?️
سچ خبریں:توانائی بحران کا عالمی ایئرلائنز پر اثر، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سے ٹکٹ مہنگے ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔
صنعتی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے باعث عالمی ایئرلائن کمپنیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور مسافروں کو مہنگے فضائی ٹکٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:معاریو: اسرائیل کو اگلی جنگ میں توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا
صنعتی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو مسافروں کو توقع رکھنی چاہیے کہ ایئرلائن کمپنیاں ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کریں گی، طیاروں کے ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کریں گی اور بعض مخصوص پروازوں پر اضافی ایندھن فیس بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
امریکی ویب سائٹ آکسیوس نے امریکا کی بڑی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی دویچے بینک کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جیٹ فیول کی قیمت، جو ایئرلائن کمپنیوں کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 30 فیصد بنتی ہے، ایران کی سرزمین پر امریکہ اور صہیونی حکومت کے حملے کے بعد نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
بین الاقوامی فضائی نقل و حمل ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے آغاز کے پہلے ہی ہفتے میں جیٹ فیول کی قیمت میں 58 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں فضائی ٹکٹوں کی پیشگی خریداری میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دویچے بینک کے ایک تجزیہ کار کے مطابق ایران پر حملے کے بعد پہلے ہفتے میں بین البراعظمی پروازوں کے لیے پیشگی خریدے جانے والے ٹکٹوں کی قیمتیں دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئیں۔
اس تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ اگرچہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کچھ حد تک بڑھتے ہوئے اخراجات کی تلافی کر سکتا ہے، تاہم طیاروں کے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس صنعت کی مالی طور پر کمزور کمپنیوں کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور ممکن ہے کہ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں طیارے عارضی طور پر زمین پر کھڑے کرنے پڑ جائیں۔
آکسیوس نے اس حوالے سے خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس مسئلے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ اور چین کی بعض بڑی ایئرلائن کمپنیوں کے پاس خطرات سے بچاؤ کے مالیاتی انتظامات موجود نہیں ہیں، جس کے باعث وہ ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے خطرے کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہیں۔
روئٹرز نے ہوا بازی کی صنعت کے ایک ماہر کے حوالے سے لکھا کہ بڑے عالمی بحرانوں کے بعد عام طور پر طیاروں کے ایندھن کی قیمتیں کئی مہینوں تک بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں۔
ایرنا کے مطابق امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مشترکہ فوجی جارحیت 9 اسفند 1404 (28 فروری 2026) کی صبح شروع ہوئی۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان بعض علاقائی ممالک کی ثالثی سے بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام نے ظاہر کیا کہ امریکہ عملی طور پر مذاکرات، اعتماد سازی اور اختلافات کے پرامن حل کے اصولوں کا پابند نہیں ہے اور اب بھی سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر فوجی اختیار استعمال کرتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ اور صہیونی حکومت کی مشترکہ فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد اس اقدام کا فیصلہ کن، ہدفی اور متناسب جواب دیا۔ اس جائز دفاعی ردعمل کے تحت مقبوضہ فلسطین کے مختلف شہروں میں صہیونی حکومت کے فوجی اور سکیورٹی مراکز کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی افواج کے اڈوں اور تنصیبات کو درست میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت کے انقلاب کو توانائی کے بحران، عمارتوں کی جلد تکمیل کا مسئلہ درپیش
ایران کے سرکاری حکام نے تاکید کی ہے کہ یہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 کے تحت دفاع کے جائز حق کے دائرے میں انجام دی گئی ہیں اور ان کا مقصد جارحیت کو روکنا، حملہ آوروں پر لاگت مسلط کرنا اور آئندہ حملوں کے خلاف بازدار قوت پیدا کرنا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رہا یا اس میں اضافہ ہوا تو اس کا جواب مزید شدید اور وسیع ہوگا۔


مشہور خبریں۔
خطے میں نئی جنگ کا آغاز انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ شیری رحمان
?️ 12 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا
جون
ٹرمپ: میں ایران کے ساتھ جنگ کا ہیرو ہوں، لیکن کوئی نہیں مانتا!
?️ 20 اگست 2025سچ خبریں: جہاں ہیگ کی عدالت بینجمن نیتن یاہو کو ’جنگی مجرم‘
اگست
اسرائیل غزہ کے دلدل میں پھنس چکا ہے:اسرئیلی جنرل کا اعتراف
?️ 23 جولائی 2025اسرائیل غزہ کے دلدل میں پھنس چکا ہے:اسرئیلی جنرل کا اعتراف اسرائیلی
جولائی
صیہونی ریاست سے فرار کا بڑھتا ہوا رجحان؛ تل ابیب بحران کا شکار
?️ 17 مارچ 2025 سچ خبریں:صیہونی میڈیا اور سماجی اداروں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے
مارچ
عمران خان نے پھر کی امریکہ کی مخالفت
?️ 5 جنوری 2024سچ خبریں:پاکستان جسٹس موومنٹ سیاسی جماعت کے سربراہ عمران خان نے مالی،
جنوری
ایران پاکستان تعلقات کو گہرا کرنے میں امیر عبداللہیان کا کردار نمایاں رہا
?️ 23 مئی 2024سچ خبریں: ایران میں پاکستان کے سفیر محمد مدثر ٹیپو نے مہر خبررساں
مئی
لاہور ہائی کورٹ پنجاب وزیر اعلی کے خلاف کاروائی کر سکتا
?️ 3 جولائی 2021لاہور (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان
جولائی
جولانی حکومت کا چیف آف اسٹاف مقرر
?️ 9 جنوری 2025سچ خبریں: ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ میجر جنرل نورالدین
جنوری