?️
سچ خبریں:امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتے اختلافات کے باعث یورپی ممالک چین اور بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی نیٹو کے مستقبل اور عالمی طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
المیادین نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یکطرفہ اور بالادستی پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں سال 2026 میں یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر یورپ اپنی خارجہ پالیسی اور عالمی اتحادوں کو ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے اسٹریٹجک خودمختاری حاصل کرنے، واشنگٹن پر انحصار کم کرنے اور چین اور بھارت سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیٹو کے بارے میں پر ٹرمپ کے شکوک و شبہات
رپورٹ کے مطابق، یوکرین، گرین لینڈ، نیٹو کی ذمہ داریوں کی تقسیم اور تجارتی محصولات جیسے اہم معاملات پر امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اسی تناظر میں یورپی ممالک میں دفاعی خودکفالت اور امریکہ سے آزاد اسٹریٹجک صلاحیتوں کے قیام کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ متعدد یورپی دارالحکومت اپنی خارجہ پالیسی کو متنوع بنانے اور چین و بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ واشنگٹن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے حال ہی میں نیٹو کو ایک "کمزور ادارہ” قرار دیا، جو اس اتحاد کے اندر بڑھتے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، خصوصاً گرین لینڈ سے متعلق حالیہ پیش رفت کے بعد۔ انہوں نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ جامع اسٹریٹجک جائزہ لے اور دفاعی خودمختاری کو مضبوط بناتے ہوئے امریکہ اور چین دونوں پر انحصار کم کرے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس اتحاد کے مالی بوجھ کا بڑا حصہ اٹھاتا ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں امریکی افواج کو نیٹو کی مدد کی ضرورت نہیں تھی اور انہیں اس بات پر بھی شک ہے کہ مستقبل میں کسی تنازع کی صورت میں اتحادی امریکہ کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔
بین الاقوامی امور کے ماہر شارل ابی نادر نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے آزاد یورپی فوج کا قیام تکنیکی طور پر ممکن ہے، تاہم اصل رکاوٹ سیاسی اور اسٹریٹجک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپ کی مکمل خودمختاری کو روکنے کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے محقق محمد سویدان کے مطابق یورپ اپنی سیکیورٹی کے لیے اب بھی نیٹو کے مالی وسائل، امریکی اسلحہ، خلائی معلومات اور لاجسٹک تعاون پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ روسی گیس سے محرومی کے بعد یورپ توانائی اور تجارت کے شعبے میں بھی امریکہ پر کافی حد تک منحصر ہو چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یورپ کا موجودہ مؤقف امریکہ سے دشمنی نہیں بلکہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے بڑھتی ہوئی ناراضگی کا نتیجہ ہے، جس نے دونوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال عالمی نظام کے کثیر قطبی ہونے کی علامت ہے، جہاں امریکہ اب واحد فیصلہ کن طاقت نہیں رہا۔ اسی لیے یورپی ممالک نیٹو کے دائرے سے باہر نئے اتحادوں کی تشکیل پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
نیٹو میں بڑھتی کشیدگی کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔ یورپ چین کو نہ صرف ایک اہم اقتصادی شراکت دار بلکہ ایک کلیدی عالمی طاقت سمجھتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں یورپی رہنماؤں کے چین کے اعلیٰ سطحی دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپ امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے نئے شراکت دار تلاش کر رہا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے چین کے دورے کے بعد کہا کہ بیجنگ عالمی سیاست میں ایک مرکزی کردار رکھتا ہے اور اس کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنا ضروری ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور چین کے درمیان بڑھتے تجارتی تعلقات کو "خطرناک” قرار دیا۔
اسی طرح یورپ بھارت کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور برطانوی وزیر اعظم نے حالیہ تجارتی معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ اس کے علاوہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان بھی ایک بڑا تجارتی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت یورپی برآمدات پر اربوں یورو مالیت کے محصولات ختم یا کم کیے جائیں گے، جس سے یورپی مصنوعات کی بھارتی منڈی تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
یورپ اور امریکہ کے درمیان بڑھتے اختلافات کے اثرات یورپ کی اندرونی سیاست میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ فرانس، جرمنی اور ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک میں امریکہ کی ساکھ کمزور ہوئی ہے اور یورپی خودمختاری کے مطالبات مضبوط ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:نیٹو فوجی اتحاد کی تاریخ میں پہلی بار ریپڈ ری ایکشن فورس فعال
سال 2026 میں پیدا ہونے والی یہ کشیدگی نیٹو کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ اگرچہ نیٹو بدستور قائم ہے، تاہم موجودہ اختلافات محض عارضی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں یورپ تیزی سے بدلتے عالمی نظام میں اپنی آزاد اور مؤثر حیثیت قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا یحییٰ السنوار ہتھیار ڈالیں گے؟
?️ 8 فروری 2024سچ خبریں:غزہ کے بارے میں پیرس اجلاس کے منصوبے اور قیدیوں کے
فروری
وزیراعلیٰ پنجاب کی ٹیم پر کچے کے علاقہ میں حملہ‘ 3 پولیس اہلکار شہید‘ 6 زخمی
?️ 1 دسمبر 2023رحیم یارخان: (سچ خبریں) نگران وزیراعلیٰ پنجاب کی ٹیم پر کچے کے
دسمبر
اٹک ریفائنری بند ہونے کے دہانے پر ہے، سربراہ کا وزیر پیٹرولیم کو انتباہ
?️ 9 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے درآمدات پر آئل مارکیٹنگ
دسمبر
الجزائری سفیر: ایران کے فوجی اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے
?️ 14 جون 2025سچ خبریں: الجزائر کے سفیر اور اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے نے
جون
متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی
?️ 4 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے وزیراعظم عمران خان سے
جون
فلسطینی بچوں کے خلاف صیہونی انوکھی جارحیت؛کھلونوں میں بم
?️ 26 اپریل 2026سچ خبریں:غزہ کے دفاعی ادارے کے مطابق صیہونی دھماکہ خیز مواد کو
اپریل
صیہونیوں کو مصر کی عسکری طاقت میں اضافے پر تشویش
?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سیکیورٹی حلقوں نے مصر کی بڑھتی ہوئی عسکری
دسمبر
شام کے بارے میں ترکی کے متضاد موقف
?️ 28 اپریل 2023سچ خبریں:ترکی میں ان دنوں اردوغان کی حکومت اور جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ
اپریل