?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی احتساب (ترمیمی) بل، 2023 پارلیمنٹ کو دوبارہ غور کرنے کے لیے واپس بھجوا دیا۔
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مذکورہ بل آئین کی دفعہ 75 ایک (بی) کے تحت پارلیمان کو واپس بھجوایا۔
بل واپس بھجواتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں پہلے سے کی گئی ترامیم کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
لہٰذا ایک زیرالتوا معاملےکے اثرات پرغور کیے بغیر قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں مزید ترامیم پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔
صدر نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ بل اور وزیرِ اعظم کی ایڈوائس میں اس پہلو کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
خیال رہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئین کے آرٹیکل75 کے تحت نیب ترمیمی بل 2023 توثیق کے لیے صدر مملکت کو بھجوایا تھا۔
خیال رہے کہ 20 اپریل کو احتساب قانون میں ترمیم کے لیے ایک اور بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجے بغیر سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا جسے اپوزیشن نے ’این آر او-2 کا پارٹ-2‘ قرار دیا گیا۔
یہ بل نہ صرف چیئرمین نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم کے کرپشن کیسز متعلقہ ایجنسی، اتھارٹی یا محکمے کو منتقل کرنے کا اختیار دیتا ہے بلکہ ایسی زیر التوا انکوائریوں اور تحقیقات کو بند کرنے کا بھی اختیار دیتا ہے جن پر چیئرمین نیب کی نظر میں کیس نہیں بنتا۔
قومی احتساب (ترمیمی) بل، 2023 میں نیب آرڈیننس کی کئی شقوں میں ترامیم کی درخواست کی گئی ہے، جن میں سے سیکشن 4 اور 6 میں ترمیم کی گئی ہے۔
نیب قانون کے سیکشن 4 میں ترمیم میں کہا گیا کہ ’اگر چیئرمین اس بات سے مطمئن ہیں کہ کسی ملزم کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بنتا اور تفتیش بند کی جا سکتی ہے، تو اگر ملزم حراست میں ہے تو وہ اس معاملے کو منظوری اور ملزم کی رہائی کے لیے عدالت کو بھیجے گا۔
بل میں مزید کہا گیا کہ ’جہاں چیئرمین کی رائے ہو کہ کسی ملزم کے خلاف فی الوقت کسی دوسرے قانون کے تحت بادی النظر میں مقدمہ بنایا گیا ہے، تو وہ اس معاملے کو متعلقہ ایجنسی، اتھارٹی یا محکمے کو بھیجے گا‘۔
نیب آرڈیننس کے سیکشن 6 میں شامل ایک شق کے تحت جب چیئرمین نیب کا عہدہ خالی ہو جائے یا چیئرمین غیر حاضر ہو یا اپنے دفتر کے فرائض سرانجام دینے سے قاصر ہو تو ان کی جگہ ڈپٹی چیئرمین خدمات سرانجام دے گا اور ڈپٹی چیئرمین کی غیر موجودگی میں وفاقی حکومت نیب کے سینئر افسران میں سے کسی ایک کو قائم مقام چیئرمین مقرر کرے گی۔
بل کے اغراض و مقاصد میں لکھا گیا تھا کہ ’قومی احتساب آرڈیننس اور قومی احتساب (دوسری ترمیم) ایکٹ 2022 میں کی گئی حالیہ ترامیم کی وجہ سے ان کیسز کو احتساب عدالتوں سے دیگر عدالتوں، ٹربیونلز اور فورمز میں منتقل کرنے میں کچھ قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں جو نیب آرڈیننس کے دائرہ کار یا دائرہ اختیار میں نہیں آتے‘۔
مزید کہا گیا کہ ’پراسیکیوٹر جنرل اکاؤنٹیبلٹی کے اقدام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کے بعد نیب آرڈیننس میں کچھ مزید ترامیم فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ احتساب عدالتوں کو مذکورہ مقدمات کی منتقلی کے لیے قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے‘۔


مشہور خبریں۔
بنوں، لکی مروت میں پولیس، سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، 5 خوارج ہلاک
?️ 15 نومبر 2025بنوں : (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں
نومبر
اسلامو فوبیا سے متعلق وزیر اعظم کی کاوشیں رنگ لانے لگیں
?️ 30 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں)عالمی برادری کو اسلامو فوبیا سے نکالنے کی وزیر اعظم
جنوری
لاوروف کی شاہ محمود قریشی کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر بات چیت
?️ 22 اگست 2021ماسکو( سچ خبریں) پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ٹیلی
اگست
نعمان اعجاز کا نئے ڈرامے ‘شرپسند’ کا ٹیزر جاری
?️ 21 ستمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) مقبول اداکار نعمان اعجاز کے نئے ڈرامے ‘شرپسند’ کا
ستمبر
پاکستان کا افغانستان سے سفارتخانوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کا مطالبہ
?️ 3 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد
دسمبر
شام کی سلامتی میں کون خلل ڈال رہا ہے؟
?️ 27 جون 2023سچ خبریں:شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے
جون
60% امریکی بائیڈن اور ٹرمپ کے 2024 کے انتخابات میں حصہ لیے کے مخالف
?️ 22 جولائی 2022سچ خبریں:ایک سروے کے مطابق 60 فیصد امریکی 2024 کے صدارتی انتخابات
جولائی
عرب دنیا کے ساتھ شام کے تعلقات کی بحالی؛ دمشق کو الگ تھلگ کرنے کے منصوبے کی ناکامی
?️ 22 مارچ 2024سچ خبریں: عرب دنیا کے ممالک کے ساتھ شام کے تعلقات کی
مارچ