?️
سچ خبریں:ہرزلیا سکیورٹی کانفرنس 2026 اس سال صہیونی حکومت کو درپیش بڑھتے ہوئے سلامتی کے بحرانوں اور اس کے مستقبل پر منڈلاتے ممکنہ انہدام کے خطرات کو مرکزی موضوع بنا کر منعقد کی گئی۔
ہرزلیا سکیورٹی کانفرنس 2026 میں صہیونی حکومت کو درپیش سلامتی کے بحران، ایران، لبنان، امریکہ، عسکری حکمت عملی، داخلی اختلافات اور ممکنہ انہدام کے خطرات پر اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات نے تفصیلی غور کیا۔
ہرزلیا سکیورٹی کانفرنس صہیونی حکومت کی اہم ترین سالانہ سلامتی کانفرنسوں میں شمار ہوتی ہے، اس سال یہ کانفرنس دو روز تک جاری رہی، جس میں صہیونی حکومت کو درپیش بحرانوں اور ممکنہ انہدام سے نمٹنے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔
کانفرنس میں صہیونی حکومت کی اعلیٰ سیاسی، سلامتی اور علمی شخصیات نے شرکت کی اور مختلف بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مجوزہ حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کانفرنس کے ایجنڈے اور زیر بحث موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ پہلے روز صہیونی حکومت کو درپیش بحرانوں کے فکری اور نظریاتی پہلوؤں کا خاکہ پیش کیا گیا، جبکہ دوسرے روز ایران، لبنان، امریکہ، خارجہ تعلقات، فوجی بھرتی اور عسکری بجٹ جیسے عملی معاملات پر گفتگو جاری رہی۔
رائشمن یونیورسٹی کے ادارہ برائے پالیسی و حکمت عملی کے سربراہ اور ریزرو میجر جنرل عاموس گلعاد نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ تزویراتی بصیرت کی کمی فوجی کامیابیوں کو سیاسی نتائج میں تبدیل ہونے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر داخلی سماجی استحکام کا بحران اسی طرح برقرار رہا تو ایرانیوں کو اسرائیل کے انہدام کے لیے صرف انتظار کرنا ہوگا۔
بنیادی ستون کمزور ہو چکے ہیں
دوسری جانب صہیونی حکومت کے صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ صہیونی حکومت اپنی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جو صرف حکومت کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس کے مستقبل اور بقا سے متعلق ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا معاشرہ، جہاں ہر فریق خود کو تعاقب کا شکار اقلیت سمجھتا ہو، زیادہ عرصے تک نظام کے قواعد برقرار نہیں رکھ سکتا۔
یہ مؤقف صہیونی حکومت کے سرکاری نگران متانیاہو انگلمن کے بیانات سے مزید واضح ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا دفتر جنگ سے متعلق 50 رپورٹیں جاری کر چکا ہے اور 7 اکتوبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کسی بھی تحقیقاتی ادارے کا قیام ناگزیر ضرورت ہے۔
ایران کا معاملہ اور اس کی حدود
رائشمن یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر بوآز گانور نے ایران کے خلاف فوجی فتح کے حکومتی دعووں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کارروائی میں صہیونی حکومت اور امریکہ اگرچہ عسکری حکمت عملی کے محدود پہلوؤں میں کامیاب رہے ہوں، لیکن تزویراتی سطح پر ناکام ہوئے، کیونکہ ایران کا نظام برقرار رہا، اس کا جوہری پروگرام ختم نہیں ہوا، افزودہ یورینیم تباہ نہیں کیا جا سکا اور اس کا میزائل نظام بھی تیزی سے دوبارہ بحال ہو گیا۔
سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی گانور کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ صرف فوجی کارروائی کافی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کو ایک ہزار دن گزر چکے ہیں، جبکہ جنوب میں حماس دوبارہ مسلح ہو رہی ہے، حزب اللہ مزید طاقتور ہو رہی ہے اور تہران کی حکومت بدستور مضبوط ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ صہیونی حکومت کے سلامتی نظریے میں بازدارندگی، پیشگی خبردار کرنے، فیصلہ کن اقدام اور دفاع کے ساتھ ایک پانچواں عنصر ابتکار بھی شامل کیا جائے۔
بینیٹ نے نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران 3، 20 اور 60 فیصد افزودگی کی حدیں عبور کر چکا ہے، جبکہ 2018 سے 2021 کے درمیان صہیونی حکومت نہ تو ایران کو جوہری ہتھیاروں کی دہلیز تک پہنچنے سے روکنے کی مناسب صلاحیت پیدا کر سکی اور نہ ہی کوئی متبادل منصوبہ تیار کر سکی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ تل ابیب کے پاس ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں، جبکہ سلامتی کے ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ صرف فوجی طاقت منصوبہ بندی کی کمی کو پورا نہیں کر سکتی۔
سیاست کے بغیر طاقت
صہیونی فوج کے سابق سربراہ گادی آیزنکوت نے ہرزلیا سلامتی کانفرنس کے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب فوجی کامیابیوں کو سیاسی سرمایہ میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے اور حکومتی تزویراتی سطح شدید نقصان سے دوچار ہو چکی ہے۔
سابق وزیر جنگ آویگدور لیبرمن، جو نیتن یاہو حکومت کے دائیں بازو کے مخالفین میں شامل ہیں، نے کہا کہ صہیونی حکومت کی تزویراتی صورتحال اس سے زیادہ خراب نہیں ہو سکتی۔
اپوزیشن رہنما یائیر لاپید نے خارجہ تعلقات کو سلامتی کے بنیادی عناصر میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت کے بیرونی تعلقات پہلے کبھی اتنے خراب نہیں رہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو تباہ کن قرار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ غیر پیشہ ورانہ طرز عمل، غرور اور زمینی حقائق کی غلط تشخیص ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں وزارت خارجہ کے 13 اعلیٰ ذمہ دار تبدیل کیے، اندرونی تشہیری ادارے کو ڈھائی سال تک سربراہ کے بغیر چھوڑے رکھا اور اہم عہدوں پر اپنے قریبی افراد کو تعینات کیا۔
یہ خدشات امریکہ سے متعلق مباحث میں مزید نمایاں ہوئے۔ دوسرے روز ایک مقرر نے کہا کہ 35 سے 50 برس عمر کے نوجوان ریپبلکن ووٹروں میں صہیونی حکومت کی حمایت کم ہو کر تقریباً 50 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ فلسطینیوں کی حمایت عوامی جائزوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ رجحان عسکری امداد کے معاملے میں امریکی کانگریس پر بھی دباؤ ڈالنا شروع کر چکا ہے۔
سلامتی کی قیمت
ریزرو میجر جنرل اور صہیونی وزارت جنگ کے ڈائریکٹر جنرل امیر برعام نے بحث کا رخ فوجی طاقت کی بحالی پر آنے والے اخراجات کی جانب موڑ دیا۔
انہوں نے موجودہ مرحلے کو عملیاتی وقفہ قرار دیا، نہ کہ جنگ کا اختتام۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے نتیجے میں ایران کو سیکڑوں ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں، جس سے اس کی فوجی طاقت کی بحالی کا عمل مزید تیز ہو جائے گا۔
برعام نے 350 ارب شیکل، یعنی تقریباً 94.6 ارب ڈالر مالیت کے فوجی تقویت منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا، جس میں روک تھام کے نظام، حملہ آور اسلحہ، انٹیلی جنس وسائل اور زمینی و فضائی جنگ میں استعمال ہونے والے نظاموں کی دوبارہ بحالی شامل ہے۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ کے اختتام میں لکھا کہ ہرزلیا کانفرنس نے واضح کر دیا کہ صہیونی حکومت نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ اپنے داخلی حالات کے مقابلے میں بھی پہلے سے کم منظم دکھائی دیتی ہے اور حکومت کی تزویراتی منصوبہ بندی کی صلاحیت بھی کمزور ہو چکی ہے۔
کانفرنس میں شریک بیشتر سیاست دان اس بات پر متفق تھے کہ جب فوجی طاقت قانون، داخلی استحکام اور بین الاقوامی جواز سے الگ ہو جائے تو وہ اپنی بڑی حد تک اہمیت کھو دیتی ہے۔
اس طرح مجموعی طور پر کانفرنس کا بنیادی سوال یہ نہیں تھا کہ صہیونی حکومت آئندہ جنگوں میں کیسے کامیاب ہوگی؟ بلکہ اصل سوال یہ تھا کہ طویل المدتی سلامتی کی ناکامی کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟


مشہور خبریں۔
یورپ میں کورونا کی نئی لہر
?️ 25 جون 2022سچ خبریں:موسم گرما کے آغاز اور آنے والی تعطیلات کے ساتھ ہی
جون
بائیڈن نومبر کے انتخابات سے پریشان!
?️ 8 اگست 2024سچ خبریں: جو بائیڈن نے امریکی انتخابات میں اپنے ریپبلکن حریف کی
اگست
ٹرمپ نے لبنان میں فوجی کارروائی کے لیے ہری جھنڈی دکھا دی ہے: نیتن یاہو
?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کابینہ کے وزراء کو
جنوری
امریکہ اور افغانستان؛ فوجی انخلا یا افراتفری پیدا کرنا
?️ 14 اگست 2021سچ خبریں:اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں
اگست
تحریک عدم اعتماد عالمی طاقتوں کو ایبسولوٹلی ناٹ کہنے کا نتیجہ ہے:شہباز گل
?️ 24 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)جمعرات کو سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے
مارچ
برطانیہ میں جمہوریت ایک افسانہ: امریکی میگزین
?️ 28 جولائی 2022سچ خبریں:ایک امریکی میگزین نے برطانوی عوام کی سیاست اور زندگی پر
جولائی
یمنیوں کا فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی
?️ 28 مارچ 2022سچ خبریں:یمنی عوام نے سعودی اتحاد کی جارحیت کے خلاف احتجاج اور
مارچ
آئی ایم ایف کا نواں اور دسواں جائزہ ایک ساتھ ہوسکتا ہے، اسحٰق ڈار
?️ 14 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ بین
دسمبر