?️
سچ خبریں:امریکی جریدے اکسیوس کے مطابق اسرائیل کی حمایت میں کمی، نوجوان ووٹرز کے بدلتے رجحانات اور کانگریس میں اختلافات نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کو نئی کشیدگی میں ڈال دیا ہے۔
اکسیوس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ سیاسی و علاقائی تبدیلیوں نے امریکہ اور اسرائیل کے دیرینہ تعلقات کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں نے نہ صرف امریکی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھا دیے ہیں بلکہ امریکی نوجوان ووٹرز میں تل ابیب کے لیے حمایت کی بنیاد کو بھی کمزور کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تازہ سروے اور امریکی کانگریس میں پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت، خاص طور پر نوجوان طبقے میں، نمایاں طور پر کم ہو رہی ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی تعاون اور اسلحہ فروخت کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
اکسیوس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں شدت لانے اور امریکہ کو اس میں شامل کرنے کے اقدامات نے امریکی عوام میں اسرائیل کی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں اور بعض امریکی قانون سازوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے طریقہ کار پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ تمام ڈیموکریٹ سینیٹرز جو 2028 کے صدارتی انتخابات کے امیدوار ہیں، حالیہ ووٹنگ میں اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے کی مخالفت کر چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 40 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت روکنے کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ اپریل گزشتہ سال صرف 15 سینیٹرز نے ایسا موقف اختیار کیا تھا۔
ڈیموکریٹ سینیٹر Rubén Gallego نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے دو جماعتی اتفاق رائے تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
ایوان نمائندگان میں بھی بعض ڈیموکریٹ اراکین نے اسرائیل کے دفاعی نظام آئرن ڈوم کی مالی معاونت پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ کچھ اراکین جو 2021 میں اس نظام کے لیے فنڈنگ کی حمایت کر چکے تھے، اب اس کی مسلسل مالی مدد کے مخالف ہو گئے ہیں۔
ڈیموکریٹ رکن Maxwell Frost نے اکسیوس سے گفتگو میں کہا کہ چار سال پہلے یہ پالیسی غیر منطقی محسوس ہوتی تھی۔
امریکہ میں رائے عامہ کے سروے بھی اسرائیل کے حوالے سے منفی رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔ پیو ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق مختلف سماجی گروہوں میں اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے میں نمایاں کمی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اہم تبدیلیاں درج ذیل ہیں:
* 50 سال سے زائد عمر کے ڈیموکریٹس میں 31 فیصد کمی
* نوجوان ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس میں 22 فیصد کمی
* پروٹسٹنٹ، کیتھولک اور غیر مذہبی افراد میں 14 سے 23 فیصد کمی
* سفید فام انجیلی عیسائیوں میں 15 فیصد کمی (2022 میں ان کی حمایت 80 فیصد تھی)
رپورٹ کے مطابق اب صرف ریپبلکنز کے عمر رسیدہ طبقے اور سفید فام انجیلی عیسائی ہی اسرائیل کے بارے میں نسبتاً مثبت رائے رکھتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
غیر ملکی سرکاری دستاویزات کی تصدیق کیلئے صرف ایک اپوسٹیل سرٹیفکیٹ درکار ہوگا
?️ 10 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان نے غیر ملکی سرکاری دستاویزات کی قانونی حیثیت
مارچ
پنجاب میں سیاسی عدم استحکام، اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی قیمتوں میں کمی
?️ 13 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کی جانب
جنوری
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی نہ ہونے پر الیکشن کمیشن کا اظہار مایوسی
?️ 30 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمشن آف پاکستان (ای سی پی) نے
ستمبر
صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینی صحافی کو زندہ جلانے کا کیا مطلب ہے؟
?️ 8 اپریل 2025سچ خبریں: کل بروز اتوار کو صیہونی حکومت نے اپنے مجرمانہ اقدامات
اپریل
وہ دن دور نہیں جب پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوگا: وزیر اعظم
?️ 21 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے عید الاضحی کے موقع
جولائی
صیہونی حکومت نے سید حسن نصر اللہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے:سابق صہیونی عہدہ دار
?️ 21 ستمبر 2022سچ خبریں:ایک سابق صیہونی عہدہ دار نے کہا کہ اس حکومت کے
ستمبر
آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے متنازع آرڈیننس معطل کردیا
?️ 4 دسمبر 2024 مظفر آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر
دسمبر
بلوچستان میں لیویز ایکٹ 2010 کے تمام نوٹیفکیشنز واپس
?️ 23 ستمبر 2025کوئٹہ (سچ خبریں) حکومت بلوچستان نے لیویز ایکٹ 2010 کے تمام نوٹیفکیشنز
ستمبر