?️
اسرائیل غزہ کے دلدل میں پھنس چکا ہے:اسرئیلی جنرل کا اعتراف
اسرائیلی جنرل اسحاق بریک نے اسرائیلی حکومت اور فوج کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی جنگ میں مکمل طور پر دلدل میں پھنس چکا ہے جبکہ ایران مسلسل اپنی عسکری اور خاص طور پر میزائل صلاحیتوں میں پیش رفت کر رہا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل چینل 7 کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک تفصیلی مضمون میں جنرل اسحاق بریک واضح طور پر کہا کہ اسرائیلی فوج کے پاس نہ کوئی مستقبل کا منصوبہ ہے اور نہ ہی وہ آئندہ جنگوں کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا ہم ایک ایسے غیر مستحکم خطے میں رہ رہے ہیں جہاں حالات تیزی سے بدلتے ہیں، اور اگر اسرائیلی فوج نے موجودہ رویہ جاری رکھا تو وہ مستقبل کے خطرات کا مقابلہ نہیں کر پائے گی۔”
انہوں نے اعتراف کیا کہ فوج کے اعلیٰ افسران، بٹالین اور کمپنی کمانڈرز خود میدان میں خراب صورتِ حال کی شکایت کرتے ہیں، اور ان کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا ہے۔
جنرل بریک نے اسرائیل کے سامنے موجود اہم خطرات کا ذکر کچھ یوں کیا اور کہا کہ حزب اللہ نہ صرف مکمل طور پر شکست سے بچی ہوئی ہے بلکہ اس کے پاس اب بھی زیرِ زمین سرنگوں کا جال اور کافی مقدار میں اسلحہ موجود ہے، جو اسرائیل کے شمالی محاذ کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صرف ڈیڑھ ہفتے میں حزب اللہ نے تل ابیب پر روزانہ 100 سے زائد میزائل داغے تھے۔
اس کا کہنا تھا کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں اب شام ایک مسلح، ایران اور ترکی سے قریب حکومت کے ہاتھ میں ہے، جو اسرائیل کے لیے پہلے سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
اس نےاردن کی سرحد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 300 کیلومیٹر طویل سرحد پر سرگرم فلسطینی مزاحمتی گروہ کسی بھی وقت کارروائی کر سکتے ہیں۔
جنرل نے مصر کو اسرائٰل کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصر خاموشی سے جنگ کی تیاری کر رہا ہے، اور اسرائیل کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے درکار فوجی قوت موجود نہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) یہ علاقہ ایک بارود کے ڈھیر کی مانند ہے اسرائیلی فوج کے پاس اتنی زمینی طاقت نہیں کہ تمام علاقوں پر مکمل کنٹرول رکھ سکے۔
جنرل اسحاق بریک نے ایران کی میزائل طاقت کو اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ ایران مسلسل جدید میزائل بنا رہا ہے، اور اسرائیلی فوج کے پاس ان کا کوئی مؤثر جواب موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی جنگ کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ آئندہ جنگ کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج کمزور ہو چکی ہے، اس کی زمینی فورسز فرسودہ ہو چکی ہیں اور ان میں وہ طاقت باقی نہیں رہی کہ وہ حماس جیسے گروہوں کو بھی شکست دے سکیں۔
یاد رہے کہ جنرل نے اسرائیلی فوجی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا موجودہ فوجی قیادت صرف حال پر نظر رکھے ہوئے ہے، ان کے پاس مستقبل کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ بندی نہیں۔


مشہور خبریں۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک کی پہلی جارحانہ سرنگ کی نقاب کشائی
?️ 14 مارچ 2022سچ خبریں:ایک صہیونی اخبار نے فلسطینی مزاحمتی تحریک کی پہلی جارحانہ سرنگ
مارچ
اس ذہنیت کو ختم کرنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر تحریک نہیں چلا سکتے، مولانا فضل الرحمٰن
?️ 17 مئی 2024پشاور: (سچ خبریں) جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے
مئی
مغربی پابندیوں کے سیلاب نے روسی معیشت کو مفلوج کیوں نہیں کیا؟
?️ 9 مارچ 2023سچ خبریں:اگرچہ روس مخالف پابندیوں نے ماسکو کی معیشت کو 2.1% کم
مارچ
ماداگاسکر کا صدر احتجاجی تشدد کے بعد ملک سے فرار
?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: ماداگاسکر کے اپوزیشن لیڈر، ایک فوجی ذریعے اور ایک غیر
اکتوبر
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو گرفتار کر لیا گیا
?️ 17 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر
ستمبر
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے بیان پر اسرائیل کا رد عمل
?️ 9 جون 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی
جون
شام کے شہر ادلب پر امریکی حملے میں 13 شہری ہلاک
?️ 3 فروری 2022سچ خبریں: امریکی وزیر دفاع کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کو
فروری
قطر افغانستان کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنا چاہتا ہے: طالبان وزیر دفاع
?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں: طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ قطر
جولائی