?️
سچ خبریں:امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی آمیز بیانات صرف سفارتی حکمت عملی نہیں بلکہ جنگی قوانین، انسانی حقوق اور امریکہ کی عالمی ساکھ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حالیہ دھمکیاں Donald Trump کی جانب سے صرف مذاکراتی حربہ نہیں ہیں، بلکہ یہ جنگی قوانین اور امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔
نشریہ The Atlantic کے مطابق، ٹرمپ کے یہ بیانات سامنے آئے کہ انہوں نے کہا تھا آج رات ایک مکمل تہذیب ختم ہو جائے گی اور دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی اور اس سے قبل وہ ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کی دھمکی بھی دے چکے تھے۔ ان بیانات کے بارہ گھنٹے بعد انہوں نے ایک عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔ اس کے بعد ابتدائی امن مذاکرات ناکام ہو گئے اور ٹرمپ نے ردعمل میں آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ تاہم، جلد ہی ایک نئے مذاکراتی دور کے آغاز کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود، گزشتہ ہفتے ان کے اس بیان پر کہ ایران میں ہر کوئی مر جائے گا کیا موقف اختیار کیا جائے؟ چونکہ یہ بیانات ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے دیے گئے تھے اور متوقع تباہی حقیقت میں پیش نہیں آئی، اس لیے بعض مبصرین نے انہیں محض ایک ناکام سفارتی حربہ یا سیاسی دباؤ کی حکمت عملی قرار دے کر نظرانداز کر دیا۔
تاہم، عسکری تجزیہ کار، انسانی حقوق کے ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ ان بیانات کو نظرانداز کرنا ایک غلطی ہے۔ ان کے مطابق یہ بیانات طویل المدتی نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ ریچل وین لینڈنگھم، جو 2006 سے 2010 تک امریکی سینٹرل کمانڈ میں بین الاقوامی قانون کی سربراہ رہ چکی ہیں، کہتی ہیں: دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جس پر سنجیدہ اور مسلسل توجہ دی جانی چاہیے۔
ٹرمپ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر کی گئی وہ پوسٹ جس میں انہوں نے ایک مکمل تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی، ماہرین کے مطابق United Nations کے منشور کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے، کیونکہ یہ منشور کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ اسی طرح امریکی فوج کا جنگی قوانین کا دستی بھی، جو فوج کے لیے لازمی ہے، شہری آبادی کے خلاف تشدد کی دھمکی اور خوف و ہراس پھیلانے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری قانون کی پروفیسر لیلا سادات اس بارے میں کہتی ہیں: یہ بیانات عملاً اس بات کا اعلان ہیں کہ میں جنگی جرائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور یہ حتیٰ کہ انسانیت کے خلاف جرائم یا بدترین صورت میں نسل کشی تک جا سکتے ہیں۔
یہ بیانات جنگ کے دوران امریکی صدور کے روایتی انداز سے بھی مختلف ہیں، جہاں عام طور پر موت و زندگی کے معاملات پر محتاط اور سنجیدہ زبان استعمال کی جاتی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ پہلے ایسے صدر نہیں ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران وسیع پیمانے پر تشدد کی دھمکی دی ہو۔ ہری ٹرومین نے ہیروشیما پر بمباری کے بعد خبردار کیا تھا کہ اگر جاپان نے ہتھیار نہ ڈالے تو تباہی کی بارش ہوگی، اور رچرڈ نکسن نے ویتنام جنگ کے دوران نجی گفتگو میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا ذکر کیا تھا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات دہائیوں پرانے ہیں، اور اس سے صدور کی زبان کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ مؤرخ ڈیوِن پینڈاس کہتے ہیں: امریکی صدور ہمیشہ یہ واضح کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں کہ امریکہ دشمن حکومتوں کے خلاف جنگ میں ہے، نہ کہ ان ممالک کے عوام کے خلاف۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی دھمکیاں، خاص طور پر ایک جاری جنگ کے دوران جس کا آغاز انہوں نے خود کیا، معمول کے رویے کے طور پر نہیں دیکھی جا سکتیں۔
کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ عملی اقدامات کے مقابلے میں الفاظ کی اہمیت کم ہوتی ہے، لیکن سابق فوجی قانونی ماہر ڈینیل مورر کے مطابق کمانڈر ان چیف کے بیانات اہم ہیں کیونکہ وہ بالواسطہ طور پر جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا جواز پیدا کر سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہ پہلا موقع ہے کہ اس سطح سے ایسے پیغامات دیے گئے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد جنیوا کنونشنز اور اقوام متحدہ کے منشور سمیت کئی بین الاقوامی قوانین بنائے گئے تاکہ جنگ میں تشدد کو محدود کیا جا سکے، اور امریکہ ان کا اہم حمایتی رہا ہے۔ اب خدشہ یہ ہے کہ صدارتی بیانات اس قانونی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے سابقہ اقدامات بھی ان خدشات کو بڑھاتے ہیں۔ گزشتہ سال ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ بغیر باقاعدہ منظوری کے شروع کی گئی، اور بعض دیگر فوجی کارروائیوں پر بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات لگے۔ یہاں تک کہ حالیہ جنگ کے آغاز کو بھی اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک اسکول پر امریکی حملے میں 170 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر بچے تھے، جاں بحق ہوئے۔ اگرچہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوجی کارروائیوں کا قانونی جائزہ پیچیدہ اور حالات پر منحصر ہوتا ہے۔
اسی دوران ماہرین اس بات سے بھی خبردار کرتے ہیں کہ اعلیٰ سطح سے آنے والے پیغامات فوجی اہلکاروں پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگر یہ تاثر پیدا ہو کہ جنگی قوانین کی اہمیت نہیں رہی تو ذمہ داری کا احساس کمزور ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ بارہا ایران کے توانائی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ جبکہ بین الاقوامی قوانین عام طور پر غیر فوجی انفراسٹرکچر پر حملے کو ممنوع قرار دیتے ہیں، مگر بعض صورتوں میں اگر کوئی ہدف براہ راست فوجی استعمال میں ہو تو استثنا موجود ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے انتہائی محتاط اور مستند معلومات پر مبنی ہونے چاہییں۔
انسانی حقوق کے قوانین کے تین بنیادی اصول—تفریق، تناسب اور احتیاط—ہر حملے میں لازمی ہیں۔ ان کے مطابق شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، نقصان فوجی ہدف کے مطابق ہونا چاہیے، اور نقصان کم سے کم کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں۔
اسی تناظر میں پینٹاگون میں نگرانی کے اداروں کو کمزور کرنا اور قانونی مشیروں کو نظر انداز کرنا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ ان اصولوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ٹرمپ اور ان کے وزراء کے بیانات شہری جانوں کے بارے میں عدم توجہی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اگرچہ کسی امریکی صدر کے خلاف قانونی کارروائی کا امکان بہت کم ہے، تاہم فوجی اہلکار بین الاقوامی یا داخلی عدالتوں میں جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ کچھ ممالک میں عالمی دائرہ اختیار کے تحت ایسے مقدمات سنے جاتے ہیں۔
آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ اقدامات عدالتوں سے زیادہ تاریخ میں درج ہوں۔ واضح بات یہ ہے کہ اس نوعیت کے بیانات اور پالیسیاں بین الاقوامی نظام اور امریکہ کے عالمی کردار پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔


مشہور خبریں۔
ایک اپوزیشن جماعت کو ’مجرم‘ قرار دے کر شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے، الہان عمر
?️ 5 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) امریکی کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر نے
فروری
آئی ایم ایف سے موسمیاتی فنڈنگ پر مذاکرات، کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز
?️ 24 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) آئندہ مالی سال 2025/26ء کیلئے بجٹ میں کاربن
فروری
اسلام آباد: نجی ہسپتال میں بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ، معمولی نوعیت کے گیسٹرو کی تشخیص
?️ 20 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی احتساب عدالت کے حکم پر
اپریل
ملک میں کورونا کے وار جاری، مزید 69 افراد جان کی بازی ہار گئے
?️ 29 اگست 2021اسلام آباد ( سچ خبریں ) عالمی وباء کورونا وائرس کے وار
اگست
روس تمام محاذوں پر دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے: پیوٹن
?️ 15 دسمبر 2024سچ خبریں: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہفتہ کی شام یونائیٹڈ رشیا
دسمبر
فلسطینی مجاہدین صیہونیوں کو خوب سبق سکھا رہے ہیں
?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں: فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے صیہونی حکومت کے ہتھیاروں
نومبر
ریاض کا شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ
?️ 30 مارچ 2023سچ خبریں:سعودی عرب کی وزراء کونسل نے اپنے اجلاس میں ریاض حکومت
مارچ
غاصب بھارت کو جموں وکشمیرمیں اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ، نعیم خان
?️ 24 جنوری 2023سرینگر:(سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء نعیم احمد خان
جنوری