پائیداری اور مالیاتی استحکام کو ایک دوسرے کا معاون بنایا جانا ناگزیر ہے، مصدق ملک

?️

نیروبی، کینیا: (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے منصفانہ مالیاتی بہاؤ، مضبوط بین الاقوامی تعاون اور ذمہ دار نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیداری اور مالیاتی استحکام کو ایک دوسرے کا معاون بنایا جانا ناگزیر ہے۔وہ ہفتہ کواقوامِ متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی کے موقع پر ماحولیات اور عالمی مالیاتی استحکام سے متعلق اعلیٰ سطحی قیادت مکالمے میں گفتگو کر رہے تھے۔

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں اقوامِ متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی قیادت مکالمے میں شرکت کی جس کا عنوان تھا”ماحولیاتی زوال سے نمٹنا عالمی مالیاتی نظام کے مستقبل کے لیے کیوں ناگزیر ہے “۔

اس اعلیٰ سطحی مکالمے میں عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں، مالیاتی ریگولیٹرز اور ماہرین نے شرکت کی جہاں حکومتوں کی جانب سے اپنائے جانے والے اُن ہمہ گیر نظاماتی طریقۂ کار پر غور کیا گیا جن کے ذریعے نجی مالیاتی وسائل کو ایسے راستوں کی جانب موڑا جا رہا ہے جو معاشی اور مالیاتی نظام کے استحکام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان، اراضی کی زبوں حالی، آلودگی اور فضلے جیسے مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں۔

مباحثے کے دوران پالیسی ہم آہنگی، مؤثر ضابطہ جاتی فریم ورکس اور حکومت کے تمام شعبوں پر مشتمل نقطۂ نظر کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تاکہ پائیدار مالیات کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ اس موقع پر نجی سرمایہ کاری کو اعلیٰ اثر رکھنے والے شعبوں کی پائیدار منتقلی کے لیے متحرک کرنے اور مالیاتی فیصلوں میں ماحولیاتی خطرات کو شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

اپنی گفتگو میں ڈاکٹر مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ ماحولیاتی زوال عالمی مالیاتی نظام کے لیے سنگین نظاماتی خطرات پیدا کر رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی اخراج میں ان کا حصہ نہایت کم ہے، انہیں لچک پیدا کرنے اور ترقیاتی کامیابیوں کے تحفظ کے لیے منصفانہ، مؤثر اور قابلِ رسائی موسمیاتی مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے منصفانہ مالیاتی بہاؤ، مضبوط بین الاقوامی تعاون اور ذمہ دار نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیداری اور مالیاتی استحکام کو ایک دوسرے کا معاون بنایا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے موسمیاتی لچک پر مبنی ترقی کے فروغ اور ماحول دوست مالی نظام کی تشکیل کے لیے عالمی کوششوں میں پاکستان کے مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

مشہور خبریں۔

برطانوی میڈیا کا دعویٰ: پیوٹن نے جنگ کا خاتمہ یوکرین کے ڈونیٹسک سے انخلاء سے مشروط کیا

?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: فاینینشل ٹائمز اخبار نے دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر

اختلاف رائے کو جابرانہ ہتھکنڈوں سے دبانا جمہوری اقدار کی سنگین پامالی ہے، میرواعظ

?️ 21 نومبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

وہ جرنیل جو یوکرین میں جنگ ختم کر سکتے ہیں

?️ 5 فروری 2024سچ خبریں: یوکرین کے سابق صدر کے مشیر کا خیال ہے کہ

امریکہ نے غزہ جنگ بندی کی قرارداد کو ایک بار پھر ویٹو کیا

?️ 21 نومبر 2024سچ خبریں: امریکہ نے ایک اور مسودہ قرارداد کو ویٹو کر دیا

غزہ جنگ بندی نسل کشی کے خاتمے کی جانب ایک قدم ہونا چاہیے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

?️ 9 اکتوبر 2025سچ خبریں: عفو انٹرنیشنل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے زور دیا ہے

اسرائیل کے 2026 کے بجٹ پر ایک نظر؛ عوامی خرچ نیتن یاہو کے اقتدار میں رہنے کی خدمت کرتا ہے

?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں: اسرائیل کا 2026 کا بجٹ معاشی منصوبے سے زیادہ جنگ

اگر ہمیں معاشی ترقی کرنی ہے تو سیاسی استحکام لانا پڑے گا، شہباز شریف

?️ 12 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) مسلم لیگ(ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز

صیہونی حکومت کی درندگی پر ممالک کی خاموشی انسانیت پر دھبہ

?️ 21 دسمبر 2023سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے صدر کے عظیم ثقافتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے