ایران کی فوجی طاقت نے امریکہ کو چیلنج کر دیا ہے: نیشنل انٹرسٹ

ایران

?️

سچ خبریں:نیشنل انٹرسٹ کے تجزیے کے مطابق ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت، امریکی بحری بیڑے میں کمی، بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کمزور صلاحیت اور جہاز سازی کی صنعتی مشکلات کے باعث امریکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو ماضی کی طرح حفاظتی حصار فراہم نہیں کر سکتا۔

نیشنل انٹرسٹ نے اپنے ایک تجزیے میں 1980 کی دہائی کی ٹینکر جنگ اور ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ جنگ کے درمیان فرق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ امریکی بحریہ آج ایران کی فوجی طاقت، جنگی جہازوں کی کمی، سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کمزور صلاحیت اور صنعتی طاقت میں کمی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم نہیں کر سکتی۔

نیشنل انٹرسٹ کے ایک تجزیے کے مطابق امریکہ نے 1980 کی دہائی کے برعکس، جب ایران عراق جنگ کے دوران ارنٹ ول نامی کارروائی کے ذریعے خلیج فارس میں کویتی تیل بردار جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کیا تھا، موجودہ ایران جنگ میں اس حکمت عملی کو دوبارہ اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔ ایک امریکی تجزیہ کار کے مطابق یہ صورتحال امریکی بحریہ کی وسیع کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ تجزیہ کار جیمز ہولمز سوال اٹھاتے ہیں کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے 1980 کی دہائی کی بحری قافلوں کی حکمت عملی کو دوبارہ کیوں اختیار نہیں کرتی؟ وہ اس کے جواب میں 6 بنیادی وجوہات بیان کرتے ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ آج کے حالات امریکہ کے لیے ٹینکر جنگ کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ 1980 کی دہائی میں امریکہ براہ راست ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں تھا۔ ارنٹ ول کارروائی کے دوران امریکی بحریہ زیادہ تر دفاعی پوزیشن میں تھی اور ایران کی بھی امریکہ کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔

تاہم آج امریکہ براہ راست ایران کے ساتھ جنگ میں شریک ہے اور ہولمز کے مطابق ایران بھی ایسی صورتحال میں ہے جو ضرورت پڑنے پر اسے مکمل جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے۔

دوسرا فرق خلیج فارس میں جنگ کے لیے ایران کی کہیں زیادہ تیاری ہے۔ ہولمز کے مطابق ایران نے گزشتہ دہائیوں کے دوران امریکی فوج کا مطالعہ کرتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی افواج کو منظم کیا ہے۔

 ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کا ایک بڑا ذخیرہ تیار کیا ہے، اپنی فوجی تنصیبات کو زیر زمین اور مضبوط مقامات پر قائم کیا ہے اور اپنے کمانڈ نظام کو اس طرح غیر مرکزی بنایا ہے کہ شدید حملے بھی آسانی سے اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو ختم نہ کر سکیں۔

اس تجزیے کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے لازماً بڑی تعداد میں جہازوں کو غرق کرنے کی ضرورت نہیں۔ حتیٰ کہ محدود اور وقفے وقفے سے کیے جانے والے حملے بھی بحری جہاز چلانے والی کمپنیوں اور بیمہ کنندگان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کا خطرہ مول لینے سے روک سکتے ہیں۔

 اس طرح بحری جہازوں کے مالکان میں خوف پیدا کرنا بھی جہازوں کو غرق کرنے جتنا مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

تیسرا عامل امریکی افواج کے لیے تیل بردار جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کرنے کا انتہائی زیادہ خطرہ ہے۔ ہولمز نے 1980 کی دہائی کے واقعات کا حوالہ دیا ہے، جن میں عراقی لڑاکا طیارے کی جانب سے امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس اسٹارک پر غلطی سے کیا گیا حملہ شامل ہے، جس کے نتیجے میں 37 امریکی بحری اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح امریکی جنگی جہاز سموئیل بی رابرتس بھی ایک سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا تھا۔

ایک اور واقعے میں امریکی جنگی جہاز وینسنس نے 1988 میں ایک ایرانی مسافر طیارے کو مار گرایا تھا، جس کے نتیجے میں 290 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چوتھا مسئلہ امریکی بحری بیڑے کا سکڑ جانا ہے۔ اس تجزیے کے مطابق 2026 میں امریکی بحریہ کے پاس تقریباً 293 جنگی بحری جہاز ہیں، جبکہ سرد جنگ کے دور میں امریکی بحری بیڑے میں تقریباً 600 جنگی جہاز شامل تھے۔ اس لیے آج ایک جنگی جہاز کا نقصان امریکی جنگی صلاحیت کے کہیں بڑے حصے کو متاثر کرتا ہے۔

ہولمز کے مطابق 20 سے زیادہ امریکی جنگی جہاز ایران کے ساحلوں کی ناکہ بندی میں مصروف ہیں اور اگر امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے اطراف محدود اور خطرناک پانیوں میں داخل ہوتے ہیں تو امریکہ کے مہنگے جنگی جہازوں کو نقصان پہنچنے کا امکان بڑھ جائے گا۔

پانچواں مسئلہ سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کے معاملے میں امریکہ کی کمزور صلاحیت ہے۔ ہولمز کے مطابق امریکی بحریہ نے گزشتہ دہائیوں کے دوران سمندری بارودی سرنگوں کی تلاش اور صفائی جیسی خصوصی صلاحیتوں کے لیے پہلے سے زیادہ اپنے اتحادیوں پر انحصار کیا ہے۔

 تاہم موجودہ حالات میں شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم کے اتحادی آبنائے ہرمز میں براہ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے کے لیے زیادہ آمادہ نہیں ہیں اور امریکہ کو ایرانی افواج کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھائے جانے کے ممکنہ خطرے کا تنہا مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تجزیے میں امریکی جہاز سازی کی صنعت کی کمزوری کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ہولمز کا خیال ہے کہ ایسا بحری بیڑا جس کے پاس تباہ یا نقصان زدہ جنگی جہازوں کی مرمت یا انہیں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط صنعتی صلاحیت موجود نہ ہو، طویل جنگ میں کمزور ثابت ہوگا۔

وہ لکھتے ہیں کہ امریکی جہاز سازی کی صنعت 1980 کی دہائی میں اپنی عروج کی سطح سے دور ہو چکی ہے اور حتیٰ کہ امن کے زمانے میں بھی جنگی جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔

چھٹا عامل تنظیمی ثقافت سے متعلق ہے۔ ہولمز کے مطابق تجارتی بحری جہازوں کو حفاظتی حصار فراہم کرنا اور بحری قافلے تشکیل دینا امریکی بحریہ کے لیے زیادہ پرکشش کام نہیں ہے۔

ایک طاقتور بحریہ بڑے سمندری معرکوں کے لیے تیار رہنے کو ترجیح دیتی ہے، نہ کہ اپنے وسائل کو تجارتی بحری جہازوں کے حفاظتی حصار جیسے خطرناک اور کم نمایاں مشنوں پر خرچ کرے۔

آخر میں تجزیہ کار نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ارنٹ ول کارروائی آج کے حالات کے لیے کوئی سادہ نمونہ نہیں بن سکتی۔ ٹینکر جنگ اور ایران کے ساتھ موجودہ جنگ کا موازنہ یہ ظاہر کرنے کے بجائے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کس طرح کھلا رکھ سکتا ہے، ایران کے مقابلے میں امریکی بحریہ کی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔

ان کمزوریوں میں بحری بیڑے کا سکڑنا، بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کمزور صلاحیت، مہنگے جنگی جہازوں کا خطرے سے دوچار ہونا اور جہاز سازی کی صنعت کو درپیش مشکلات شامل ہیں۔

مشہور خبریں۔

شام نے سعودی امداد لے جانے والے طیارے کو لینڈ کرنے کی درخواست پر رضامندی ظاہرکی

?️ 12 فروری 2023سچ خبریں:شام کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے سربراہ باسم منصور  نے

احمد سلمان رشدی؛ ایک مجرم کی زندگی کی کہانی

?️ 13 اگست 2022سچ خبریں:سلمان رشدی کی ایک کتاب "شرم” نے 1983ء میں اسلامی جمہوریہ

غزہ میں نسل کشی کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کا انتباہ

?️ 6 مارچ 2024سچ خبریں: اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے

حماس کو شکست دینا ناممکن ہے: صیہونی جنرل

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج کے ریزرو جنرل اسحاق برک نے کہا کہ فوج

پاکستانی نیٹ ورکس کو سائبر سیکیورٹی، وی پی این کے استعمال میں رسائی والی کمپنیوں سے خطرات لاحق

?️ 21 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی نیٹ ورکس کو سائبر سیکیورٹی فراہم کرنے

فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جنوبی افریقہ کا عملی اقدام

?️ 24 ستمبر 2023سچ خبریں:جنوبی افریقہ نے کہا کہ فلسطینیوں کی مزاحمت کی حمایت کے

ٹرمپ کے قریبی حلقے کی زلنسکی کے مخالفین سے خفیہ مذاکرات

?️ 6 مارچ 2025سچ خبریں:ایک امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے

وزیر اعظم خود مہنگائی کو دیکھ رہے ہیں

?️ 20 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے