ایران کی اسٹریٹجک برتری؛ امریکہ کے ساتھ حالیہ معاہدے کا تجزیاتی جائزہ

اسٹریٹجک

?️

سچ خبریں:تجزیے کے مطابق ایران اور امریکہ کے حالیہ مفاہمتی معاہدے نے ظاہر کیا ہے کہ تہران نے اپنی اسٹریٹجک طاقت اور سفارتی مہارت کے ذریعے خطے میں برتری حاصل کر لی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت سے متعلق تجزیوں میں یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ واشنگٹن جسے اپنی فتح قرار دے رہا ہے، دراصل تہران کی اسٹریٹجک برتری کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

تنقیدی رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ کوئی مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ مستقبل کے معاہدے کا ابتدائی فریم ورک ہے، جس میں اصل شرائط بعد کے مذاکرات میں طے ہوں گی۔ اس میں ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہے، جبکہ اس کے بدلے میں امریکہ کو ایرانی بندرگاہوں پر پابندیوں میں نرمی کرنا ہوگی۔

تجزیے کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو ایک اہم سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا، جبکہ واشنگٹن ابتدا میں فوجی برتری کے دعووں کے ساتھ میدان میں آیا تھا۔

یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ ایران نے نہ صرف میدان جنگ بلکہ سفارت کاری میں بھی اپنی برتری ثابت کی ہے۔

تجزیے میں 2015 کے جوہری معاہدے اور موجودہ مذاکرات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اوباما دور میں مذاکرات میں متعدد عالمی طاقتیں شامل تھیں، جبکہ اس وقت کی امریکی ٹیم زیادہ تکنیکی مہارت رکھتی تھی۔ اس کے برعکس موجودہ مذاکرات زیادہ تر سیاسی نوعیت کے ہیں۔

اوباما دور کی پالیسیوں میں یہ سبق شامل تھا کہ احترام اور مکالمہ زیادہ مؤثر ہے، جبکہ موجودہ امریکی پالیسی سخت بیانیے اور دباؤ پر مبنی رہی ہے، جس کے نتیجے میں ایک کمزور اور غیر مستحکم مفاہمت سامنے آئی ہے۔

تجزیے کے مطابق ایران نے اپنی جغرافیائی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستے کے معاملے میں۔

سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ موجودہ معاہدہ محض مذاکرات کی ایک دستاویز ہے، نہ کہ مکمل امن معاہدہ، اور اس کی کمزوری کی ایک وجہ سیاسی دباؤ اور سفارتی غلط حکمت عملی ہے۔

آخر میں تجزیہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ایران نے اس عمل میں ایک علاقائی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے، جبکہ امریکہ کو زیادہ مالی اور سیاسی اخراجات کے باوجود محدود نتائج حاصل ہوئے ہیں، جو خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے۔

مشہور خبریں۔

  کورونا کی چوتھی لہر کے پیش نظر  پابندیوں کا عندیہ

?️ 15 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ملک

عراق میں امریکی فوجی رسد کے قافلے پر حملہ

?️ 14 دسمبر 2021سچ خبریں:عراقی میڈیا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح عراق

84% عرب عوام اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خلاف ہیں:صیہونی ویب سائٹ

?️ 11 جنوری 2023سچ خبریں:14عرب ممالک میں کیے جانے والے سروے کے مطابق ان ممالک

دو سال بعد بھی حماس کی عملیاتی صلاحیت برقرار؛ صہیونی فوجی افسر کا اعتراف

?️ 10 فروری 2026سچ خبریں:صہیونی فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے اعتراف کیا ہے کہ

ضلع کرم میں جنگ بندی کے بعد عارضی طور پر امن قائم

?️ 2 دسمبر 2024ضلع کرم: (سچ خبریں) ضلع کرم میں گزشتہ ہفتے ضلعی انتظامیہ کی

کیا صہیونی ایرانی حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں؟ صیہونی تھنک ٹینک کیا کہتے ہیں؟

?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں: ایک صہیونی تھنک ٹینک نے ایرانی معاشرے کی بعض خصوصیات

راولپنڈی میں نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں، ضلع 17 بلدیاتی اداروں میں تقسیم

?️ 10 مارچ 2026راولپنڈی (سچ خبریں) راولپنڈی میں نئے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں عروج پر

واشنگٹن اور برسلز کی بالادستی کا دور ختم

?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: روسی ڈوما کے سربراہ ویچسلاو ویلوڈن نے پیر کو ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے