ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کے 4 غلط مفروضے: وال‌اسٹریٹ جرنل

ایران کے خلاف جنگ

?️

سچ خبریں:وال‌اسٹریٹ جرنل نے ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے واشنگٹن کے 4 غلط مفروضوں کا جائزہ لیا اور بتایا کہ ایران کی مزاحمت، داخلی استحکام اور مذاکراتی حکمت عملی نے امریکی اندازوں کو غلط ثابت کردیا۔

امریکی اخبار وال‌اسٹریٹ جرنل نے ایک تجزیہ میں واشنگٹن کے ان 4 غلط مفروضوں کا جائزہ لیا ہے جن کے تحت یہ تصور کیا گیا کہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے سے وہاں کی حکومت کا تختہ الٹا جاسکتا ہے۔

وال‌اسٹریٹ جرنل نے ایران کی جنگ کے حوالے سے واشنگٹن کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران کے نظام اور دباؤ برداشت کرنے کی اس کی صلاحیت کے بارے میں 4 غلط مفروضوں کا شکار ہوگیا۔

تجزیہ  میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو جنگ کے مستقل خاتمے، خطے سے امریکہ کے مکمل انخلا، بحری محاصرے کے خاتمے، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایران کو جنگی ہرجانہ ادا کرنے سے مشروط کردیا ہے۔ یہ شرائط ایران کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں جو اسے ناقابل تسلیم و تسلیم کرنے سے انکار کرنے والی پوزیشن میں ظاہر کرتی ہے۔

وال‌اسٹریٹ جرنل کے مطابق تہران کی حکومت اقتدار میں برقرار رہنے کو مذاکرات میں اپنی قوت کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور ایران کی حکمران اشرافیہ غیر متوازن سمجھوتے کو کمزوری کی علامت سمجھتی ہے، جو نظام کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اس امریکی میڈیا ادارے نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے حوالے سے امریکہ کی 4 غلط فہمیوں کو درج ذیل انداز میں بیان کیا ہے:

پہلا مفروضہ: امریکی سمجھتے تھے کہ جنگ کے مقابلے میں ایران کی حکمت عملی صرف فائدے اور نقصان کے موازنے پر مبنی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ ایران ایک انقلابی ملک ہے جس کی سیاسی شناخت نظریے اور مزاحمتی محاذ کے تصور پر قائم ہے۔ اس لیے ایران کی جانب سے رعایت دینا نظام کے بنیادی اصولوں سے دستبرداری کے طور پر ظاہر ہوسکتا ہے اور تہران اسے قبول نہیں کرے گا۔

دوسرا مفروضہ: اس تجزیہ  کے مطابق واشنگٹن کا خیال تھا کہ ایران میں تکلیف برداشت کرنے کی ایک مخصوص حد موجود ہے اور اس حد تک پہنچنے کے بعد تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایران کی مزاحمت کے حوالے سے درپیش مشکلات کے باعث واشنگٹن ایران پر دباؤ کو اس مقام تک جاری نہیں رکھ سکا جہاں ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاسکتا۔

تیسرا مفروضہ: واشنگٹن نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ایران کو جنگ میں شدید نقصانات اٹھانے پڑے ہیں، یہ تصور کیا کہ یہ سلسلہ ایران کی مذاکراتی پوزیشن کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب دوسری جنگ عظیم سے خلیج کی جنگ تک امریکی فوجی نظریے کے تاریخی تجربات فیصلہ کن زمینی فتوحات پر مبنی رہے ہیں، نہ کہ صرف فضائی حملوں پر۔

چوتھا مفروضہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد داخلی بدامنی کا پیدا ہونا ایرانی حکومت کی مذاکراتی صلاحیت کو کمزور کردے گا۔ تاہم ایران اپنی داخلی استحکام اور اقتدارِ اعلیٰ کو ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

مشہور خبریں۔

افغانستان کی صورتحال پر کابل میں خواتین کا احتجاج

?️ 28 دسمبر 2021سچ خبریں:افغان خواتین کا ایک گروپ اس ملک کی صورت حال پر

امریکہ اور انگلینڈ غزہ کی قرارداد منظور نہ کرنے کے قصوروار ہیں: روس

?️ 19 نومبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے

بلوچستان: کاہان میں ’کلیئرنس آپریشن‘ کے دوران بارودی سرنگ کا دھماکا، کیپٹن سمیت 5 جوان شہید

?️ 26 دسمبر 2022بلوچستان:(سچ خبریں) بلوچستان کے علاقےکاہان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری ’کلیئرنس

مسجد الاقصی کے خلاف صہیونی منصوبہ؛ عرب دنیا کی خاموشی اور تل ابیب کی گستاخی

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں:صہیونی ریاست کی جانب سے مسجد الاقصی کے خلاف خطرناک منصوبوں

مجھے نیٹو کی رکنیت میں کوئی دلچسپی نہیں:یوکرائنی صدر

?️ 9 مارچ 2022سچ خبریں:یوکرین کے صدر نے ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل کو دینےجانے

وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

?️ 16 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان اور  ترک صدر طیب اردوان

صورتحال تشویشناک، کورونا سے سب سے زیادہ اموات ریکارڈ

?️ 14 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ملک بھر میں کورونا کی صورتحال خطرناک اور

ٹرمپ کے "محکمہ جنگ” کے پس پردہ؛ برانڈنگ سے لے کر خارجہ پالیسی میں خطرناک موڑ تک

?️ 9 ستمبر 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے