نیتن یاہو کی ٹرمپ کے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیوں کے فیصلے کی تعریف

نیتن یاہو کی ٹرمپ کے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیوں کے فیصلے کی تعریف

?️

سچ خبریں:صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہونے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے ایگزیکٹو آرڈر کی تعریف کی ہے، جس کے تحت عالمی فوجداری عدالت (ICC) پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ٹرمپ کے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیوں کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک بہادرانہ فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا کہ میں صدر ٹرمپ کا عالمی فوجداری عدالت کے خلاف ان کے جرات مندانہ ایگزیکٹو آرڈر پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: جو بائیڈن نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیل کو اس بدعنوان اور صہیونیت مخالف عدالت سے تحفظ فراہم کرتا ہے، جو کہ ان کے خلاف کسی بھی قانونی کارروائی کا جواز نہیں رکھتی۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ عدالت غیر قانونی اور بے بنیاد سرگرمیوں میں ملوث ہے اور خاص طور پر امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی، اسرائیل، کو نشانہ بنا رہی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت کے پاس اسرائیل اور امریکہ کے خلاف کوئی قانونی اختیار نہیں اور اس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت کا اسرائیلی وزیر اعظم نتنیاہو اور سابق وزیر جنگ یوآو گالانت کے خلاف وارنٹ جاری کرنا بے بنیاد ہے۔

امریکی صدر نے اسرائیل کو ایک جمہوری ریاست قرار دیا، جس کی فوج مبینہ طور پر جنگی قوانین کی سختی سے پابند ہے! انہوں نے عالمی فوجداری عدالت کے اقدامات کو خطرناک اور خبیثانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عالمی فوجداری عدالت کا امریکہ اور اسرائیل پر کوئی اختیار نہیں، اور ہم اس کے کسی بھی اقدام کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک عدالت کے کسی بھی ایسے فیصلے کے خلاف ہے جو ان کے اتحادیوں پر لاگو ہو، خصوصاً وہ جو اس عدالت کے رکن نہ ہوں، ٹرمپ نے اس عدالت کے اہلکاروں کے امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی۔

ٹرمپ کے یہ دعوے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صہیونی قابض فوج نے گزشتہ 15 ماہ کے دوران غزہ میں 170000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید یا زخمی کیا ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت پر ممکنہ پابندیاں

بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی قرار دیا ہے، کیونکہ اس جنگ نے غزہ کو مکمل طور پر غیر آباد بنا دیا ہے،اس دوران امریکہ نے اسرائیل کو جدید اسلحہ، بم اور میزائل فراہم کیے، جنہیں فلسطینی شہریوں کے قتل عام میں استعمال کیا گیا۔

مشہور خبریں۔

کشمیر کی صورتِ حال پر عالمی خاموشی خطرناک ہے۔ مشعال ملک

?️ 4 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال

سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا، شیریں رحمٰن

?️ 4 اکتوبر 2022 اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا

کشمیریوں کو نماز جمعہ سے روکنا مسلمانوں کے تئیں مودی حکومت کے گہرے تعصب کی عکاسی کرتا ہے، حریت کانفرنس

?️ 6 اپریل 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

اسرائیلی فوج میں اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر کے دفتر کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کو بند کر دیا گیا

?️ 17 دسمبر 2025سچ خبریں: خبروں کے بائیکاٹ اور فوج اور سیکورٹی ڈھانچوں میں شفافیت

امریکہ کا بین الاقوامی اداروں کو تسلط کے لیے استعمال

?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں: بین الاقوامی امور کے ایک ماہر نے دی یونائیٹڈ سٹیٹس

امریکی مسلمانوں کے خلاف تشدد میں 70 فیصد اضافہ

?️ 31 جولائی 2024سچ خبریں: امریکن اسلامک ریلیشنز ایڈووکیسی کونسل کے مطابق غزہ کے خلاف اسرائیلی

یروشلم کے خلاف صیہونی حکومت کے اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں:مراکشی عہدہ دار

?️ 22 مئی 2022سچ خبریں:مراکشی عہدیدار نے کہا کہ صیہونی حکومت کے بیت المقدس میں

کولمبیا کا صدر نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ختم 

?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں: کولمبیا کے صدر گوستاوو پیترو نے اعلان کیا ہے کہ انہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے