?️
سچ خبریں:فلسطینی تجزیہ کار کے مطابق حماس مذاکرات میں جنگ بندی، مکمل انخلاء، امداد کی ترسیل، تعمیر نو کے آغاز اور قیدیوں کے تبادلے پر قائم ہے۔ اسرائیل کے ‘ارابۂ گدعون’ اور ‘شمشیرِ آہن’ آپریشنز بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
شھاب خبر رساں ادارہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی تجزیہ کار ‘ہانی الدالی’ نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے جنگ بندی مذاکرات میں پانچ بنیادی اصولوں مکمل جنگ بندی، مکمل انخلاء، امدادی سامان کی فراہمی، تعمیر نو کا آغاز اور قیدیوں کا تبادلہ پر سختی سے اصرار کیا ہے۔
الدالی کے مطابق، حماس نے جنگ بندی کی ہر کوشش کو قومی، دینی اور انسانی ذمہ داری سمجھتے ہوئے مثبت جواب دیا اور حالیہ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کیا۔
انہوں نے کہا کہ حماس نے پہلے بھی اسرائیلی-امریکی قیدی ‘عیدان الکساندر’ کی رہائی کے ذریعے جنگ بندی کے قیام میں اپنی حسن نیت دکھائی تھی، حماس کا ردعمل صرف سیاسی نہیں تھا، بلکہ غزہ کی انسانی اور معاشی صورت حال کے پیش نظر بھی تھا۔
تجزیہ کار کے مطابق حماس امدادی سامان کی فوری اور منظم فراہمی، اسپتالوں اور بیکریوں کی مکمل بحالی، اور اقوام متحدہ و ہلال احمر جیسے عالمی اداروں کے ذریعے شفاف تقسیم پر زور دے رہی ہے۔ موجودہ نظام کو وہ افراتفری اور بھوک کا سبب سمجھتی ہے۔
الدالی نے کہا کہ حماس جزوی حملوں کے بجائے مکمل جنگ بندی اور مکمل انخلاء چاہتی ہے اور امریکی ضمانتوں کے بغیر کسی بھی وقتی حل کو قبول نہیں کرے گی۔ فلسطینی مزاحمت کی ثابت قدمی نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں فلسطینی مزاحمت نے شدید حملے کیے، جس میں مختصر مدت میں پندرہ اسرائیلی فوجی اور افسر مارے گئے اور غاصب علاقوں کے اندر گہری کارروائیاں ہوئیں۔
ان کے مطابق اسرائیل کے آپریشنز "ارابۂ گدعون” اور "شمشیرِ آہن” اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے اور اسرائیلی فوج مزاحمتی شرائط مسلط کرنے میں ناکام رہی۔ شمالی غزہ میں آبادکاروں کی جبری نقل مکانی کی سازش بھی مزاحمتی استقامت کی وجہ سے ناکام ہوئی۔ اسرائیل کا جبهہ داخلی کمزور کرنے کا منصوبہ بھی مختلف گروپوں جیسے "یاسر ابو شباب” وغیرہ کی ناکامی کے باعث ناکام رہا۔
الدالی نے کہا کہ حماس اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے، لیکن وہ قومی ریڈ لائنز عبور کیے بغیر نرمی بھی دکھا رہی ہے۔ کوئی بھی تجویز جو مزاحمت کے خاتمے کی کوشش کرے، اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کار نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی آتش بس کو سیاسی مفاد کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، کیونکہ روس، یوکرین اور چین جیسے دیگر محاذوں میں ناکامی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے جاری رہنے سے اسرائیلی وزیر اعظم نتانیاہو کی داخلی حمایت کمزور ہوئی ہے اور فوج میں بھی تھکاوٹ و پست حوصلگی پیدا ہو گئی ہے، جبکہ اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کے احتجاج بھی جاری ہیں۔
رائے عامہ کے سروے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی آبادکار بڑی تعداد میں جنگ بندی کے حق میں ہیں، اس وقت نتانیاہو اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے کسی سیاسی حل کے متلاشی ہیں، اور ٹرمپ انہیں یہ راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات اور حماس کے جواب سے صاف ظاہر ہے کہ جنگ بندی اب پہلے سے زیادہ قریب ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پاک بحریہ کا ایک اور شاندار کارنامہ
?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: پاک بحریہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے
جولائی
غزہ میں سردی سے بچوں کی اموات کھلا جرم ہے: حماس
?️ 18 دسمبر 2025 غزہ میں سردی سے بچوں کی اموات کھلا جرم ہے: حماس
دسمبر
مغرب میں کوئی نہیں جس سے ہم مذاکرات کر سکیں:روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین
?️ 28 دسمبر 2022سچ خبریں:روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین میدویدیف کا کہنا ہے کہ
دسمبر
صیہونی رہنماؤں اور نیتن یاہو کے درمیان کیا چل رہا ہے؟
?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی قیدیوں اور
اکتوبر
کورونا کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا: عالمی ادارہ صحت
?️ 16 جنوری 2022سچ خبریں:روس میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ خاتون نے کہا کہ
جنوری
مزاحمتی کمان مناسب آپشنز پر غور کرے گی: قماتی
?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: حزب اللہ لبنان کی سیاسی کونسل کے نائب صدر محمود قماطی
نومبر
میزائل پروگرام پر امریکی تنقید و پابندیاں، واشنگٹن سے پاکستانی سفیر کو اسلام آباد بلالیا گیا
?️ 29 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے میزائل پروگرام پر امریکی تنقید و
دسمبر
غزہ جنگ بندی پر امریکہ کا ردعمل
?️ 22 نومبر 2023سچ خبریں:اس سینئر امریکی اہلکار نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا
نومبر