مقبوضہ کشمیر میں غزہ پر ہونے والے حملوں کے خلاف شدید احتجاج، پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا

مقبوضہ کشمیر میں غزہ پر ہونے والے حملوں کے خلاف شدید احتجاج، پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا

?️

سرینگر (سچ خبریں) اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر ہانے والے دہشت گردانہ حملوں کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں شدید احتجاج کیا گیا جس کی وجہ سے بھارتی پولیس نے درجنوں کشمیریوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے غزہ میں ہونے والے اسرائیلی فورسز کے حملوں کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں منعقد کیے گئے احتجاج کے باعث نقص امن کی خلاف وزری پر 21 کشمیریوں کو گرفتار کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے جاری بیان میں مزید کہا کہ ہم کشمیر میں ‘فلسطین میں پیش آئے واقعات کا فائدہ اُٹھا کر نقص امن کا باعث بننے والے عناصر پر نظر رکھے ہوئے ہیں’۔

بھارتی پولیس کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عوام کے لیے حساس نوعیت کا معاملہ ہے لیکن کچھ عناصر کو ‘تشدد کو ہوا دینے اور امن و امان کی صورت حال خراب’ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ کشمیری طویل عرصے سے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے آئے ہیں اور غزہ میں حملوں کے خلاف اکثر اسرائیل کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرواتے ہیں۔

پولیس انسپیکٹر جنرل ویجے کمار نے بتایا کہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے 20 افراد اور وادی کے جنوبی گاؤں سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ 21 افراد کو ان کی سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا، جنہوں نے مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ میں اسرائیلی پولیس کے حملوں کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہروں کا حصہ بننے کی خواش ظاہر کی تھی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ کچھ گرفتار افراد کو کونسلنگ اور ان کے والدین کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کے بعد کہ ان کے بچے مستقبل میں اس قسم کی کسی چیزوں کا حصہ نہیں بننے گے، کے بعد جلد رہا کردیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار افراد میں وادی کے معروف حریت پسند کارکن اور مذہبی اسکالر سرجان برکاتی اور ایک آرٹسٹ بھی شامل ہے، آرٹسٹ کو جمعہ کے روز سری نگر کے ایک پل پر فلسطینیوں کے حق میں تصاویر بنانے پر گرفتار کیا گیا، جس کے ساتھ انہوں نے لکھا تھا کہ ہم فلسطین ہیں، بعد ازاں پولیس نے مذکورہ تصاویر کو ہٹا دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ پیر سے اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے جواب میں حماس نے بھی سیکڑوں راکٹ اسرائیل کی جانب فائر کیے ہیں، مذکورہ حملوں میں اب تک 42 بچوں سمیت 153 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2014 میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 50 روز تک کشیدگی جاری رہی تھی جس میں سیکڑوں فلسطینی جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت بھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر حملوں کے خلاف مقبوضہ وادی میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جن میں بھارت سے کشمیر پر اپنا تسلط ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس دوران جھڑپوں میں ایک درجن کشمیری جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بہت قریبی تعلقات ہیں اور اسرائیل، بھارت کو سب سے زیادہ اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے۔

مشہور خبریں۔

مراکش میں صیہونیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر تشدد

?️ 6 اپریل 2022سچ خبریں:مراکشی سکیورٹی فورسز نے اس ملک کے دار الحکومت میں صیہونیوں

سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کے لئے تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

?️ 9 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت نے سپریم کورٹ کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد

ہزاروں یمنی بیماروں کی حالت زار

?️ 16 جولائی 2023سچ خبریں:صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے منیجر خالد الشیف نے

خلیج فارس کے ممالک کا ایران کے ساتھ رابطہ کیسا ہے؟

?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: دوحہ میں خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے

ٹرمپ اور امریکہ کا زوال

?️ 22 جنوری 2025سچ خبریں: پیر کو منعقدہ صدارتی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب میں

نگراں وزیراعظم کا فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل میں جانیکا اعلان

?️ 27 اکتوبر 2023اسلام آ باد: (سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے

تل اویو کا یمنی فوجی اہلکار کو کھانے کے دوران قتل کرنے کی ناکام کوشش

?️ 24 اگست 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست کے میڈیا outlets نے اعتراف کیا کہ تل

ونزوئلا کی سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے صیہونی اقدام کی مخالفت

?️ 28 دسمبر 2025سچ خبریں:ونزوئلا نے صیہونیوں کے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے