?️
سچ خبریں:ایک نئے سروے کے مطابق، 48 فیصد برطانوی شہری جنگ کی صورت میں اپنے ملک کے دفاع کے لیے لڑنے پر آمادہ نہیں، جبکہ دفاعی اخراجات میں اضافے کی حمایت ٹیکس بڑھنے یا عوامی خدمات کا بجٹ کم ہونے کی صورت میں گھٹ جاتی ہے۔
المیادین کے مطابق، ایک نئے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کے 48 فیصد شہری جنگ کی صورت میں اپنے ملک کے دفاع کے لیے لڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر فوجی اخراجات میں اضافے کے لیے ٹیکس بڑھانا پڑے یا عوامی خدمات کے بجٹ میں کٹوتی کرنا پڑے تو دفاعی اخراجات میں اضافے کی حمایت بھی کم ہو جاتی ہے۔
بدھ کے روز برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک نئے سروے کے مطابق، برطانیہ کے تقریباً نصف شہریوں نے کہا کہ کوئی بھی صورتِ حال انہیں اپنے ملک کے لیے جنگ لڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی۔
سروے کے نتائج کے مطابق، صرف 36 فیصد شرکاء نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے لیے ہتھیار اٹھا کر جنگ میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے برعکس، 48 فیصد نے اس اقدام کی مخالفت کی، جبکہ باقی افراد نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 51 فیصد برطانوی شہریوں کا خیال ہے کہ حکومت کو دفاع اور مسلح افواج پر اخراجات بڑھانے چاہییں، خواہ اس کے لیے مزید قرض لینا پڑے، ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑے یا عوامی خدمات پر ہونے والے اخراجات کم کرنا پڑیں۔ اس کے برعکس، صرف 12 فیصد افراد دفاعی اخراجات میں کمی کے حامی ہیں۔ اسی طرح، 50 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ لندن کو یورپی یونین کے ساتھ مزید قریبی دفاعی تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔
تاہم، 44 فیصد شرکاء نے دفاعی اخراجات میں اضافے کی مخالفت کی، اگر اس کے نتیجے میں ذاتی ٹیکسوں میں اضافہ یا عوامی خدمات کے بجٹ میں کمی کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ، 37 فیصد افراد نے فوجی اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومتی قرضوں میں اضافے کی مخالفت کی۔
برطانیہ میں ادارۂ ایپسوس کے شعبۂ تحقیق کی سربراہ کیرولین پاسکل نے کہا کہ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اب بھی ملک کی مسلح افواج کی ضروریات کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم، جب فوجی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی خاطر مشکل اور براہِ راست فیصلے کرنا پڑتے ہیں تو عوامی رائے واضح طور پر منقسم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر فوجی سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور غیر فوجی بنیادی ڈھانچے کی ترقی سمیت وسیع تر معاشی فوائد حاصل ہوں تو اسے خاصی حمایت ملتی ہے۔
لیکن جب ان اخراجات کی ادائیگی کے لیے براہِ راست ذاتی ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑے یا عوام کی توجہ اور ضرورت سے متعلق عوامی خدمات متاثر ہوں تو مخالفت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی فوج کی نئی غلطی؛ سوئے ہوئے اہلکاروں سے اسلحہ کی چوری
?️ 19 ستمبر 2022سچ خبریں: آزاد صیہونی حکومت کے میڈیا نے نیگیف میں اس
ستمبر
جنین میں صیہونی حکومت کے خلاف مکمل ہڑتال
?️ 23 جون 2023سچ خبریں:آج جمعرات کو جنین میں قومی اور اسلامی گروہوں نے صیہونی
جون
کراچی: ایرانی صدر اور وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات، دو طرفہ اقتصادی صورتحال پر تبادلہ خیال
?️ 24 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی گزشتہ روز کراچی کے
اپریل
یوٹیوب پر اشتہارات کو بلاک کرکے ویڈیوز دیکھنا ناممکن
?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں: مفت میں ویڈیوز تک رسائی دینے والی دنیا کی سب
نومبر
فلسطینی بچوں کا گوٹیرس کو پیغام
?️ 8 اگست 2023سچ خبریں:فلسطینی بچوں کے دفاعی گروپ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل
اگست
یمنی میزائلوں نے اسرائیل کا دوسرا ایئرپورٹ کیسے بند کیا؟
?️ 1 اکتوبر 2025سچ خبریں: رامون بین الاقوامی ہوائی اڈا، مقبوضہ فلسطین میں دوسرا سب
اکتوبر
امارات نے اپنے شہریوں کے ایران، عراق اور لبنان کے سفر پر پابندی عائد کی
?️ 1 مئی 2026 سچ خبریں:وزارت خارجہ متحدہ عرب امارات نے جمعرات کو جاری کردہ
مئی
25 مخصوص نشستوں پرگورنر کا لیا گیا حلف غیرآئینی تھا، اسپیکرخیبرپختونخوا
?️ 24 اگست 2025پشاور: (سچ خبریں) اسپیکر کے پی کے اسمبلی بابر سلیم سواتی نے
اگست