?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ نے سول نافرمانی کرنی ہے تو کرلیں، دھمکیوں سےکام نہیں چلتا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میں نے کل بھی اس بات کی تصدیق کی تھی لیکن اب تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ باتیں کہ کمیٹی بن گئی ہے اور یہ ہوگیا ہے، اس سلسلے میں مثبت ردعمل تب ہی آسکتا ہے جب کوئی پیش قدمی ہوگی جب کہ شیر افضل مروت نے جو بات کی وہ خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے، پہلی بار ادھر سے خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ تلخی سے بات کریں گے تو تلخی ہی بڑھے گی، گن پوائنٹ پر مذکرات نہیں ہوسکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ حملہ کریں، سول نافرمانی تحریک چلائیں اور مذاکرات بھی ہوں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ ضرور اسلام آباد پر حملہ کریں، ان کا حق ہے لیکن خیبرپختونخوا حکومت دیگر مسائل میں الجھی ہوئی ہے، حکومت صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر توجہ دے، پاراچنار میں آج بھی آگ نہیں بجھ سکی، پاراچنار کے مسئلے کا پائیدار حل ضروری ہے لیکن ہم سیاستدان ان چیزوں میں الجھے رہیں گے تو یہ مسائل کیسے حل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اس جنگ میں نقصان ملک کو ہو رہا ہے، معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوتے ہیں، دھمکیوں سے نہیں، سیاستدان معاملات کے حل اور مذاکرات کے لیے سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہا گیا کہ 12 اموات ہوئیں لیکن کسی نے اناللہ وانا الیہ راجعون تک نہیں پڑھا، مگر لطیف کھوسہ صاحب کہتے ہیں کہ 278 اموات ہوئیں اور اب یہ 12 پر آگئے ہیں لیکن احتجاج کے دوران رینجرز اور پولیس اہلکار بھی تو مارے گئے، انہیں کس نے مارا، ان کی بھی مذمت کی جائے، مذمت میں سلیکشن نہیں ہونی چاہیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آج یہ کہتے ہیں کہ جیل میں سہولیات نہیں دی جارہیں، سیاسی ورکر شکایتیں نہیں کرتا، کسی کی منتیں نہیں کرتا، مجھے جیل میں انتہائی خراب حالت میں رکھا گیا لیکن کبھی شکایت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں دیکھ لیں صرف ایک شخص ہے جس کے خلاف ان کی کابینہ نے آرٹیکل 6 لگایا لیکن یہ نہیں ہوسکتا ماضی کو یکدم فراموش کردیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں مذاکرات کا ماہر نہیں ہوں لیکن ہماری جماعت اور پیپلزپارٹی میں بھی ایسے لوگ ہیں جو اس کی قابلیت رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ تبدیلی ایسی آنی چاہیے کہ ماحول بن سکے لیکن اگر آپ اپنی زبان سے کشیدگی بڑھا رہے ہوں اور یہ توقع رکھیں کہ مذاکرات ہوجائیں تو یہ ممکن نہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات تک سسٹم آگے نہیں چل سکتا، سیاسی استحکام سمیت اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ سیاسی لوگ بیٹھ کر جمہوری انداز میں مسائل حل کریں۔
انہوں نے کہا کہ شیر افضل مروت نے جو بات کی، اس بات پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہوا ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ میں ایک تلخ بات کو دبا رہا ہوں، تاکہ یہ ماحول خراب نہ ہوجائے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی، لیکن کمیٹی کو فعال ہونے نہیں دیا گیا، کچھ دن قبل وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں آئے اور سیدھے اپوزیشن کے پاس گئے اور اپنی نشست پر آکر کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے پر بات کی جاسکتی ہے، اس پر عمر ایوب نے جس لہجے میں جواب دیا، میرا خیال ہے شیر افضل کو سب پتا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح 25 نومبر کی رات جب کہا جارہا تھا کہ ڈی چوک کے بجائے آپ سنگجانی جاکر اپنا احتجاج یا جلسہ، جو بھی کرنا ہے کرلیں، تو وہ بات بھی مذاکرات کا ہی حصہ تھی، کہ آپ وہاں چلے جائیں اور یہاں بیٹھ کر بات کرلیں، لیکن اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا یہ بات درست ہے کہ خواہ کسی نے وردی پہنی تھی، یا وردی کے بغیر تھا، اور ان ہنگاموں میں اس کی جان گئی ہے، تو دونوں کے لیے اناللہ وانا الیہ راجعون ہونا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل نے کچھ وجوہات کی بنا پر اپنے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر کیے دستخط
?️ 2 نومبر 2021سچ خبریں: صہیونی تجزیہ کار روجیل الور نے عبرانی زبان کے اخبار
نومبر
ہندوستان کی جانب افغانستان میں پیش رفت پر وسطی ایشیائی مذاکرات کی میزبانی
?️ 18 دسمبر 2021سچ خبریں: ہندوستانی نائب خارجہ ایس جشینکر نے کہا ہفتے سے ہم پانچ
دسمبر
افغانستان سے امریکی انخلا جرات مندانہ نہیں تھا: میئر کابل
?️ 17 اگست 2021سچ خبریں:کابل کے میئر نے ایک صیہونی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے
اگست
پی ٹی آئی کا تحقیقات کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ
?️ 13 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سینیٹر اعظم سواتی کی ’قابل اعتراض‘ ویڈیو کی مبینہ
نومبر
میں 2001 میں القاعدہ کا رکن نہیں ؛ اسرائیل کے ساتھ اس وقت مذاکرات ممکن نہیں: جولانی
?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں: ابومحمد جولانی نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں 11
نومبر
پارٹی کے جن رہنماؤں کو وفاقی تحقیقاتی ادارے نے طلب کیا ہے وہ 12-2011 میں عوامی عہدوں پر فائز نہیں تھے۔
?️ 7 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر اطلاعات اور رہنما پی ٹی آئی
اگست
آج کے دور میں انفرا اسٹرکچر موٹروے نہیں، بلکہ براڈبینڈ ہے، بلاول بھٹو
?️ 24 دسمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے
دسمبر
شام میں دہشت گردوں کی حکومت کو درپیش چیلنجز؛ خانہ جنگی سے لے کر ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی تک
?️ 16 دسمبر 2024سچ خبریں:شام پر قابض دہشت گرد گروہ مستقبل قریب میں اپنے داخلی
دسمبر