صیہونی ریاست کی تباہی کب سے شروع ہوئی؟ صہیونی تجزیہ کار کی زبانی

صیہونی ریاست کی تباہی

?️

سچ خبریں:صیہونی فوج سے وابستہ ایک محقق نے نیتن یاہو حکومت کو اسرائیل کے لیے تاریخی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پالیسیوں نے اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا اور اس کی ساکھ کو شدید متاثر کردیا ہے۔

اسرائیل میں اکتوبر کے آخر میں ہونے والے انتخابات سے قبل گزشتہ چند برسوں کے دوران پیش آنے والے واقعات، بالخصوص موجودہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے قیام کے بعد کی صورتحال، ایک بار پھر صہیونی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ان میں اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ اور اس کے وسیع اثرات نمایاں ہیں۔

صہیونی حلقوں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت نے اسرائیل کے بین الاقوامی مقام، داخلی سلامتی، معیشت اور عالمی رائے عامہ میں اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اسی تناظر میں ٹائمز آف اسرائیل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک تجزیہ میں کابینہ میں بدعنوانی،  معاشرے میں نسل پرستی اور تشدد کے ماہر محقق اور ریزرو فوجی افسران کی انجمن کے شریک بانی ایتای لینڈزبرگ-نیوو نے کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت نے اسرائیل کو تاریخی نقصان پہنچایا ہے۔

نیتن یاہو کے وزیر اعظم بننے کے ساتھ اسرائیل کا زوال شروع ہوا

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت نے اسرائیل کو اخلاقی زوال کی جانب دھکیل دیا اور اسے ایک ایسے پرتشدد اور غیر جمہوری ادارے میں تبدیل کردیا جس سے پوری دنیا نفرت کرتی ہے۔

ان کے مطابق اصل نقصان اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کئی دہائیوں کے دوران کی جانے والی کوششیں ضائع ہوگئیں۔ حکمران اتحاد کی جماعتیں حملوں میں توسیع، فلسطینی علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے مقصد سے بنائی گئی پالیسیوں کی حمایت کے ذریعے اسی پرتشدد راستے کو جاری رکھنے کی کوشش کررہی ہیں۔

اس صہیونی محقق نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کا زوال 2022 میں نیتن یاہو کی دوبارہ وزارت عظمیٰ پر واپسی کے ساتھ شروع ہوا۔ نیتن یاہو رشوت، فراڈ اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات میں عدالت میں مقدمے کا سامنا کررہے تھے، اسی دوران وہ اسرائیل کے دائیں بازو کے دھڑوں کے ساتھ تیزی سے قریب ہوتے گئے اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے قبل موجود انتباہات کو نظر انداز کیا۔

تجزیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان کی ان وارننگز پر بھی توجہ نہیں دی جو 7 اکتوبر کے حماس حملے سے قبل دی گئی تھیں۔ اس حملے کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے خلاف مکمل جنگ شروع ہوگئی۔

ایران اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے ذمہ دار نیتن یاہو، اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کردیا

صہیونی تجزیہ کار نے نیتن یاہو حکومت کی جانب سے جنگ کے انتظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل واضح سیاسی اہداف متعین کیے بغیر اور جنگ کے بعد کی صورتحال کے لیے کسی منصوبے کے بغیر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں الجھ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر  حملوں نے ناقابل تصور جانی و مالی تباہی چھوڑی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت میں کمی آئی اور فلسطینیوں کی مشکلات پر عالمی توجہ مزید مرکوز ہوگئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو ایران اور حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بھی ذمہ دار ہیں اور وہ غزہ کی طرح ان محاذوں پر ممکنہ تصادم کے بعد کی صورتحال کے لیے بھی کوئی واضح منصوبہ تیار نہیں کرسکے۔

تجزیہ کار کے مطابق نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کا ہر قیمت پر اقتدار میں رہنے پر اصرار اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات کو مزید گہرا کررہا ہے۔

تجزیہ میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں پر حملوں، گھروں کو نذر آتش کرنے، پانی اور بجلی منقطع کرنے، مویشی چوری کرنے اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے مناظر نے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور اس کے مؤقف پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

دنیا اسرائیل کو دہشت گرد کے طور پر دیکھنے لگی ہے

صہیونی تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال کے اثرات کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتے ہیں اور اسرائیل کی تاریخ اور عالمی سطح پر اس کی تصویر پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا اسرائیل کا موازنہ نسل پرستانہ اپارتھائیڈ نظام اور آمریتوں سے کررہی ہے اور اسرائیل کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان انتہائی گہرا اور وسیع ہے۔ ان کے مطابق یورپ اور امریکہ کے نوجوانوں میں بھی اسرائیل کے حوالے سے غیر معمولی حد تک منفی سوچ پیدا ہوگئی ہے، جو کئی نسلوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔

ایتای لینڈزبرگ-نیوو نے کہا کہ داخلی اختلافات اور موجودہ پالیسیوں کے ذمہ دار حکام کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے اور اقتدار سے دستبردار ہونے کے بجائے اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوشش اسرائیل کی عالمی حیثیت کو پہنچنے والے نقصان کو ناقابل واپسی بنا سکتی ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال کے سرمایہ کاری، بین الاقوامی تعلقات اور عالمی تقریبات و اداروں میں اسرائیل کی شرکت پر بھی بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر نیتن یاہو اور ان کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت اسی راستے پر چلتی رہی تو اسرائیل ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہوسکتا ہے جسے دنیا دہشت گرد سمجھنے لگے گی، جبکہ اسرائیل کے خلاف عالمی برادری کی کارروائی صرف وقت کا معاملہ رہ جائے گی۔

 

 

مشہور خبریں۔

امریکہ اور چین کی جنگ دنیا کو تباہ کر دے گی:کسنجر

?️ 21 اگست 2022سچ خبریں:سابق امریکی وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں ایک بار پھر

یمن کا لبنان کی حمایت کا اعلان، صیہونی جارحیت کی صورت میں متحدہ ردعمل کی وارننگ

?️ 2 جون 2026سچ خبریں:ذرائع کے مطابق صنعاء کا کہنا ہے کہ وہ لبنان اور

آج سوگ کا دن، 27 ویں ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ جائے گی: بیرسٹر گوہر

?️ 11 نومبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے کہ

خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں بھارتی حمایت یافتہ 31 خوارج ہلاک

?️ 15 ستمبر 2025پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس

ریاض۔ اسلام آباد فوجی معاہدے پر پاکستانی وزیر دفاع کا موقف

?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں:  پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے زور دے کر

The Sacred Balinese "Fire Horse” Dance: Sanghyang Jaran Dance

?️ 23 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such

نیتن یاہو احتجاج کرنے والے صیہونیوں کو کیسے سڑکوں پر لائے؟

?️ 2 اپریل 2023سچ خبریں:نومبر 2022 کے انتخابات میں نیتن یاہو کے حامی دھڑے کی

وفاقی وزیر شہباز گل کا ن لیگ پر طنزیہ وار

?️ 26 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے