?️
اسلام آباد(سچ خبریں) یورپی یونین کی خارجہ امور کمیٹی کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان توہین رسالت سے متعلق قوانین کے حوالے سے یورپی پارلیمان میں منظور کردہ قرارداد پر مایوس ہوا ہے ان کا کہنا تھا کہ یورپی پارلیمان میں ہونے والا اقدام توہین رسالت کے قوانین سے متعلق ناسمجھی اور پاکستان میں اس سے منسلک مذہبی جذبات سے پوری واقفیت نہ ہونے کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں پیغمبر اسلامﷺ کی ذات اور دیگر مقدس شعائر و علامات سے وابستہ مذہبی جذبات کے ادراک کی ضرورت ہے، کسی بھی اور جمہوری اور آزاد معاشرے کی طرح ہماری اظہار رائے کی اپنی اقدار ہیں تاہم اس حق کا دوسروں کے مذہبی احساسات اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ دانستہ اشتعال بھڑکانے اور اکسانے، نفرت پھیلانے اور تشدد کی ہرگز اجات نہ دی جائے اور عالمگیر سطح پر اسے قانون کے خلاف قرار دینا چاہئے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہماری حکومت نے یورپ میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور قرآن پاک کی بے حرمتی سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے اور حالیہ رپورٹس کے بعد بنیاد پرست گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا غیر ملکیوں اور اسلاموفوبیا کے خلاف بڑھتی ہوئی لہر کا مشاہدہ کررہی ہے، ہمیں مذہب یا عقائد کی بنیاد پر عدم برداشت، اشتعال انگیزی اور تشدد پھیلانے والوںکے خلاف مشترکہ عزم دکھانا ہوگا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی قانون سازی کی گئی ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں وفاقی کابینہ نے صحافیوں اور میڈیا کے تحفظ اور جبری گمشدگیوں کے انسداد کا (فوجداری قانون ترمیمی) بل منظور کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم دنیا کے معاشی تعاون میں شمولیت چاہتے اور امن و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں، ہماری توجہ جیوپالیٹیکس سے جیواکنامکس کی طرف بدل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 22 کروڑ افراد کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے جہاں 30 سال سے کم عمر کے 60 فیصد افراد بستے ہیں اور پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کے لاتعداد مواقع پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہ معاشی سلامتی کے بیچ میں پاکستان کی توجہ مندرجہ ذیل اقدامات پر ہے:
(i) رابطوں کے ذریعے وسطی و جنوبی ایشیاءاور مشرق وسطی سے تجارت، ٹرانزٹ اور توانائی کے بہاؤ کا فروغ
(ii) ترقیاتی حکمت عملی کے طورپر معاشی بنیادوں کی فراہمی
(iii) داخلی اور خارجہ سطح پر امن کا قیام
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے علاقائی معاشی یکجائی اور خطے سے پار رابطے استوار کرنے کے لیے نہایت ناگزیر ہے، پاکستان مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ سے افغانستان میں لڑائی کا خاتمہ چاہتا ہے۔
ساتھ ہی ان کا کہ یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر مضبوطی سے کاربند ہے، بدقسمتی سے ہماری امن کے لیے کاوشوں کابھارت نے اسی جذبے سے جواب نہیں دیا۔


مشہور خبریں۔
آئی ایم ایف مذاکرات کا آخری مرحلہ، وزیر خزانہ کو اگلے ہفتے معاہدہ طے ہونے کی توقع
?️ 12 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان،
مارچ
شیخ رشید کی گرفتاری، سی پی او کا جواب مسترد، آر پی او راولپنڈی ذاتی حیثیت میں طلب
?️ 22 ستمبر 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم
ستمبر
شام کے تیل کے کنوؤں پر کن گروپوں کا کنٹرول ہوگا؟
?️ 9 دسمبر 2024سچ خبریں:شام میں دہشت گرد گروپوں کے حملوں کے پس منظر میں
دسمبر
ٹرمپ نے عراق کے نامزد وزیر اعظم کو امریکہ کے دورے کی دی دعوت
?️ 1 مئی 2026 سچ خبریں:عراق کے وزیراعظم مامور ڈاکٹر علی الزیدی نے اعلان کیا
مئی
سندھ کے تحفظات جائز ہیں، سکھر موٹروے کی تعمیر جلد شروع کریں گے، وزیراعظم کا وزیراعلیٰ کو جوابی خط
?️ 9 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد
اپریل
غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کے لئے صہیونی کی بہانہ تراشیاں شروع
?️ 15 اکتوبر 2025غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کرنے کے لئے صہیونی کی بہانہ تراشیاں
اکتوبر
خدا جنگ بھڑکانے والوں کے ساتھ نہیں:پوپ کا امریکہ پر طنز
?️ 31 مارچ 2026سچ خبریں:پوپ لیو چہاردہم نے جنگ کے جواز کے لیے خدا کے
مارچ
لبنان میں جنگ بندی کا کیا مطلب ہے؟ نیتن یاہو کے لیے کارنامہ یا مجبوری؟
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی
نومبر