پاکستان نے 2024 میں ریکارڈ 21.7 ٹیراواٹ گھنٹے جوہری توانائی پیدا کی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے 2024 میں ریکارڈ 21.7 ٹیراواٹ گھنٹے جوہری توانائی پیدا کی، جو ملکی توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق عالمی جوہری صنعت (ڈبلیو این آئی ایس آر) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں ریکارڈ 21.7 ٹیراواٹ گھنٹے جوہری توانائی پیدا کی، تاہم بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے صارفین نے زیادہ تر شمسی توانائی استعمال کرنا شروع کر دی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چھ جوہری ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں، جن کی کل صلاحیت 3.3 گیگاواٹ ہے، جوہری بجلی کی پیداوار 2023 میں 21.3 ٹیراواٹ گھنٹے تھی جو 2024 میں بڑھ کر 21.7 ٹیراواٹ گھنٹے کے ریکارڈ تک پہنچ گئی۔

اس کے علاوہ دسمبر 2024 میں پاکستان نے چینی تعاون سے ایک اور 1200 میگاواٹ کا پلانٹ بنانا شروع کیا۔

رپورٹ کے مطابق جوہری پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ 2023 میں 16.2 فیصد تھا، جو 2024 میں بڑھ کر ریکارڈ 17 فیصد ہو گیا، تمام فعال ری ایکٹرز چین کی نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن (سی این این سی) نے بنائے ہیں، جن میں کراچی کے باہر دو ہُوالونگ ون ری ایکٹرز (کینپ-2 اور کینپ-3) اور چشمہ میں چار سی این پی-300 ری ایکٹرز شامل ہیں۔

سی این این سی چشمہ (یونٹ 5) میں ایک اور 1200 میگاواٹ ہُوالونگ ون ری ایکٹر بھی تعمیر کر رہا ہے، اس ری ایکٹر کی تعمیر کا معاہدہ 2017 میں ہوا تھا، مگر پہلے کنکریٹ ڈالنے کے عمل تک پہنچنے میں سات سال لگے، جو 30 دسمبر 2024 کو ہوا، یہ چین کا بیرون ملک واحد جاری جوہری منصوبہ ہے اور پچھلے پانچ سالوں میں دنیا میں روس کے علاوہ پہلا تعمیراتی آغاز ہے۔

رواں سال جنوری میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے چشمہ-5 منصوبے کی متوقع لاگت 966 ارب روپے (3 ارب 40 کروڑ ڈالر) اور کل لاگت (فنانسنگ اور دیگر اخراجات سمیت) ایک کھرب 12 ارب 50 کروڑ روپے (4 ارب ڈالر) کے تخمینے کے ساتھ شائع کی۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کی زیادہ تر لاگت چینی قرض کے ذریعے پوری کی جائے گی تاکہ 2030 تک پیداوار شروع کی جا سکے، تاہم اس منصوبے پر بجلی کی زیادہ لاگت اور متبادل توانائی کے منصوبوں کو روکنے پر تنقید بھی ہوئی۔

بھارت کے پاس 21 فعال جوہری ری ایکٹرز ہیں جن کی مجموعی خالص پیداوار 7.4 گیگاواٹ ہے، جو پاکستان (3.3 گیگاواٹ) سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے اور نئی دہلی نے 2047 تک مزید 100 گیگاواٹ جوہری پیداوار کا ہدف رکھا ہے، جو ممکن نہیں لگتا۔

متبادل توانائی بمقابلہ جوہری توانائی

رپورٹ میں عالمی رجحانات پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ شمسی توانائی نے 2024 میں دنیا بھر میں سیکڑوں گیگاواٹ شامل کیے، جب کہ جوہری توانائی مارکیٹ کی ترقی میں غیر متعلقہ رہی، جب اسٹوریج نے ایک حد عبور کی تو میٹر کے پیچھے انقلاب کے ابتدائی آثار نظر آئے اور کم آمدنی والے ممالک چھلانگ لگانے لگے۔

2024 میں غیر آبی تجدیدی بجلی کی کل سرمایہ کاری ریکارڈ 728 ارب ڈالر تک پہنچی، جو عالمی جوہری توانائی کی سرمایہ کاری سے 21 گنا زیادہ ہے، شمسی اور ہوا کی توانائی کی صلاحیت بالترتیب 32 فیصد اور 11 فیصد بڑھ گئی، جس سے 565 گیگاواٹ کی نئی مشترکہ صلاحیت پیدا ہوئی، جو 5.4 گیگاواٹ خالص جوہری صلاحیت میں اضافے سے 100 گنا زیادہ ہے۔ عالمی ہوا اور شمسی تنصیبات نے جوہری پلانٹس کی نسبت 70 فیصد زیادہ بجلی پیدا کی۔

ساتھ ہی چونکہ جوہری توانائی کو توانائی کے نظام میں ضم کرنے کے چیلنج برقرار ہیں، نئی توانائی کی ٹیکنالوجیز مارکیٹ اور نظام کو تبدیل کر رہی ہیں، فوٹو وولٹائیکس براہِ راست شمسی شعاعوں سے بجلی پیدا کرتے ہیں، جس سے لاگت میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ممکن ہوتا ہے، یہ طاقت کے الیکٹرانکس اور بیٹریز میں اسی طرح کی ترقی کے ساتھ مکمل ہوتا ہے۔

یہ نئی ٹیکنالوجیز مل کر ایک ایسا لچکدار اور مکمل برقی نظام بنا رہی ہیں جو پرانے فوسل اور جوہری نظام سے زیادہ بہتر ہے، اس صورتحال میں جوہری توانائی کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے، 2024 ایک اہم سال رہا کیونکہ بیٹری اسٹوریج کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی آئی۔

جیسے جیسے میٹر کے پیچھے تنصیبات بڑھ رہی ہیں، ان کی صلاحیت زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہے، جس کی مثال حال ہی میں پاکستان میں دیکھنے کو ملی۔

رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2023 کے درمیان عوامی گرڈ میں بجلی کی طلب میں 10 فیصد کمی، جب کہ معیشت بڑھی جو جزوی طور پر شمسی پینلز کی درآمد کے اعداد و شمار سے واضح ہوتی ہے، 2024 میں صرف درآمد شدہ شمسی پیداوار کی صلاحیت 22 گیگاواٹ تھی، جو زیادہ تر نجی تنصیبات میں شامل ہوئی۔

انتظام میں افراتفری، عوامی بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور گرڈ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، لیکن سماجی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں کلیدی لاگت کے رجحانات نے نظامی حد کو چھو لیا ہے۔

پاکستان کی تجدیدی بجلی کی صلاحیت 2024 میں 15.2 گیگاواٹ تھی، جو 2023 میں 14.2 گیگاواٹ تھی، ہائیڈرو پاور، جس کی کل صلاحیت 11.5 گیگاواٹ تھی، سب سے اہم جزو تھا، جب کہ شمسی توانائی سب سے تیزی سے بڑھنے والا ذریعہ ہے۔

2024 میں شمسی توانائی کی کل صلاحیت 1.4 گیگاواٹ تھی، جو 2023 کے اختتام پر 1.2 گیگاواٹ تھی، جب کہ ہوا کی توانائی 1.8 گیگاواٹ رہی، جو پچھلے دو سالوں کے برابر تھی۔

مشہور خبریں۔

شہدائے چوٹہ بازار سرینگر کو یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت

?️ 11 جون 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

کیا نیتن یاہو کے کابینہ کا زوال شروع ہو گیا ہے؟

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: صیہونی ریجیم کے چینل 12 نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں

47 فیصد ٹیکس عوامی مفاد پر خرچ ہوتے نظر نہیں آتے، سروے

?️ 21 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) ایک عالمی سروے سے پتا چلتا ہے

النقب جیل پر صیہونیوں کا حملہ

?️ 2 مارچ 2023سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں کے انفارمیشن آفس نے اعلان کیا کہ النقب جیل

غزہ میں ہر گھنٹے میں ایک بچہ کی موت

?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں: فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ

الزیتون علاقے میں قابض فوج فلسطینی مجاہدین کے آہنی پنجوں میں

?️ 14 مئی 2024سچ خبریں: القسام بٹالین کے ایک کمانڈر نے حال ہی میں الزیتون

طالبان پاکستان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے چین کی کوششوں میں تیزی

?️ 6 دسمبر 2024سچ خبریں: چین کے خصوصی نمائندے Yu Xiaoyong افغانستان اور پاکستان کے درمیان

امریکہ کا روس اور عرب ملک کے تعلقات میں رکاوٹ ڈالنے کا اعتراف

?️ 4 فروری 2026 سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ کے مشرق وسطی امور کے دفتر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے