?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) صحافتی تنظمیوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل مسترد کردیا اور اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے)، کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای)، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اور نیوز ڈائریکٹر (ایمنڈ) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) پر مشتمل صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔
جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت قومی اسمبلی سے مشاورت کے بغیر متنازع بل منظور کروا کر وعدہ خلافی کی مرتکب ہوئی ہے, اس بل کا محور صرف سوشل میڈیا نہیں بلکہ اس کا ہدف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی ہیں جس کا مقصد اختلاف رائے کو جرم بنا دینا ہے۔
جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اب بھی حکومت اگراسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنا چاہتی ہے تو سینیٹ میں اس متنازع بل کی منظوری کو مؤخر کیا جائے، بصورت دیگر جے اے سی اپنے احتجاجی لائحہ عمل پر عملدرآمد شروع کردے گی-
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق سینیٹ میں بل پیش ہونے کی صورت میں نہ صرف اجلاس کے موقع پر احتجاج کیا جائے گا بلکہ ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے گی۔
مزید بتایا گیا کہ اسلام آباد میں بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوگا، جس میں تمام صحافی تنظیمیں شریک ہوں گی، احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے لیے وکلا انسانی حقوق کی تنظیموں سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی حتمی منظوری کے بعد اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے وکلاسے مشاورت شروع کردی گئی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھر اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ صحافی تنظیمیں کسی قانون کے خلاف نہیں، لیکن مشاورت کے بغیر کی جانے والی قانون سازی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔
واضح رہے کہ آج قومی اسمبلی نے متنازع پیکا ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا۔
ایوان زیریں میں ترمیمی بل وفاقی وزیر رانا تنویر نے پیش کیا جبکہ صحافیوں اور اپوزیشن نے پیکا ترمیمی بل کے خلاف ایوان زیریں سے واک آؤٹ کیا تھا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ روز پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا جس کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی، جھوٹی خبر پھیلانے والے شخص کو 3 سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کے مطابق سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہو گا، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کیے جائیں گے۔
ترمیمی بل کے مطابق اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اور رجسٹریشن کی منسوخی، معیارات کے تعین کی مجاز ہو گی جب کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو یقینی بنائے گی۔
پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہوگی، سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کا متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں اتھارٹی کو درخواست دینے کا پابند ہو گا۔
ترمیمی بل کے مطابق اتھارٹی کل 9 اراکین پر مشتمل ہو گی، سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا ایکس آفیشو اراکین ہوں گے، بیچلرز ڈگری ہولڈر اور متعلقہ فیلڈ میں کم از کم 15 سالہ تجربہ رکھنے والا شخص اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا جاسکے گا، چیئرمین اور 5 اراکین کی تعیناتی پانچ سالہ مدت کے لیے کی جائے گی۔
حکومت نے اتھارٹی میں صحافیوں کو نمائندگی دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، ایکس آفیشو اراکین کے علاوہ دیگر 5 اراکین میں 10 سالہ تجربہ رکھنے والا صحافی، سافٹ وئیر انجینئر بھی شامل ہوں گے جب کہ ایک وکیل، سوشل میڈیا پروفیشنل نجی شعبے سے آئی ٹی ایکسپرٹ بھی شامل ہو گا۔
ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے وفاقی حکومت سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل قائم کرے گی، ٹربیونل کا چیئرمین ہائی کورٹ کا سابق جج ہو گا، صحافی، سافٹ ویئر انجینئر بھی ٹربیونل کا حصہ ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
ایران-امریکہ مذاکرات کا چوتھا راؤنڈ کی تاریخ
?️ 5 مئی 2025سچ خبریں: خبری ویب سائٹ آکسیوس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران
مئی
امریکی وزیر دفاع کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع؛ ہیگستھ پر پانچ الزامات
?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں: واشنگٹن میں جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں، امریکی ایوان
اپریل
روپے کی قدر میں بہتری
?️ 29 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹربینک مارکیٹ میں آج دن کے آغاز میں
ستمبر
بھارتی کسانوں کا بی جے پی کے خلاف بڑا اقدام، مودی حکومت کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوگیا
?️ 17 مارچ 2021نئی دہلی (سچ خبریں) بھارتی کسانوں نے بی جے پی کے خلاف
مارچ
اپوزیشن، حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے: وزیراعظم
?️ 4 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ مقصد اپنے
جون
یوٹیوب پر اشتہارات کو بلاک کرکے ویڈیوز دیکھنا ناممکن
?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں: مفت میں ویڈیوز تک رسائی دینے والی دنیا کی سب
نومبر
واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری۔
?️ 17 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ
مئی
ّکراچی یونیورسٹی حملے کے ماسٹر مائنڈ کی شناخت ہوگئی۔
?️ 5 جولائی 2022کراچی 🙁سچ خبریں)وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بتایا ہے کہ کراچی
جولائی