلومات جمع کرنے پر توجہ مرکوز کررہا ہے۔

صہیونی حکومت کی یہ کارروائیاں صیہونی فوجی انٹیلی جنس کے یونٹ 504 کی جانب سے جنوبی شام کے شہریوں کے موبائل فونز پر بھیجے جانے والے پیغامات سے بھی مطابقت رکھتی ہیں۔ ان پیغامات کا مقصد ایسے جاسوسوں کو بھرتی کرنا ہے جو دشمن کو مطلوبہ معلومات فراہم کرسکیں۔

اسی دوران صہیونی دشمن نے ستمبر کے دوران درعا، قنیطرہ اور دمشق کے مضافات میں اپنے حملوں میں شدت پیدا کردی ہے، بالخصوص قنیطرہ کے مضافات میں واقع الرفید شہر کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس شہر کو اس سے قبل بھی توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں زرعی اراضی میں آگ لگ گئی تھی۔

اس کے علاوہ صہیونی قابض فوج نے الرفید میں بڑے پیمانے پر دھاوا بولا، شہریوں کو ہراساں کیا اور گھروں کی تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ بھیڑوں تک کو نہیں بخشا اور انہیں بھی چوری کرلیا۔

مزید برآں، گزشتہ شام صہیونی فوج کی ایک بڑی کمک قنیطرہ کے شمالی مضافات میں واقع تل الاحمر پہنچی، جہاں پہلے ہی 3 ٹینک اور 10 سے زائد فوجی گاڑیاں تعینات تھیں۔

جولانی حکومت کی بے عملی کے دوران دمشق پر قبضے کا صیہونی منصوبہ

صہیونی قابض فوج کے بیت جن کے باغات میں داخل ہونے سے تقریباً 2 گھنٹے قبل عبرانی ویب سائٹ والا نے ایک رپورٹ شائع کی، جس میں صیہونی فوج کی جانب سے شام کی سرزمین میں مزید گہرائی تک داخل ہونے کی خواہش کا ذکر کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں صہیونی فوج کے ریزرو افسران کے حوالے سے کہا گیا کہ صیہونی فوج کو اپنی کارروائیوں کی حد اور سطح صرف جنوبی شام تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ دمشق کے مضافات میں واقع بیت جن کے علاقے میں بھی روزانہ فوجی سرگرمیاں انجام دینی چاہئیں۔

رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج کے ریزرو افسران نے شامی دیہات کے اندر اور ان کے درمیان واقع کھلے علاقوں میں جارحانہ اور زمینی کارروائیوں کو وسیع اور مزید گہرا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد اسرائیل کے خلاف ممکنہ خطرات اور دشمنانہ عزائم کو زیادہ سے زیادہ ختم اور غیر مؤثر کرنا ہے۔

تاہم اس رپورٹ کا سب سے سنگین پہلو شام کے دارالحکومت دمشق کا واضح طور پر ذکر تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بہت سے فوجی اور ریزرو افسران دمشق کی جانب پیش قدمی اور دراندازی کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ معاملہ 2 ہفتے قبل غزہ کی پٹی کے دورے کے دوران صیہونی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کے سامنے بھی واضح طور پر اٹھایا گیا تھا۔

دوسری جانب اسی رپورٹ میں دمشق کے ساتھ زمینی سطح پر مفاہمت کے چینلز کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ میدان میں بعض ایسی سمجھ بوجھ اور تبدیلیاں موجود ہیں جو اسرائیل کے براہ راست سکیورٹی مفادات کے مطابق ہیں اور ان پر کھلے عام بات نہیں کی جاسکتی۔

صہیونی فوج کے اس افسر نے کہا کہ جس طرح صیہونی فوج کو لبنان یا غزہ کے تمام علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور کچھ علاقوں میں ہم کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ کچھ میں نہیں کرتے، اسی طرح شام کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت پورے خطے کے لیے خطرہ ہے:ایران

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:ایران کے وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ

حزب اللہ کا وینزویلا پر امریکی فوجی حملے پر ردعمل 

?️ 3 جنوری 2026سچ خبریں: لبنانی مزاحمتی گروپ حزب اللہ نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے

وزیراعظم شہباز شریف سے آذربائیجان کے وفد کی ملاقات

?️ 15 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے آسان خدمت مرکز

آٹا اسکیم میں 20 ارب روپے کی کرپشن کا اندازہ درحقیقت کم ہے، شاہد خاقان عباسی

?️ 2 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے

حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، حریت کانفرنس

?️ 29 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی طور پرزیر قبضہ جموں و

اب نیتن یاہو کیا کریں گے؟

?️ 7 اکتوبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے آج ہفتہ کو

موساد کے اجتماعی استعفیٰ کی وجہ

?️ 14 نومبر 2021سچ خبریں:اگرچہ اسرائیلی میڈیا اس کے چیئرمین ڈیوڈ برنیا کی طرف سے

نیتن یاہو اپنے ہی تیار کردہ حریفوں سے خوفزدہ 

?️ 17 اگست 2026سچ خبریں: یہ وہ تشریح ہے جو ہارتص اخبار نے آج اتوار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے