?️
اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف اور ان کے بعد آنے والے تمام چیف ایگزیکٹوز بشمول عمران خان اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کو جبری گمشدگیوں سے متعلق پالیسی کی غیر اعلانیہ طور پر منظوری دینے پر نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی مدثر محمود نارو اور دیگر 5 افراد کی گمشدگی سے متعلق کیس میں اتوار کو 15 صفحات پر مشتمل حکم جاری کیا تھا اور ان کی درخواستیں حتمی دلائل کے لیے مقرر کی گئی تھیں لیکن وفاقی حکومت نے سماعت ملتوی کرنےکی درخواست کی۔
رانا محمد اکرام بنام وفاق پاکستان کیس میں چیف جسٹس نے کہا کہ ‘ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف اور تمام جانشین چیف ایگزیکٹوز یعنی سابقہ اور موجودہ وزرائے اعظم اپنے متعلقہ حلف نامے جمع کرائیں گے’۔
انہوں نے ہدایت کی کہ حلف ناموں میں بتایا جائے کہ عدالت ان کے خلاف غیر اعلانیہ طور پر جبری گمشدگیوں سے متعلق پالیسی کی منظوری اور اس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص مسلح افواج کی شمولیت کی اجازت دے کر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے پر آئین کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں کارروائی کا حکم کیوں نہیں دے سکتی۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے اپنی سوانح حیات ‘ان دی لائن آف فائر’ میں واضح اعتراف کیا ہے کہ ’جبری گمشدگیاں‘ ریاست کی غیر اعلانیہ پالیسی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج نے ملک کی سلامتی اور سالمیت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور دیتے رہیں گے اور ہر شہری کو ان کا احترام کرنا چاہیے ورنہ ملک اور اس کے عوام کی سلامتی اور سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔
حکم میں مزید کہا گیا کہ ‘تاہم انسانی حقوق اور شہریوں کی آزادی کی خلاف ورزی کے مترادف کارروائیوں میں مسلح افواج کے ملوث ہونے یا اس کا تصور بھی قانون کی حکمرانی کو کمزور اور کمزور کرتا ہے’۔
جسٹس من اللہ نے کہا کہ اگر لاپتا افراد کو بازیاب نہیں کیا گیا اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے موثر اور قابل عمل اقدامات/فیصلے کیے گئے تو موجودہ اور سابق وزرائے داخلہ ذاتی طور پر پیش ہو کر وضاحت کریں گے کہ درخواستوں کا فیصلہ کیوں نہیں کیا جا سکتا اور ان پر معقول جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے کیوں کہ درخواست گزاروں کو ان کی شکایات سے کے حوالے سے ردعمل اور ہمدردی کی کمی کی وجہ سے ناقابل تصور اذیت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ‘اٹارنی جنرل عدالت کو مطمئن کریں گے کہ مستقبل میں مبینہ طور پر گمشدگیوں کی صورت میں وفاق اور متعلقہ صوبوں کے چیف ایگزیکٹوز کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم کیوں نہیں دیا جاسکتا‘۔
عدالت نے لاپتا افراد کا معاملہ مؤثر طور پر اجاگر نہ کرنے پر میڈیا کے کردار پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا لاپتا افراد کے اہل خانہ کی ناقابل تصور آزمائش اور اذیت کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ لاپتا افراد کے معاملے میں یا تو ریاستی طاقت کے غلط استعمال اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی بدترین شکل کو نظر انداز کرنے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر اسے ترجیح نہیں سمجھتے۔
عدالت نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کے کردار پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور متعلقہ صوبوں کی قانون ساز اسمبلیاں ریاست کے سب سے اہم اور اہم ادارے ہیں لیکن ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں جو اس بات کی نشاندہی کرسکے کہ انہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایک فعال کردار اپنایا۔


مشہور خبریں۔
امریکہ میں 237,000 سرکاری ملازمین کی ذاتی معلومات کا افشاء
?️ 15 مئی 2023سچ خبریں:باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں
مئی
انسانی حقوق کمیشن کا قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف ایک قدم
?️ 13 جولائی 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بدھ کے روز جنیوا
جولائی
سندھ طاس معاہدہ غیر سیاسی، یکطرفہ کارروائی کی گنجائش نہیں، پاکستان کی امیت شاہ کے بیان پر تنقید
?️ 22 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ
جون
ندا یاسر کا پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر شکوہ
?️ 6 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) معروف مارننگ شو ہوسٹ ندا یاسر نے پرانی ویڈیو
ستمبر
اردن میں اسرائیل کے حمایتی کارفور کے اسٹورز بند
?️ 7 نومبر 2024سچ خبریں:عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اردن میں
نومبر
یورپ میں بڑی جنگ کی پیشین گوئی
?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: فرانس کی قومی اسٹریٹجک دستاویز 2025 میں یورپ میں 2030
جولائی
امریکی وزارتِ انصاف کے کارکن ٹرمپ کے عتاب کا شکار
?️ 13 جولائی 2025 سچ خبریں:امریکی وزارتِ انصاف نے 20 سے زائد کارکنوں کو 6
جولائی
ترکی کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر زور
?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں: ترک صدر رجب طیب اردوغان نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف
دسمبر