9 مئی کے پُر تشدد واقعات میں ایجنسیوں کے لوگ ملوث تھے، پی ٹی آئی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الزام لگایا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد گزشتہ ہفتے ہونے والے آتش زنی کے حملے اور فائرنگ ’ایجنسیوں کے افراد‘ نے کی تھی تاکہ پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کا جواز پیش کیا جا سکے۔

یہ رد عمل اسپیشل کور کمانڈرز کانفرنس کے ایک روز بعد سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے پرتشدد مظاہرین کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ سمیت قوانین کے تحت ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے کہا کہ اس نے فوج کے اعلیٰ افسران کی اس میٹنگ کے بعد جاری ہونے والے بیان کی اہمیت اور ’تشدد کو فروغ دینے اور کئی سرکاری عمارتوں، فوجی ڈھانچوں اور سیکڑوں غیر مسلح اور پرامن شہریوں کو گھیرے میں لے کر تشدد اور تباہی کو فروغ دینے کے سوچے سمجھے منصوبے کے تاثر پر غور کو تسلیم کیا‘۔

خود کو ایک ذمہ دار اور ملک کا سب سے بڑا سیاسی ادارہ بتاتے ہوئے پی ٹی آئی نے کہا کہ اس کی ’آئین اور جمہوریت کے لیے غیر متزلزل وابستگی‘ ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پرامن احتجاج ’ایک فطری اور متوقع ردعمل‘ تھا۔

واضح رہے کہ مظاہروں کے پرتشدد ہونے کے بعد فوج نے 9 مئی کو ’تاریک باب‘ قرار دیا گیا تھا تاہم پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ’ناقابل تردید شواہد‘ موجود ہیں کہ مسلح شرپسند ان پرامن اجتماعات میں داخل ہوئے، آتش زنی کی اور پرامن مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں جس سے درجنوں ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

پارٹی نے کہا کہ یہ ’ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان تصادم کو ہوا دینے کے لیے کیا گیا‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’قابل اعتماد تحقیقات‘ کے ذریعے ان عناصر کی شناخت کی جانی چاہیے، اور اپنی رہائی کے بعد چیئرمین تحریک انصاف نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک طاقتور عدالتی کمیشن کا مطالبہ بھی کیا۔

پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس کسی بھی آزاد انکوائری کو پیش کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں کہ ایجنسیوں کے لوگوں نے کچھ مقامات پر آتش زنی اور فائرنگ کی جو تباہی پھیلانا چاہتے تھے اور اس کا الزام پی ٹی آئی پر لگانا چاہتے تھے تاکہ موجودہ کریک ڈاؤن کو جائز قرار دیا جائے‘۔

مشہور خبریں۔

کیا بائیڈن غزہ کی جنگ ختم کر پائیں گے؟

?️ 5 نومبر 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں سے شائع ہونے والے اسرائیلی اخبار Ha’aretz نے

The Softest, Prettiest Highlighters You Should Already Be Using

?️ 16 اگست 2022 When we get out of the glass bottle of our ego

یمن کے متعد علاقوں پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ بمباری

?️ 21 فروری 2022سچ خبریں:سعودی اتحاد نے یمن کے صوبوں الذمار اور حضرموت کے شہری

دنیا کے دیگر ممالک امریکہ کے اس کے حق پر ہونے کے موقف سے متفق نہیں:کسنجر

?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:سابق وزیر خارجہ اور تجربہ کار امریکی سیاست دان ہنری کسنجر

2022 کو لے کر امریکی عوام کا بڑھتا ہوا خوف

?️ 1 جنوری 2022سچ خبریں:امریکہ میں ہونے والے ایک نئے سروے کے نتائج ظاہر کرتے

17 صحافیوں کی ایک اسرائیلی جاسوس کمپنی کے خلاف شکایت

?️ 7 اگست 2021سچ خبریں:ود آؤٹ بارڈرز رپورٹرز کا کہنا ہے کہ 17 صحافیوں نے

امریکہ کا یوکرین کو بھی دھوکہ

?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں: امریکی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک کی

بنجمن نیتن یاہو کی معافی کی سرکاری درخواست اور اگلے اسرائیلی انتخابات سے قبل مساوات

?️ 1 دسمبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے آخر کار اس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے