?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) نئے آرمی چیف کے انتخاب سے قبل مشاورت کا بار بار مطالبہ کرنے کے بعد اب سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں شہباز شریف کی زیر قیادت اتحادی حکومت کی جانب سے اس اہم تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر ایک نئے مؤقف کا اظہار کیا۔ عمران خان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر ان سے یا ان کی پارٹی سے مشاورت کی جائے، عمران خان نے جواب دیا کہ ’نہیں، وہ جسے چاہیں مقرر کرسکتے ہیں‘۔
اس سے قبل گزشتہ کئی ماہ کے دوران متعدد عوامی جلسوں اور ریمارکس میں عمران خان نے کہا تھا کہ اعلیٰ فوجی عہدے پر اہم تعیناتی کے لیے شریف اور زرداری نااہل ہیں کیونکہ اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے چوروں کو اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔
گزشتہ روز ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دی جا رہی ہے، جواب میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’یہ ایک ارب ڈالر کا سوال ہے‘۔
عمران خان نے انکشاف کیا کہ احتساب کے معاملے پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہو ئے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک کو ہموار انداز میں چلانا ہے تو وزیر اعظم کو بااختیار ہونا چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ ’مجھے فوج سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، مسائل صرف احتساب کے معاملات پر پیدا ہوئے، تاہم فوج مثبت کردار ادا کر سکتی ہے، میرا ماننا ہے کہ اگر ملک کو ہموار انداز میں چلانا ہے تو وزیر اعظم کو انتظامیہ کے ساتھ اقتدار بھی سونپا جانا چاہیے‘۔
عمران خان نے اس خیال کا اظہار کیا کہ مخلوط حکومت کو بہت سے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، اتحاد کے نتیجے میں بننے والی حکومت میں وزیر اعظم کو بلیک میل کیا جا سکتا ہے، دو تہائی اکثریت وزیر اعظم کو طاقت دیتی ہے‘۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایک سینیئر رہنما نے بھی اس تاثر کی تصدیق کی کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن لیڈروں کے احتساب سے ہٹ کر معیشت کو ٹھیک کرنے پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹ کر اپنے لیے مصیبت کو دعوت دی۔
عمران خان نے خود پر جان لیوا حملے کی کوشش کے خلاف درج ایف آئی آر پر عدم اطمینان کا اظہار کیاکیونکہ اس ایف آئی آر میں ان کی جانب سے نامزد کردہ کسی بھی مشتبہ شخص کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’مضحکہ خیز ایف آئی آر کے معاملے پر میرے وکیل میرا مؤقف پیش کریں گے‘۔


مشہور خبریں۔
مصر اور سعودی کی جانب سے رفح شہر کے خلاف اسرائیل کی سخت مخالفت
?️ 22 فروری 2024سچ خبریں:مصری وزارت خارجہ نے غزہ کی پیش رفت کے حوالے سے
فروری
صیہونی کس کی شے پر خون کی ہولی کھیل رہے ہیں؟
?️ 21 جون 2023سچ خبریں:شام کی وزارت خارجہ نے صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی قوم
جون
کیا اسرائیلی فوج حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہے؟
?️ 31 جنوری 2024سچ خبریں: Yedioth Aharonot اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا
جنوری
بھارتی ڈیموں سے پانی کی آمد، سیلاب کی شدت بڑھنے کا خطرہ
?️ 4 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) بھارت کے ڈیموں سے پانی کے مسلسل اخراج سے
ستمبر
حلف نہ لیا گیا تو ممبران عدالت جائیں گے۔ گورنر خیبرپختونخوا
?️ 19 جولائی 2025پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ
جولائی
چیٹ جی پی ٹی کا سرچ انجن گوگل کی طرح استعمال کرنا ممکن
?️ 7 فروری 2025سچ خبریں: آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے
فروری
مزاحمتی محور نے تل ابیب پر دباؤ کیسے ڈالا؟
?️ 14 جولائی 2025سچ خبریں:مزاحمتی محور نے ایران اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی
جولائی
وزیر خارجہ کی سعودی ہم منصب سے ملاقات،مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال
?️ 8 مئی 2021ریاض (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سعودی وزیر خارجہ
مئی