ماورائے عدالت قتل آئین اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسٹس اطہر من اللہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے تربت میں نوجوان حیات کو والدین کے سامنے گولیاں مار کر قتل کرنے والے ایف سی اہلکار کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا اقلیتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اپیل خارج کردی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہےکہ ماورائے عدالت قتل آئین اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ ماورائے عدالت حراستی قتل کو فَساد فِی الارض قرار دے چکی، ایف سی اہلکار کا جرم بزدلانہ، بہیمانہ اور عوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ہے، قانون نافذ کرنے والا اہلکار شہری کا قاتل بنے تو سب سے سخت سزا لازم ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اقلیتی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ یونیورسٹی کے طالبعلم حیات کو ایف سی اہلکار نے حراست میں قتل کیا، تربت میں ماں باپ کے سامنے نوجوان کو بالوں سے گھسیٹ کر فائرنگ کرکے مارا گیا، ملزم شادی اللہ نے سرکاری بندوق سے مقتول کی پیٹھ میں 8 گولیاں ماریں۔

فیصلے میں کہا گیا ہےکہ والدین کی دہائیاں سننے کے باوجود فائرنگ جاری رکھی گئی، سپریم کورٹ ماورائے عدالت حراستی قتل کو فَساد فِی الارض قرار دے چکی، ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کی توثیق برقرار رکھی جاتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف سی اہلکار کا جرم بزدلانہ، بہیمانہ اور عوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ہے، قانون نافذ کرنے والا اہلکار شہری کا قاتل بنے تو سب سے سخت سزا لازم ہے،ایف سی کی ذمہ داری عوام کا تحفظ ہے، شہریوں پر گولیاں چلانا نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کا یہ عذر قابل قبول نہیں کہ دھماکے میں ساتھیوں کے زخمی ہونے پر غصے آیا تھا،ایسے واقعات میں نرمی یا ہمدردی معاشرے میں لاقانونیت کو بڑھاتی ہے، ماورائے عدالت قتل آئین اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے اعترافی بیان اور فرانزک شواہد سے جرم ثابت ہوا، ایسے مجرم معاشرے اور اداروں دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم شادی اللہ نے 2020 میں حیات نامی نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد گولیاں ماری تھیں، ایف سی کے قافلے پر آئی ای ڈی حملہ ہوا تو مقتول حیات والدین کو کھانا دینے کھیتوں میں جا رہا تھا، دھماکہ سن کر بھاگتے ہوئے حیات کو ایف سی اہلکار نے حراست میں لیا اور قتل کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دو ایک کے تناسب سے اکثریتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت کے مجرم کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا، جسٹس اطہر من اللہ نے اقلیتی فیصلہ جاری کیا۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کی شیرین ابو عاقلہ کے قتل کے ذمہ داری قبول نہ کرنے پر قطر کی مذمت

?️ 6 نومبر 2022سچ خبریں:قطر کی حکومت نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے الجزیرہ کی

ملاکنڈ میں چار روزہ آپریشن میں 9 خوارج ہلاک اور 8 گرفتار کرلیے گئے، آئی ایس پی آر

?️ 20 جولائی 2025ملا کنڈ: (سچ خبریں) خیبرپختونخو اکے ضلع ملاکنڈ میں 16 تا 20

دنیا ایران کے ساتھ تعلقات کی تلاش میں؛بائیڈن غور کریں:امریکی تھنک ٹینک

?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:ایک امریکی تجزیاتی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ موجودہ امریکی

کیا ترکی اور عراق کے تعلقات میں بہتری آرہی ہے؟

?️ 3 اپریل 2024سچ خبریں: ترک ذرائع نے 12 سال بعد اس ملک کے صدر

شام کے شہر تدمر پر صیہونیوں کا فضائی حملہ

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں:شامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اس ملک کا فضائی

صیہونی وزیر اعظم کے گھر کے سامنے مخالفین کا مظاہرہ

?️ 19 دسمبر 2021سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے مخالفین نے ان کی رہائش گاہ

شام سے واشنگٹن کا انخلاء

?️ 5 ستمبر 2022سچ خبریں:   حالیہ مہینوں اور خاص طور پر گزشتہ دو ہفتوں کے

امریکہ میں فائرنگ کے مزید واقعات؛7 افراد ہلاک

?️ 9 جون 2022سچ خبریں:امریکہ میں دوسروں کی زندگیاں چھیننے کیلئے بنایا جانے والا اسلحہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے