?️
اسلام آباد(سچ خبریں) عالمی یوم قدس کے موقع پر دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطین کی آزادی اور خود مختاریت تک اس کی حمایت جاری رکھے گا انہوں نے کہا کہ ہم فلسطینی عوام کے ناگزیر حقوق کے حصول اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد میں اپنی مکمل حمایت جاری رکھیں گے’۔
اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) کے زیر اہتمام ویبنار ‘ڈائنامکس آف مسلم ورلڈ اینڈ فیوچر آف فلسطین: ٹائم ٹو فائٹ بیک’ میں بطور میزبان خطاب کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘ہم فلسطینی عوام کے ناگزیر حقوق کے حصول اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد میں اپنی مکمل حمایت جاری رکھیں گے’۔
زاہد حفیظ چوہدری نے فلسطین کے مقاصد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت تمام بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے حق میں ہر قرارداد پیش، پیش کرنے میں معاونت یا حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 1988 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا اور بعد میں 2012 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کی باہمی سرپرستی کی گئی جس نے اس کی حیثیت کو غیر رکن مبصر کی حیثیت سے بڑھایا۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے بعد قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ پاکستان پر تل ابیب کو تسلیم کرنے کا دباؤ ہے۔
تاہم وزیر اعظم عمران خان نے ان افواہوں کو دوٹوک مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینیوں کو قابل قبول ریاست کا قیام عمل میں نہ آجائے۔
ویبنار میں پاکستان کی فلسطین سے متعلق پالیسی پر بات کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے لیے پاکستان، اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں سمیت بین الاقوامی قوانین کے ساتھ دو ریاستی حل کا حامی ہے جبکہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور بین المقدس کے بطور دارالحکومت فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔
اس معاملے پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کرلیں تو مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑ دینا ہوگا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے، ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے بارے میں ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے، میرا ضمیر کبھی بھی فلسطینیوں کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔
عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب پر امریکی دباؤ کے باوجود ریاض نے اپنے اہم علاقائی اتحادی (یو اے ای) کے نقش قدم پر چلنے کا امکان ظاہر نہیں کیا۔
سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کر سکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کر دے۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات نے 15 اگست 2020 کو اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔بعد ازاں کئی دیگر خلیجی ممالک نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔


مشہور خبریں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ، وکلا کی منگل کو ملاقات کرانے کا حکم
?️ 8 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیملی اور وکلا کی
نومبر
اسرائیل ونزوئلا میں کیا کر رہا ہے؟
?️ 16 دسمبر 2025سچ خبریں:اسرائیل نے امریکہ کی طرف سے ونزوئلا پر حملے کی حمایت
دسمبر
امریکی اور برطانوی جنگی طیاروں کا یمن کی فضائی حدود سے فرار
?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں:یمن کی مسلح افواج نے ایک منفرد کارروائی کرتے ہوئے امریکی
دسمبر
غزہ کے 40 ہزار سے زائد بچے موت کے خطرے سے دوچار ہیں
?️ 28 جولائی 2025سچ خبریں: فلسطینی حکومت کے میڈیا آفس نے اعلان کیا کہ غزہ
جولائی
ایران کی اسٹریٹجک برتری؛ امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کا تجزیاتی جائزہ
?️ 29 جون 2026سچ خبریں:تجزیے کے مطابق ایران اور امریکہ کے حالیہ مفاہمتی معاہدے نے
جون
اسلامی جہاد کا مسجد اقصیٰ کے خلاف صیہونی حکومت کی بڑھتی ہوئی تجاوزات پر انتباہ
?️ 5 مئی 2026 سچ خبریں: فلسطینی تحریک اسلامی جہاد نے مسجد اقصیٰ کے خلاف صیہونی
مئی
تائیوان میں شدید زلزلہ؛ امریکہ اور جاپان نے سونامی کی وارننگ جاری کی
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں: جہاں تائیوان کو لے کر مغرب اور چین کے درمیان
ستمبر
صیہونیوں کی طرف سے جنگ بندی کی شرائط کی عدم تعمیل
?️ 27 فروری 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے
فروری