?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف دائر سائفر کیس میں آج گواہان کے بیانات عدالت میں قلم بند نہیں کیے جا سکے جب کہ ملزمان کے خاندان کے پانچ ممبران کو اجازت مل گئی ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر کیس کی سماعت کی جہاں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے اسپیشل پراسیکیوٹرز شاہ خاور ہوئے۔
ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج تین گواہان کے بیانات قلمبند ہونے تھے، لیکن وکلا صفائی کی عدم دستیابی کے باعث سماعت 14 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔
وکلا صفائی کی عدم دستیابی کے باعث گواہان کے بیانات قلمبند نہیں ہوئے۔
سائفر کیس کی سماعت میں آج کے بعد ملزمان کی فیملی کے پانچ ممبران کو اجازت مل گئی ہے، آئندہ سماعت پر چھ گواہان کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران بھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف کیس میں وزارت خارجہ کے تین گواہان کے بیانات عدالت میں قلم بند کیے گئے تھے۔
استغاثہ کی جانب سے وزارت خارجہ کے گواہان محمد نعمان، شمعون قیصر اور عمران ساجد کو بھی پیش کیا گیا تھا، تینوں گواہان نے اپنے بیان ریکارڈ کروائے جبکہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا کی جانب سے گواہان پر جرح کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے 30 ستمبر کو عدالت میں چالان جمع کرایا تھا جس میں مبینہ طور پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز 5 اور 9 کے تحت سائفر کا خفیہ متن افشا کرنے اور سائفر کھو دینے کے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔
ایف آئی اے نے چالان میں 27 گواہان کا حوالہ دیا، مرکزی گواہ اعظم خان پہلے ہی عمران خان کے خلاف ایف آئی اے کے سامنے گواہی دے چکے ہیں۔
اعظم خان نے اپنے بیان میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ عمران خان نے اس خفیہ دستاویز کا استعمال عوام کی توجہ عدم اعتماد کی تحریک سے ہٹانے کے لیے کیا جس کا وہ اُس وقت بطور وزیر اعظم سامنا کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ اس کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی 10 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، کیس کی گزشتہ سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی جس کے بعد انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
سائفر کیس سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی، اسی کیس میں سابق وزیر اعظم اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی 26 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔
پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس سائفر میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکا کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی ار) میں شاہ محمود قریشی کو نامزد کیا گیا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات 5 (معلومات کا غلط استعمال) اور 9 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں 7 مارچ 2022 کو اس وقت کے سیکریٹری خارجہ کو واشنگٹن سے سفارتی سائفر موصول ہوا، 5 اکتوبر 2022 کو ایف آئی اے کے شعبہ انسداد دہشت گردی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر اور ان کے معاونین کو سائفر میں موجود معلومات کے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرکے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر اپنے ذاتی مفاد کے حصول کی کوشش پر نامزد کیا گیا تھا۔
اس میں کہا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے معاونین خفیہ کلاسیفائیڈ دستاویز کی معلومات غیر مجاز افراد کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
سائفر کے حوالے سے کہا گیا کہ ’انہوں نے بنی گالا (عمران خان کی رہائش گاہ) میں 28 مارچ 2022 کو خفیہ اجلاس منعقد کیا تاکہ اپنے مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے سائفر کے جزیات کا غلط استعمال کرکے سازش تیار کی جائے‘۔
مقدمے میں کہا گیا کہ ’ملزم عمران خان نے غلط ارادے کے ساتھ اس کے وقت اپنے پرنسپل سیکریٹری محمد اعظم خان کو اس خفیہ اجلاس میں سائفر کا متن قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے ذاتی مفاد کے لیے تبدیل کرتے ہوئے منٹس تیار کرنے کی ہدایت کی‘۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ وزیراعظم آفس کو بھیجی گئی سائفر کی کاپی اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے جان بوجھ کر غلط ارادے کے ساتھ اپنے پاس رکھی اور وزارت خارجہ امور کو کبھی واپس نہیں کی۔
مزید بتایا گیا کہ ’مذکورہ سائفر (کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویز) تاحال غیر قانونی طور پر عمران خان کے قبضے میں ہے، نامزد شخص کی جانب سے سائفر ٹیلی گرام کا غیر مجاز حصول اور غلط استعمال سے ریاست کا پورا سائفر سیکیورٹی نظام اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کے خفیہ پیغام رسانی کا طریقہ کار کمپرومائز ہوا ہے‘۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ملزم کے اقدامات سے بالواسطہ یا بلاواسطہ بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچا اور اس سے ریاست پاکستان کو نقصان ہوا۔
ایف آئی اے میں درج مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ’مجاز اتھارٹی نے مقدمے کے اندراج کی منظوری دے دی، اسی لیے ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز 5 اور 9 کے تحت تعزیرات پاکستان کی سیکشن 34 ساتھ مقدمہ سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشنل خفیہ معلومات کا غلط استعمال اور سائفر ٹیلی گرام (آفیشل خفیہ دستاویز)کا بدنیتی کے تحت غیرقانونی حصول پر درج کیا گیا ہے اور اعظم خان کا بطور پرنسپل سیکریٹری، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور دیگر ملوث معاونین کے کردار کا تعین تفتیش کے دوران کیا جائے گا‘۔


مشہور خبریں۔
کراچی سمیت سندھ بھر میں آج سے بارش کی پیشگوئی
?️ 7 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت صوبے بھر میں گرد
جولائی
آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوا: خواجہ آصف
?️ 14 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی
نومبر
صدر عارف علوی کا نگراں وزیر اعلی کے تقرر کے لیے عمران خان اور شہاز شریف کو خط
?️ 4 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگراں وزیر اعظم کے
اپریل
نظام شمسی میں موجود 2 سیاروں کے اصل رنگ سامنے آگئے
?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں: برطانیہ کے ماہرین فلکیات کی سربراہی میں کی گئی تحقیق
جنوری
آئی ایم ایف کے اثرات کے باعث اسٹیک ہولڈرز کو صارفین کیلئے بجٹ غیر سازگار ہونے کی توقع
?️ 9 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) 38 فیصد افراط زر اور غیر یقینی شرح تبادلہ
جون
ایرانی صدر کی وفات پر پاکستان کا ایک روزہ سوگ کا اعلان
?️ 20 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی کے
مئی
پنجاب: عمران خان کو ملنے والی دھمکیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ
?️ 23 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پنجاب کی نگراں حکومت نے پی ٹی آئی کے
مارچ
اسرائیل،فرانس اور امریکہ مثلث کی لبنان کو خانہ جنگی میں ڈھکیلنے کی کوشش
?️ 3 اگست 2021سچ خبریں:عربی زبان کے ایک ذرائع ابلاغ نے لبنان میں خانہ جنگی
اگست