ایران کے خلاف جنگ امریکی طاقت نہیں بلکہ زوال کی علامت: نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر

ایران

?️

نیویارک یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسر نے ایران کے خلاف جنگی منصوبے کی ناکامی پر تجزیہ پیش کیا ہے۔

امریکی پروفیسر آمیل الکلای کے مطابق ایران کے خلاف جنگ امریکہ اور اسرائیل کی طاقت نہیں بلکہ امریکی عالمی غلبے کے زوال کا آغاز ہو سکتی ہے۔

نیویارک کے کوئینز کالج کے ممتاز پروفیسر آمیل الکلای نے میڈل ایسٹ آئی میں شائع اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ایران پر حالیہ حملہ طاقت کی علامت نہیں بلکہ زوال پذیر امریکی سلطنت کے ممکنہ انہدام کا آغاز ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہائیوں تک کمزور ممالک پر جنگیں مسلط کرنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل اب ایک ایسے حریف سے ٹکرا گئے ہیں جسے شکست دینا آسان نہیں۔ ایران کے خلاف مشترکہ حملہ نہ صرف ناکامی کی علامت ہے بلکہ یہ ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی بھی ہو سکتی ہے۔

مضمون میں کہا گیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کا سرکاری بیانیہ مذہبی اور جذباتی اصطلاحات سے بھرا ہوا ہے، جبکہ امریکی وزیر دفاع کی جانب سے سخت بیانات اور ایرانی عوام کے خلاف غیر انسانی رویہ ایک گہری اخلاقی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس کے برعکس ایران کی داخلی فضا کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے، جہاں کشیدگی کے باوجود عوام اور حکام کے درمیان رابطہ برقرار ہے اور ایک منظم اور پُرسکون معاشرتی تصویر سامنے آتی ہے، جو مزاحمت اور استحکام کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

تحلیل میں کہا گیا کہ اس جنگ کے دوران شہری اہداف کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور اس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر محاذوں پر بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے، جن میں لبنان، غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال شامل ہے جہاں مسلسل تشدد اور انسانی بحران جاری ہے۔

پروفیسر الکلای نے تاریخی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان اور خطے میں دیگر گروہوں نے محدود وسائل کے باوجود بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا، جبکہ ایران ایک کہیں زیادہ منظم، مضبوط اور باصلاحیت ریاست ہے جسے اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران کی آبادی، دفاعی صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ اسے ایک منفرد مقام فراہم کرتے ہیں، اور اس کے خلاف محض فوجی طاقت کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔

مضمون کے اختتام پر کہا گیا کہ ایران کی مزاحمت نہ صرف اس کے اپنے عوام بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے، جبکہ امریکہ کو اپنی داخلی کمزوریوں اور مسلسل جنگی پالیسیوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

بی بی سی کی ٹونی بلیئر سے متعلق انکشاف

?️ 12 اکتوبر 2025بی بی سی کی ٹونی بلیئر سے متعلق انکشاف برطانوی نشریاتی ادارے

شامی سرزمین پر اسرائیلی توپ خانے کا حملہ

?️ 1 اکتوبر 2026سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کی فوج نے توپ خانے سے فائرنگ کرتے

علی امین گنڈا پورکی کابینہ میں کون شامل ہوگا،نام سامنے آگئ

?️ 2 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور کی کابینہ میں

مسلم امریکی رکن کانگریس: ٹرمپ پاگل ہے

?️ 19 مارچ 2026سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان کے مسلمان رکن الہان ​​عمر نے امریکی

ایک طرف امن کی باتیں اور دوسری طرف شدید بمباری

?️ 25 مارچ 2021سچ خبریں:یمنی مزاحمتی قوتوں کی مأرب محاذ پر بڑے پیمانے پر پیش

اسرائیل  قاہرہ کے ساتھ گیس معاہدے کے بدلے رفح بارڈر کو ٖفلسطینیوں کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے

?️ 21 دسمبر 2025اسرائیل  قاہرہ کے ساتھ گیس معاہدے کے بدلے رفح بارڈر کو ٖفلسطینیوں

مغربی کنارے کے مجاہدین کے پاس اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟

?️ 8 ستمبر 2024سچ خبریں: فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے مغربی کنارے میں جاری

چینی میزائل میں مریکی پاور سسٹم کو غیر فعال کر  نے کی صلاحیت 

?️ 13 اکتوبر 2021سچ خبریں: ایک تجزیاتی ویب سائٹ نے حال ہی میں ایک چینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے