?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکی پابندیوں، چین اور روس کے کردار، 2018 کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اور بدلتے عالمی طاقت کے توازن کا تجزیہ۔
ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیوں کا بنیادی مسئلہ صرف ایک اقتصادی معاملہ نہیں بلکہ یہ عالمی نظام کے مستقبل کے حوالے سے جاری ایک بڑی مسابقت کا بھی حصہ ہے۔
اقتصادی پابندیاں کئی دہائیوں سے امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ترین ہتھیار رہی ہیں۔ واشنگٹن نے اپنی اقتصادی طاقت، ڈالر کی عالمی حیثیت اور دنیا کے مالیاتی نظام میں اپنے وسیع اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے حریفوں حتیٰ کہ اپنے اتحادیوں کے رویوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔
لیکن آج سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ پابندیاں عائد کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اب بھی واشنگٹن کے پابندیوں کے اہداف کو نافذ کرنے کے لیے اس کا ساتھ دینے پر آمادہ ہے؟
ماضی میں امریکی پابندیوں کی طاقت بڑی حد تک عالمی معیشت میں امریکہ کی خصوصی حیثیت سے حاصل ہوتی تھی۔ بہت سے ممالک عالمی مالیاتی منڈیوں، بینکوں اور مغرب کے زیرِ اثر بین الاقوامی تجارتی نظام تک اپنی رسائی برقرار رکھنے کے لیے امریکی پابندیوں کی پابندی کرنے پر مجبور تھے۔
لیکن گزشتہ برسوں میں عالمی طاقت کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ نئی اقتصادی طاقتوں کا ابھرنا، چین کا بڑھتا ہوا کردار، مغربی دائرے سے باہر ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا پھیلاؤ اور یکطرفہ امریکی پالیسیوں کو قبول کرنے میں بعض ممالک کی کم ہوتی ہوئی دلچسپی نے حالات کو ماضی سے مختلف بنا دیا ہے۔
ایران کو محدود کرنے کے لیے پابندیوں کا استعمال
ایسے حالات میں امریکہ ایک بار پھر ایران کو محدود کرنے کے لیے اقتصادی دباؤ کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس مرتبہ اسے ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ماحول کا سامنا ہے۔
روزنامہ ٹیلی گراف نے امبروز ایوانز پریچارد کے قلم سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ تہران کے خلاف ماضی کی طرح عالمی اقتصادی محاصرہ قائم کرنا اب آسان نہیں رہا۔
اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس مقصد میں کامیابی کے لیے چین، روس، بھارت، یورپ اور دنیا کے بڑے مالیاتی مراکز کے تعاون کی ضرورت ہوگی، جبکہ ان میں سے بہت سے ممالک اب خود کو واشنگٹن کی پالیسیوں کے ساتھ مکمل طور پر چلنے کا پابند نہیں سمجھتے۔
ٹیلی گراف دراصل طاقت کے توازن میں ایک بنیادی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے: امریکہ اب بھی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس دباؤ کو عالمی اتفاقِ رائے میں تبدیل کرنے کی اس کی صلاحیت کم ہو چکی ہے۔
پابندی اس وقت سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب ہدف بننے والا ملک تقریباً مکمل اقتصادی محاصرے میں آ جائے؛ یعنی تجارت، رقم کی منتقلی، ٹیکنالوجی تک رسائی اور مالیاتی روابط کے راستے محدود ہو جائیں۔ لیکن موجودہ حالات میں چین اور روس جیسے ممالک کی موجودگی نے ایسے مکمل محاصرے کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔
2018 کی پالیسی کا اعادہ
روزنامہ فنانشل ٹائمز نے بھی ایک تجزیے میں ٹرمپ حکومت کی ایران کے خلاف نئی اقتصادی دباؤ کی پالیسی کو 2018ء کی پالیسی کا اعادہ قرار دیا ہے۔
اس وقت امریکہ نے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اختیار کی تھی، جس کا مقصد تہران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا تھا۔
سینکڑوں پابندیاں عائد کیے جانے کے باوجود یہ پالیسی اپنے بنیادی مقصد یعنی ایران کے رویے میں تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اس حکمتِ عملی کی بنیادی کمزوریوں میں سے ایک چین، روس اور ترکی جیسے ممالک کے تعاون پر اس کا انحصار ہے؛ ایسے ممالک جو لازماً اپنے مفادات کو امریکی پالیسیوں کے مطابق نہیں ڈھالتے۔
گزشتہ برسوں کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اقتصادی پابندیاں اپنے آپ میں پابندی عائد کرنے والے ملک کے مطلوبہ سیاسی نتائج کی ضمانت نہیں دے سکتیں۔
پابندیاں اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہیں، اقتصادی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں اور ترقی کے عمل کو سست کر سکتی ہیں، لیکن انہیں کسی ملک کا سیاسی راستہ تبدیل کرنے کے لیے مؤثر ہتھیار میں تبدیل کرنے کے لیے صرف اقتصادی دباؤ سے کہیں زیادہ عوامل درکار ہوتے ہیں۔
آج اور ماضی کے درمیان ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ بہت سے ممالک نے امریکی پابندیوں کی پالیسی کو دیکھنے کا اپنا انداز تبدیل کر لیا ہے۔
مختلف ممالک کے خلاف واشنگٹن کی جانب سے ثانوی پابندیوں کے وسیع استعمال نے بعض حکومتوں کو اس نتیجے تک پہنچایا ہے کہ یہ صرف ایک اقتصادی اقدام نہیں بلکہ عالمی بالادستی برقرار رکھنے کی امریکی جغرافیائی سیاسی مسابقت کا حصہ بھی ہے۔ اسی وجہ سے ایسی پالیسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا رجحان کم ہوا ہے۔
چین کا اہم کردار
اس صورتحال میں چین کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔
بیجنگ امریکہ کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف سمجھا جاتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے وسیع اقتصادی تعلقات ہیں۔
چین کے لیے تہران کے خلاف امریکی پابندیوں کو مکمل طور پر قبول کرنا صرف اقتصادی فیصلہ نہیں بلکہ اس کا مطلب ان قواعد کو تسلیم کرنا بھی ہو سکتا ہے جنہیں واشنگٹن عالمی مسابقت میں نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی لیے چین متعدد معاملات میں اپنے اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے اور امریکی دباؤ کو سنبھالنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب، گزشتہ برسوں میں امریکی پالیسیوں نے بعض ممالک کو واشنگٹن کے زیرِ اثر مالیاتی ڈھانچوں پر انحصار کم کرنے کی طرف بھی مائل کیا ہے۔
تجارت میں قومی کرنسیوں کا بڑھتا ہوا استعمال، متبادل مالیاتی نظام تشکیل دینے کی کوششیں اور مغربی روایتی ڈھانچوں سے باہر اقتصادی تعاون میں اضافہ ایسے رجحانات ہیں جو امریکی اقتصادی ذرائع کی اجارہ دارانہ طاقت کو کم کر رہے ہیں۔
تاہم دوسری جانب کی حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ پابندیاں اب بھی ایک اہم ہتھیار ہیں اور ان کے اقتصادی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ٹیکنالوجی تک رسائی میں رکاوٹ، مالیاتی منتقلی کے مسائل اور بیرونی تجارت کے اخراجات میں اضافہ پابندیوں کے حقیقی نتائج ہیں۔
لیکن بنیادی فرق یہ ہے کہ آج پابندیاں زیادہ تر دباؤ کا ہتھیار ہیں، سیاسی فتح کی ضمانت دینے والا ہتھیار نہیں۔
درحقیقت، امریکہ کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پابندی عائد کرنے کی صلاحیت اور سیاسی نتیجہ مسلط کرنے کی صلاحیت کے درمیان فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔
واشنگٹن کمپنیوں اور ممالک کو سزا کی دھمکی دے سکتا ہے، لیکن اب وہ ماضی کی طرح اس بات کا یقین نہیں کر سکتا کہ دنیا کے تمام اہم اقتصادی کھلاڑی اس پالیسی پر عمل کریں گے۔
ایران کے معاملے میں بھی گزشتہ برسوں کے تجربے نے ظاہر کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نے اگرچہ اخراجات ضرور پیدا کیے، لیکن وہ اپنے بنیادی مقصد یعنی تہران کے اسٹریٹجک حساب کتاب کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
ایران نے غیر مغربی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھا کر، نئے تجارتی راستے قائم کرکے اور علاقائی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر ان دباؤ کے اثرات کو منظم کرنے کی کوشش کی ہے۔
خلاصہ
آخرکار امریکہ کی ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا بنیادی مسئلہ صرف ایک اقتصادی معاملہ نہیں بلکہ یہ عالمی نظام کے مستقبل پر جاری ایک بڑی مسابقت کا حصہ ہے۔
امریکہ اب بھی ایک بڑی اقتصادی طاقت ہے اور اس کے پاس دباؤ کے اہم ذرائع موجود ہیں، لیکن آج کی دنیا ماضی کی طرح یک قطبی نہیں رہی۔
اسی لیے ایران کا مکمل اقتصادی محاصرہ ایک بنیادی رکاوٹ سے دوچار ہے: واشنگٹن دباؤ تو ڈال سکتا ہے، لیکن اس دباؤ کو حتمی نتیجے میں تبدیل کرنے کے لیے اسے عالمی تعاون درکار ہے؛ اور موجودہ حالات میں ایسا تعاون حاصل کرنا ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔
شاید سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ پابندیوں کو ایک بے حد و حساب ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا دور اپنے اختتام کے قریب ہے۔
نئی دنیا میں اقتصادی طاقت اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اسے سیاسی جواز، بین الاقوامی تعاون اور دیگر عالمی کھلاڑیوں کی قبولیت حاصل ہو۔ اور امریکہ آج پہلے سے کہیں زیادہ اس نئی حقیقت کی حدود کا سامنا کر رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا صوبے میں اہم رلیف کا اعلان
?️ 20 جولائی 2024سچ خبریں: خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پشاور میں جدید
جولائی
حماس کا وفد غزہ جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قاہرہ پہنچا
?️ 13 فروری 2026 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک (حماس) کا ایک اعلیٰ سطحی وفد غزہ
فروری
روپے کی قدر میں بہتری، انٹر بینک میں ڈالر 2 روپے 17 پیسے سستا
?️ 31 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلسل 3 سیشنز میں ڈالر کے مقابلے میں روپے
اکتوبر
عرفان خان کی اہلیہ نے ایوارڈ شو میں شرکت کیوں نہیں کی؟
?️ 29 مارچ 2021ممبئی (سچ خبریں)بھارتی ورسٹائل اداکار عرفان خان کی اہلیہ ستاپا سکدر نے
مارچ
فلسطینی مرکز: دامون جیل میں قید 90 فلسطینی خواتین انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کر رہی ہیں
?️ 17 جون 2026سچ خبریں: فلسطینی قیدیوں کے دفاع کے مرکز نے اسرائیلی جیلوں میں
جون
عمران خان ’طاقتوروں‘ سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کو تیار
?️ 25 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور
مئی
مریم نواز نوجوان نسل کی پسندیدہ لیڈر بن گئی ہیں۔ عظمی بخاری
?️ 24 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ
مئی
نیتن یاہو کا نیا مالیاتی اسکینڈل
?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:عبرانی ذرائع نے بنیامین نیتن یاہو کے خاندان کے نئے مالیاتی
فروری