?️
سچ خبریں:یمن میں سعودی عرب کی 11 سالہ جنگ کے سیاسی، فوجی اور معاشی نتائج پر العہد کا تجزیہ۔ بھاری اخراجات اور مسلسل تعطل کے تناظر میں تجزیہ جنگ کے خاتمے اور یمن کی خودمختاری کے احترام پر زور دیتا ہے۔
العہد نیوز ویب سائٹ کے مطابق، یمن میں سعودی عرب کی شکست کو جنگ کے اخراجات اور فوائد کے موازنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ 11 سال کے جنگی اہداف اور نتائج کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تجزیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے نتائج ریاض کے لیے ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں اور اب اس کے سامنے صرف ایک راستہ باقی رہ گیا ہے۔
یمن میں سعودی عرب کی جانب سے جنگ شروع کیے ہوئے 11 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس جنگ کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی اتحاد بھی متحرک کیے گئے تھے، اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ کارروائی چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔ تاہم، اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان کوششوں سے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔
اس جنگ کے نتائج بڑی حد تک سعودی عرب کی توقعات کے برعکس رہے ہیں۔ سیاسی اور فوجی تعطل مزید گہرا ہو گیا ہے، جبکہ فوجی اخراجات پر بھاری مالی وسائل صرف کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ جنگ کے تباہ کن انسانی، سیاسی اور سکیورٹی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ خصوصاً یمن کے وسیع علاقوں پر سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے بحری اور فضائی ناکہ بندی کے تسلسل نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنایا ہے۔
اس کے نتیجے میں عوام کو معاشی اور روزمرہ زندگی سے متعلق شدید مشکلات کا سامنا ہے، صحت کا شعبہ متاثر ہوا ہے اور قومی کرنسی کی قدر بھی بری طرح گر چکی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے بعض ذرائع ابلاغ، جو ہمیشہ یمن کے حوالے سے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں، اب اس جنگ کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
وہ اس شکست کی ذمہ داری عدن میں قائم اپنی حمایت یافتہ حکومت کی کمزور کارکردگی پر ڈال رہے ہیں۔ تاہم، اس تجزیے کے مطابق، یہ ذرائع ابلاغ جنگ کے انتظام و انصرام میں سعودی عرب کے براہِ راست کردار اور اس کی ناکامیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
اگر اس جنگ میں سعودی عرب کی جانب سے خرچ کیے گئے بھاری وسائل کا موازنہ اس کے تباہ کن سیاسی اور فوجی نتائج سے کیا جائے تو ریاض کو درپیش تعطل کی گہرائی واضح ہو جاتی ہے۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کسی بحران کے خاتمے کے لیے حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی کے بغیر اس میں مسلسل الجھے رہنا بالآخر ایک ایسا بوجھ بن جاتا ہے جس کے انسانی، معاشی، سیاسی اور سکیورٹی اخراجات روز بروز بڑھتے جاتے ہیں، جبکہ مناسب شرائط پر اس سے نکلنے کے امکانات بتدریج کم ہوتے جاتے ہیں۔
سعودی عرب کے مالی حسابات میں شفافیت اور تفصیلات کی کمی کے باعث یمن کی جنگ پر ہونے والے اخراجات کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم مضمون کے مطابق یہ اخراجات یقیناً بہت زیادہ ہیں۔
امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ 2019 کے اختتام تک اس جنگ کے اخراجات تقریباً 725 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ اسی طرح برطانوی اخبار دی ٹائمز نے جنگ پر روزانہ تقریباً 200 ملین ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ پیش کیا تھا۔
اس مضمون میں یمن کی سابق حکومت کی جانب سے 2004 سے 2010 کے درمیان انصاراللہ کے خلاف لڑی گئی 6 جنگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق، ان جنگوں نے انصاراللہ کی قوت کو کم کرنے کے بجائے اس کے جنگجوؤں کو مزید مضبوط اور تجربہ کار بنا دیا۔
بعد ازاں، یہی قوتیں 2011 میں علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شمالی یمن کے متعدد صوبوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں کامیاب ہوئیں۔ بالآخر، ستمبر 2014 میں انصاراللہ نے صنعا میں داخل ہو کر شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
اس طرح، جس تحریک کو فوجی طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، وہ وقت گزرنے کے ساتھ یمن کے سیاسی اور فوجی منظرنامے کا ایک اہم فریق بن گئی، جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
تجزیہ کے مطابق، یہ تحریک ایک علاقائی طاقت کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس نے طوفان الاقصیٰ کے بعد غزہ کی حمایت میں کردار ادا کیا اور 2025 میں بحیرۂ احمر میں امریکی بحری بیڑے کے ساتھ قابلِ ذکر انداز میں محاذ آرائی کی۔
اس صورت حال سے حاصل ہونے والا شاید سب سے اہم سبق یہ ہے کہ یمن میں سعودی عرب کا اثر و رسوخ فوجی مداخلت کے ذریعے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ جنگ کا تسلسل بالآخر خود مداخلت کرنے والی ریاست کے مفادات کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
اسی لیے تجزیہ میں سعودی عرب کی یمن سے متعلق پالیسیوں پر جامع نظرِ ثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، تاکہ یمن کی خودمختاری کا احترام اور اس بحران کے حل کے لیے سیاسی راستہ تلاش کرنا ترجیحات میں شامل ہو سکے۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ کی صہیونی اسٹریٹجک امور کے وزیر سے ملاقات
?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں:امریکی اور صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق، گزشتہ اتوار کو ڈونلڈ
نومبر
اسرائیل سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا‘ وزیراعظم پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، یوسف رضا گیلانی
?️ 2 اکتوبر 2025پشاور: (سچ خبریں) قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے
اکتوبر
طاقتور شمسی طوفان زمین سے ٹکرا گیا، روشنی کے حیرت انگیز نظارے
?️ 13 مئی 2024سچ خبریں: دو دہائیوں میں اب تک کا سب سے طاقت ور
مئی
سندھ حکومت نے کراچی کے مسائل بڑی حد تک حل کر دیے، مراد علی شاہ کا دعویٰ
?️ 5 جنوری 2025 کراچی: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دعویٰ
جنوری
برطانیہ کا ایران کے ممکنہ حملے کے خدشے کے باعث میزائل ذخیرہ بڑھانے کا فیصلہ
?️ 2 جون 2026سچ خبریں:برطانوی اخبار ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ برطانیہ کی فوج
جون
مغربی کنارے میں صیہونی درندوں کے ہاتھوں ایک اور فلسطینی نوجوان شہید
?️ 13 دسمبر 2021سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے پر حملہ کیا جس کے
دسمبر
ایرانی میزائل نے بئر السبع کے حساس علاقے کو نشانہ بنایا؛صہیونی میڈیا کا اعتراف
?️ 20 جون 2025 سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے
جون
آئی جی پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن پر تشدد کی تردید، ہلاکت کی وجہ حادثہ قرار
?️ 11 مارچ 2023لاہور: (سچ خبریں) آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے پاکستان تحریک
مارچ