?️
سچ خبریں:عراق میں نئے صدر کے انتخاب کا آئینی عمل اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،نئے صدر کے انتخاب کے لیے ملک کے عدالتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ آئینی شیڈول کے مطابق باضابطہ الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
عراقی پارلیمانی انتخابات دو مراحل میں منعقد ہوئے۔ پہلا مرحلہ اتوار 9 نومبر 2025 کو ہوا جس میں خصوصی ووٹنگ (سیکیورٹی فورسز اور بے گھر افراد) شامل تھی، جبکہ دوسرا مرحلہ منگل 11 نومبر کو عمومی ووٹنگ کی صورت میں منعقد ہوا۔ ان انتخابات میں مقتدیٰ صدر کی جانب سے بائیکاٹ کے باوجود، ووٹر ٹرن آؤٹ 56 فیصد سے زائد رہا۔
عراق کی اکثریتی آبادی کی نمائندہ سیاسی جماعتوں اور اتحادوں، یعنی شیعہ قوتوں نے مجموعی طور پر نئی پارلیمنٹ میں تقریباً 200 نشستیں حاصل کیں۔ حال ہی میں شیعہ جماعتوں کے فریم ورک کوآرڈینیشن (چارچوبِ ہم آہنگی) نے باضابطہ طور پر خود کو سب سے بڑا پارلیمانی بلاک قرار دیا اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے دو کمیٹیوں کے قیام کا اعلان کیا۔
آئینی طور پر سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کو وزیرِاعظم کا امیدوار نامزد کرنے اور پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
عراق کی اعلیٰ عدالتی کونسل کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق، وفاقی عدالت کی جانب سے 14 دسمبر کو انتخابات کے حتمی نتائج کی توثیق کے بعد زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر، آئین کے آرٹیکل 54 کے تحت نئی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس منعقد ہونا لازم تھا تاکہ اسپیکر اور دو نائبین کا انتخاب کیا جا سکے۔
اسی تناظر میں موجودہ صدر عبداللطیف رشید نے ایک ہدایت نامے میں 29 دسمبر کو نئی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کی تاریخ مقرر کی تھی۔ یہ اجلاس پیر 29 دسمبر 2025 کو منعقد ہوا، جس میں منتخب نمائندوں نے ہیبت الحلبوسی (حزبِ تقدم، زیرِ قیادت محمد الحلبوسی) کو اکثریتی ووٹوں سے نیا اسپیکر منتخب کیا۔ الحلبوسی نے 208 ووٹ حاصل کر کے صدام کے بعد بننے والی چھٹی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا منصب سنبھالا۔
اسی اجلاس میں عدنان فیحان (فراکسیون الصادقون، وابستہ تحریک عصائب اہل الحق، زیرِ قیادت شیخ قیس الخزعلی) اور فرہاد اتروشی (ڈیموکریٹک پارٹی) کو بالترتیب پہلے اور دوسرے نائب اسپیکر کے طور پر منتخب کیا گیا۔
اعلیٰ عدالتی کونسل کے مطابق، پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس اور اسپیکر و نائبین کے انتخاب کے بعد زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر، یعنی جمعرات 29 جنوری تک، آئین کے آرٹیکل 72 کے تحت نئے صدرِ جمہوریہ کا انتخاب لازم ہے۔
نئے صدر کے انتخاب کے بعد، آئین کے آرٹیکل 76 کے مطابق، 15 دن کے اندر سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کے نامزد کردہ امیدوار کو وزیرِاعظم مقرر کیا جائے گا۔ وزیرِاعظم کو اپنی حکومت تشکیل دینے اور کابینہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 30 دن دیے جائیں گے۔
عراق میں صدر کے انتخاب کا طریقۂ کار
صدام کے بعد عراق میں ایک غیر تحریری سیاسی اصول رائج ہے، جس کے تحت وزارتِ عظمیٰ شیعہ اکثریت، صدارت کرد اقلیت اور پارلیمنٹ کی صدارت عرب سنی اقلیت کے حصے میں آتی ہے۔ بعث حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے انتخابات میں جلال طالبانی کے صدر منتخب ہونے سے لے کر آج تک یہی روایت برقرار رہی ہے۔ اس عرصے میں تمام صدور کرد، وزرائے اعظم شیعہ اور اسپیکرز اہلِ سنت میں سے رہے ہیں۔
نئے اسپیکر اور ان کے نائبین کے انتخاب کے بعد، صدراتی امیدواروں کی نامزدگی کا عمل بھی شروع ہو گیا۔ اسپیکر ہیبت الحلبوسی نے اپنے انتخاب کے ایک روز بعد اعلان کیا کہ آئینی شیڈول کے مطابق صدر کے انتخاب کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور 31 دسمبر 2025 سے تین روز کے لیے صدراتی امیدواروں کی نامزدگی کا عمل کھول دیا گیا ہے۔
پیر 5 جنوری 2026 صدراتی امیدواروں کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ تھی۔ اسپیکر کے مطابق، کم از کم 45 افراد نے ایوانِ صدر (قصرِ السلام) تک رسائی کے لیے نامزدگی جمع کرائی۔ نمایاں امیدواروں میں شامل ہیں:
فؤاد حسین (76 سال)، ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اور عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ
نوزاد ہادی (63 سال)، ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار
نزار آمیدی (57 سال)، اتحادیہ میهنی کے سرکاری امیدوار
عبداللطیف رشید (81 سال)، موجودہ صدر، اتحادیہ میهنی کے رکن، آزاد امیدوار
ملا بختیار (71 سال)، اتحادیہ میهنی کے سابق رہنما
جوان فؤاد معصوم (56 سال)، سابق صدر فؤاد معصوم کی صاحبزادی
عراقی آئین کے مطابق، پارلیمنٹ کو پہلے اجلاس کے 30 دن کے اندر دو تہائی اکثریت سے نئے صدر کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد صدر، 15 دن کے اندر سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کے امیدوار کو وزیرِاعظم نامزد کرتا ہے، جبکہ وزیرِاعظم کو 30 دن کے اندر کابینہ تشکیل دے کر پارلیمنٹ میں پیش کرنا لازم ہوتا ہے۔
عراق میں صدر کا انتخاب تاریخی طور پر کردستان کی دو بڑی جماعتوں، کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (زیرِ قیادت مسعود بارزانی، مرکز اربیل) اور اتحادیہ میهنی کردستان (زیرِ قیادت بافل طالبانی، مرکز سلیمانیہ) کے درمیان رقابت کے سائے میں ہوتا ہے۔
اس بار صدر کے انتخاب کو اس وجہ سے سنجیدہ چیلنجز درپیش ہیں کہ مسعود بارزانی نے کھل کر اس روایتی طریقۂ کار کی مخالفت کی ہے، جس کے تحت صدراتی امیدوار ہمیشہ اتحادیہ میهنی کی جانب سے نامزد کیا جاتا رہا ہے۔ بارزانی کا مؤقف ہے کہ صدر کے انتخاب کا طریقہ بدلنا چاہیے اور کردستان ریجنل پارلیمنٹ کی جانب سے متفقہ امیدوار سامنے آنا چاہیے، جس پر تمام کرد جماعتوں کا اتفاق ہو۔
آئینی مدت کے مطابق، نئے صدر کا انتخاب بدھ 28 جنوری کو ہونا چاہیے۔ تاہم، اس تاریخ تک تقریباً 10 دن باقی رہ جانے کے باوجود، کردستان کی دو بڑی جماعتیں کسی مشترکہ امیدوار پر متفق نہیں ہو سکیں۔ نتیجتاً دونوں جماعتیں پارلیمنٹ کے اجلاس میں الگ الگ امیدواروں کے ساتھ شرکت کریں گی۔
اتحادیہ میهنی کردستان نے باضابطہ طور پر نزار آمیدی کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے، جبکہ موجودہ صدر عبداللطیف رشید نے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ فؤاد حسین، ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
چین کی خارجہ پالیسی میں جیو اکنامک کا تجزیہ
?️ 29 دسمبر 2024سچ خبریں: دنیا کے تمام حصوں میں جغرافیائی سیاسی مسائل کی طرف عالمی
دسمبر
قابض صیہونی ریاست میں آسمان چھوتی مہنگائی؛ وجہ؟
?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:صہیونی ریاست کے مرکزی ادارہ شماریات نے مقبوضہ علاقوں میں
فروری
نئے سال کے موقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان
?️ 30 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نئے سال کے موقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی
دسمبر
نور جہاں سے متعلق بیان پر علی عظمت نے وضاحت جاری کر دی
?️ 23 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں) گلوکار علی عظمت نے ملکہ ترنم نور جہاں کے
اکتوبر
فواد چوہدری سے جیل میں اہل خانہ کی ملاقات کیلئے جمعرات کا دن مختص
?️ 7 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد
مارچ
کترینہ کیف نے پنجابی سیکھنا شروع کر دی
?️ 3 دسمبر 2021ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ اسٹار کترینہ کیف رواں ماہ اداکار وکی کوشل
دسمبر
2024؛ اقوام متحدہ کے لیے شرمناک سال
?️ 1 جنوری 2025سچ خبریں:اقوام متحدہ 2024 میں متعدد قراردادوں کے باوجود، غزہ اور لبنان
جنوری
اسرائیل کے میزائل ڈیفنس سسٹمز ہائی الرٹ،معاملہ کیا ہے؟
?️ 11 مارچ 2025 سچ خبریں:صیہونی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے اپنے
مارچ