پی ٹی آئی اراکین مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)سابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین نے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پی ٹی آئی اراکین نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے شروع کردیے ہیں۔

معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے ڈان نیوز کو بتایا کہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 7 مارچ کو آپ کو غیر ملکی مراسلہ موصول ہوتا ہے اور 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے، اگر کوئی اسمبلی میں بیٹھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا یہ آپ اس سازش کا حصہ بن رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی بھی بیرونی طاقت کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان میں حکومتیں بنانے اور حکومتیں توڑنے میں کردار ادا کرے، عمران خان دنیا اور امریکا کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہہ چکے ہیں۔

اپوزیشن کے حوالے سے مراد سعید نے کہا کہ پاکستانی قوم نے انہیں مسترد کردیا ہے، یہ پہلے بھی کرپٹ تھے اب بھی کرپٹ ہیں، پہلے بھی بین الاقوامی سازشوں کا حصہ تھے اور اب بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے

بعد ازاں ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں مراد سعید نے کہا کہ جن کی حرصِ زر، ہوس اقتدار نے میری قوم کو “بھکاری” بنایا ان کو ملک کا سربراہ نہیں مانوں گا۔

اس سلسلے میں فرخ حبیب نے بھی ٹوئٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتے‘۔

پارٹی کے فیصلے کے بعد فواد چوہدری نے بھی مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم آزادی کے لیے لڑیں گے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری کی جنگ کا فیصلہ اب یہ لٹیرے نہیں بلکہ عوام کریں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکا نے عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کروائی۔

اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جارحانہ سیاست پر مشاورت اور تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر پارٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ استعفوں سے متعلق عمران خان جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی وزیر اعظم حکومت سے باہر نکلتا ہے تو اُس پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں، الحمدللہ عمران خان پر کوئی کرپشن کے الزامات نہیں ہیں۔

اجلاس میں موجود کچھ اراکین نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں جمہوری لڑائی کی تجویز بھی پیش کی۔

اس موقع پر فواد چوہدری، حماد اظہر، شیخ رشید، علی اعوان مستعفی ہونے کے حق میں تھے جبکہ شاہ محمود قریشی، فیصل جاوید، فخر امام سمیت اکثریتی ارکان نے مستعفی نہ ہونے کی تجویز پیش کی تھی۔

مشہور خبریں۔

مسجد اقصیٰ کے خلاف صیہونی اقدامات مسلمانوں کے مقدسات پر حملہ ہے:حزب اللہ

?️ 22 اپریل 2022سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ کی مرکزی کونسل کے رکن نے ایک

انتخابی مہم کا آج آخری روز، بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا کام مکمل

?️ 6 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)ملک بھر میں 8 فروری کو ہونے والے الیکشن

غزہ جنگ میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مصائب

?️ 29 نومبر 2023سچ خبریں:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے منگل کو کہا کہ غزہ

وزیراعظم آج آبائی شہر  کا دورہ کریں گے

?️ 11 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان آج اپنے  آبائی شہر میانوالی

آئی ایم ایف نے اسحٰق ڈار اور شوکت ترین کو قرض پروگرام میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرا دیا

?️ 24 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ناکام 4

پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم سے ترکیہ کے سفیر کی ملاقات

?️ 12 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) میڈیا کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے

211 روزہ جنگ کے دوران غزہ میں کتنے فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے؟

?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت نے گذشتہ سال

عرب عوام صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

?️ 5 اگست 2023سچ خبریں: واشنگٹن کے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کیے جانے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے