پاکستان اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کی صورتحال؛ خواجہ آصف کی زبانی

پاکستان اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کی صورتحال؛ خواجہ آصف کی زبانی

?️

سچ خبریں:پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جنگ بندی کے کمزور ہونے اور آئندہ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات، خط دیورند اور تحریک طالبان پاکستان پر بات چیت کی تفصیلات۔

پاکستان اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کمزور ضرور ہے مگر ابھی تک قائم ہے، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان ایک کمزور جنگ بندی برقرار ہے اور ہر نئی سرحدی کشیدگی اس معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے،انہوں نے بتایا کہ حالیہ امن معاہدہ قطر اور ترکی کی میزبانی میں طے پایا ہے اور مذاکرات کا اگلا دور 25 اکتوبر کو منعقد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور طالبان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے نتائج پر روس کی تشویش

خواجہ آصف نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کا احتیاطی رویہ برقرار ہے اور اس کی کامیابی کے لئے وقت کی ضرورت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں اہم نکات شامل ہیں جن میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی، جنگ بندی کا برقرار رہنا، اور یہ سمجھنا کہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو افغانستان کی سرزمین سے حمایت نہیں ملے گی اور ان کی سرگرمیاں روکی جائیں گی۔

پاکستانی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگر سرحد پر دوبارہ کسی طرح کی دراندازی ہوئی تو جنگ بندی خطرے میں پڑ جائے گا۔

خواجہ آصف نے دیورند لائن کے حوالے سے افغانستان کے اعتراضات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسے بین الاقوامی سرحد سمجھتا ہے، اور افغانستان کا موقف بے بنیاد ہے،انہوں نے کہا کہ یہ سرحد کئی دہائیوں سے موجود ہے اور اس پر اعتراضات نیا مسئلہ نہیں ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان اپنے عوامی بیانوں میں سخت بیانات دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ تحریری طور پر موجود ہے اور اس میں اہم نکات درج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدہ کی تفصیلات راز میں رکھی جائیں گی، لیکن اس کے نفاذ کی نگرانی کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

پاکستان نے افغان پناہ گزینوں کی عزت و احترام کے ساتھ واپسی کی حمایت کی ہے، لیکن وزیر دفاع نے کہا کہ اسلام آباد افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں سیکیورٹی خدشات کے سبب نظر ثانی کرے گا۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کی حمایت کر رہا ہے، اور اس کے بارے میں پاکستان نے ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت جانتی ہے کہ پاکستان کے پاس ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کے ساتھ ان کے روابط کے ثبوت موجود ہیں، جو آئندہ مذاکرات میں پیش کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:پاکستان اور طالبان افغانستان کے درمیان مذاکرات قطر میں ہوں گے

خواجہ آصف نے دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان آخری ملک تھا جس نے 1947 میں پاکستان کو تسلیم کیا، اور اس کے بعد دونوں ممالک نے دوستی اور دشمنی دونوں کا تجربہ کیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک احتیاط سے اور صبر کے ساتھ پائیدار استحکام کے لیے راستہ تلاش کریں۔

مشہور خبریں۔

شام میں ترکی اور اسرائیلی حکومت کو درپیش منظرنامے

?️ 9 اپریل 2025سچ خبریں: 8 دسمبر 2024 کو شام میں بشار الاسد کی حکومت کے

صیہونی حکومت کی جیلوں میں 170 فلسطینی بچوں پر تشدد

?️ 29 مئی 2023سچ خبریں:فلسطینی ذرائع ابلاغ نے فلسطین کی سماجی ترقی کی وزارت کے

 کیا برطانوی معیشت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے؟

?️ 13 نومبر 2025  کیا برطانوی معیشت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے؟ تازہ ترین

صیہونیوں کی مسجد الاقصیٰ کا کنٹرول اردن سے سعودی عرب کو منتقل کرنے کی کوشش

?️ 2 مئی 2022سچ خبریں:ایک عبرانی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی حلقوں میں

کیا رفح پر حملہ امریکہ کی مرضی سے ہوا ہے؟

?️ 8 مئی 2024سچ خبریں: امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک امور کے رابطہ

شامی فوج کا صیہونی جارحیت کے خلاف دفاع

?️ 17 نومبر 2023سچ خبریں: شامی حکومت کے فضائی دفاعی سسٹم نے دمشق کے نواحی

امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ نیتن یاہو کی جنگی مشین پر خرچ نہیں ہونا چاہیے: سینڈرز

?️ 24 اگست 2025سچ خبریں: امریکی کانگریس کے زیادہ تر اراکین غزہ پٹی میں قحطی سے

سعودی عرب کے سابق ولی عہد محمد بن نائف کی موت کی افواہیں

?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں:بعض ذرائع نے سعودی سرکاری رازداری کے درمیان آل سعود کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے