?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے رجوع کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کے خلاف چلائی جارہی اشتہاری مہم کے خلاف پابندی کی درخواست کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہیں جس میں لوگوں بالخصوص والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں شرکت کی اجازت نہ دیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد میں مارچ کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ حکومت پر جلد انتخابات کے اعلان کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
پیر کو پیمرا کو لکھے گئے خط میں پی ٹی آئی نے حکومت کی جانب سے چلائی جا رہی مہم کی مخالفت کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ پاکستان کے آئین کے تحت لوگوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے۔
پارٹی کی کور کمیٹی کے رکن ڈاکٹر افتخار درانی کے دستخط شدہ خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے پرامن مارچ کر رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت نے پرامن مارچ کے خلاف ’نفرت انگیز‘ مہم شروع کی ہے کیونکہ وہ سیاسی میدان میں پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ افتخار درانی نے مزید الزام لگایا کہ مخلوط حکومت اپنے سیاسی ایجنڈے کو کامیاب بنانے کے لیے قومی خزانے کو استعمال کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے اپنے خط میں کہا کہ اشتہاری مہم معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان تنازع اور نفرت پیدا کر سکتی ہے۔ پیمرا سے ان افسران کے خلاف بھی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے جنہوں نے اشتہار دیا اور اسے چلا رہے تھے۔
ایک الگ پیش رفت میں پی ٹی آئی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر کا دورہ کیا اور انہیں پارٹی کے سینیٹر اعظم سواتی پر ہونے والے مبینہ تشدد سے آگاہ کیا۔
17 اکتوبر کو ڈاکٹر وسیم اور اعظم سواتی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا جس میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی حراست میں ان پر ہونے والے مبینہ تشدد کا ازخود نوٹس لیں۔
اعظم سواتی نے حال ہی میں دو اعلیٰ سطحی فوجی افسران کا نام لیا اور یہ الزام لگایا کہ وہ ان کی حراست میں تشدد میں ملوث تھے۔ سینیٹر اعظم سواتی کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کیا تھا تاہم انہوں نے جن افسران کا نام لیا ان کا تعلق انٹر سروسز انٹیلی جنس سے تھا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم سواتی نے آئی ایس آئی کے دو حاضر سروس افسران پر جسمانی تشدد کا الزام لگایا تھا، انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔
اعظم سواتی کو گزشتہ ماہ کے اوائل میں اسلام آباد میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف متنازع ٹوئٹس کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا، انہیں آٹھ دن بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ اپنی گرفتاری کے بعد سے اعظم سواتی یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ انہیں دوران حراست برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔


مشہور خبریں۔
جھوٹ بولا گیا کہ اڈیالہ کے باہر ہم پر پانی پھینکا گیا۔ عظمی بخاری
?️ 21 نومبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ
نومبر
سال 2023: سندھ رینجرز کی 163 کارروائیاں، 197 ہائی پروفائل ملزمان گرفتار
?️ 31 دسمبر 2023کراچی: (سچ خبریں) سال 2023 میں رینجرز نے سندھ بھر میں دہشتگردوں
دسمبر
صیہونی معیشت کو بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟
?️ 31 جنوری 2024سچ خبریں: اسرائیل کے ایک بینک نے اعلان کیا ہے کہ غزہ
جنوری
سونے کا غلام
?️ 25 جون 2023سچ خبریں:عرب دنیا کے ممتاز تجزیہ نگار نے روسی صدر کے خلاف
جون
امریکی خارجہ پالیسی دنیا میں تناؤ کا باعث:روس
?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ بیرون ملک امریکی
اگست
جنوبی لبنان پر صیہونی حملے تیز، بمباری اور گولہ باری جاری
?️ 26 جولائی 2026سچ خبریں:صیہونی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر فضائی اور
جولائی
ٹرمپ کی جے JCPOA سے دستبرداری نے امریکہ کو دنیا میں تنہا کردیا: وائٹ ہاؤس
?️ 24 اگست 2022سچ خبریں: جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے واشنگٹن کے
اگست
شہیدجلیل اندرابی کے لواحقین 28سال بعد بھی انصاف سے محروم
?️ 27 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) انسانی حقوق کے معروف کشمیری کارکن اورسینئر وکیل
مارچ