?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے پہلے استعمال نہ کرنے (نو فرسٹ یوز) کی پالیسی پر عمل نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف پر زور دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز (سی آئی ایس ایس) میں یوم تکبیر کی یاد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دینے والے جنرل خالد احمد قدوائی نے کہا کہ پاکستان کے پاس نو فرسٹ یوز (این ایف یو) نہ کرنے کی پالیسی نہیں ہے، اور میں زور دے کر اسے دہراؤں گا کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی نہیں ہے۔
این ایف یو کسی ملک کے مؤقف کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اسے ایک یقین دہانی کے طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اس ملک کے جوہری ہتھیاروں کا مقصد ایٹمی جنگ لڑنا نہیں ہے۔
اسلام آباد نے روایتی طور پر نئی دہلی کے اعلان کردہ مؤقف کی وجہ سے این ایف یو پالیسی کے حوالے سے ابہام برقرار رکھا ہے ، اگرچہ پاکستانی حکمت عملی ساز ہمیشہ شکوک و شبہات کا شکار رہے ہیں اور بھارت کی پالیسی کو حقیقت سے زیادہ بیان بازی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
بھارتی ارادوں کے بارے میں شکوک و شبہات بھارت کے این ایف یو نظریے میں ابہام سے پیدا ہوتے ہیں، اس پالیسی میں ایسی شرائط شامل ہیں جو خطرات کے تحت جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں یا ان کے اتحادیوں کے خلاف جوہری حملوں کی اجازت دیتی ہیں، اس طرح کی مستثنیات نو فرسٹ یوز کے بنیادی اصول کو مجروح کرتے ہوئے مخصوص منظرناموں میں جوہری ہتھیاروں کو پہلے سے استعمال کرنے پر آمادگی کا اظہار کرتی ہیں۔
حال ہی میں بھارت کی نیوکلیئر پالیسی میں روایتی نو فرسٹ یوز کے مؤقف سے زیادہ جارحانہ جوہری پوزیشن کی طرف نمایاں تبدیلی آئی ہے، اپنی نو فرسٹ یوز پالیسی پر نظرثانی کے حوالے سے بھارت میں ہونے والی اس اندرونی بحث نے پاکستان کی فوجی قیادت کو جوابی اقدامات پر عمل درآمد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے کہا کہ بھارتی قیادت کے ذہن میں اس بات پر شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کی آپریشنل طور پر تیار جوہری صلاحیت ہر پاکستانی لیڈر کو آزادی، وقار اور جرات کے ساتھ بھارت کی آنکھ میں آنکھ ملا کر دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔
ان کا یہ بیان بھارتی انتخابات کے دوران پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں متنازع بات چیت کے پس منظر میں آیا ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حزب اختلاف بھارتی بلاک اور اس کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے اس موضوع کا فائدہ اٹھایا اور انہیں پاکستان کی جوہری صلاحیتوں سے خوفزدہ ہونے کے طور پر پیش کیا۔
مزید برآں، نریندر مودی نے کانگریس کے رہنما منی شنکر ایر کو جواب دیتے ہوئے، جنہوں نے تجویز کیا تھا کہ بھارت کو پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کا احترام کرنا چاہیے، بتایا کہ انہوں نے دسمبر 2015 میں لاہور کے دورے کے دوران پاکستان کی صلاحیتوں کا ذاتی طور پر جائزہ لیا تھا۔
جنرل خالد قدوائی نے بدھ کو سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے جوہری پروگرام کو مضبوط بنانے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کا اشارہ بھی دیا، انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں پیشرفت پاکستان کے قومی سلامتی میں مناسب طریقے سے اپنا راستہ بناتا رہے گا، اور ان سے فائدہ اٹھا کر جوہری پروگرام مزید مضبوط ہوگا۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کی فل سپیکٹرم ڈیٹرنس (ایف ایس ڈی) کی صلاحیت، عام طور پر کریڈیبل کم از کم ڈیٹرنس (سی ایم ڈی) کے بڑے فلسفے کے اندر رہتے ہوئے، مختلف قسم کے جوہری ہتھیاروں کی ایک مضبوط سہ فریقی خدمات کی انوینٹری پر مشتمل ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جوہری ہتھیار آرمی اسٹریٹجک فورس کمانڈ (اے ایس ایف سی) کے ساتھ زمین پر، نیول اسٹریٹجک فورس کمانڈ (این ایس ایف سی) کے ساتھ سمندر میں اور ایئر فورس اسٹریٹجک فورس کمانڈ (اے ایف ایس سی) کے ساتھ ہوا میں رکھے گئے۔
جنرل خالد قدوائی نے مزید کہا کہ بھارت کی ڈائنامک ریسپانس اسٹریٹجی (ڈی آر ایس) بھارت کے اسٹریٹجک اور آپریشنل آپشنز پر پاکستان کی مضبوط جوہری صلاحیت کی وجہ سے عائد حدود اور رکاوٹوں کی واضح عکاسی ہے، اور اسی وجہ سے، پاکستان کے اسٹریٹجک ہتھیار، خاص طور پر ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار (ٹی این ڈبلیو) امن کے ہتھیار ہیں۔
ایس پی ڈی کے آرمز کنٹرول اور تخفیف اسلحہ کے امور (اے سی ڈی اے) برانچ کے ڈائریکٹر جنرل، ریٹائرڈ بریگیڈیئر ظاہر کاظمی نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات اور پائیدار خطرات پر روشنی ڈالی، ابھرتے ہوئے خطرات میں نئی ٹیکنالوجیز، جغرافیائی سیاسی ماحول اور جنگ کی ہائبرڈیٹی شامل تھی، جب کہ پائیدار خطرات میں بھارت کا خطرناک رویہ، پاکستان پر پابندیاں اور معلوماتی جنگ شامل ہے۔


مشہور خبریں۔
سعودی عرب مغربی ایشیا میں منشیات کا مرکز :امریکی اخبار
?️ 24 دسمبر 2021سچ خبریں:ایک امریکی اخبار نے لکھا کہ سعودی ولی عہد کی سعودی
دسمبر
حماس کے ارکان کی قید کے بارے میں اسرائیل کا جھوٹ بے نقاب
?️ 11 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی فوج کے زیر ملکیت ریڈیو گیلگلٹز نے اپنی
دسمبر
امریکہ نے حماس کے رہنماؤں کے بارے میں قطر سے کیا مطالبہ کیا ہے؟
?️ 5 مئی 2024سچ خبریں: امریکہ نے قطر سے کہا کہ اگر حماس صیہونی حکومت
مئی
روس نے انسانی تاریخ کے سب سے بڑے توانائی کے بحران سے خبردار کیا
?️ 19 جولائی 2026سچ خبریں: کریم دمتریف، روسی صدر کے خصوصی نمائندے نے تاکید کی ہے
جولائی
مصر میں اخوان المسلمین کے رہنماؤں کی پھانسی کا سلسلہ جاری، ہیومن رائٹس واچ نے شدید برہمی کا اظہار کردیا
?️ 21 جون 2021قاہرہ (سچ خبریں) مصری حکومت کی جانب سے اخوان المسلمین کے ممتاز
جون
شمالی وزیرستان، کرک میں آپریشن، 3 افغان باشندوں سمیت 9 دہشت گرد ہلاک
?️ 11 فروری 2025ضلع کرک: (سچ خبریں) شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں
فروری
کیا جانسن اقتدار کے بحران سے بچ پائیں گے؟
?️ 6 فروری 2022سچ خبریں: بورس کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اندرونی احتجاج کا
فروری
مقبوضہ کشمیر میں جھڑپ کے دوران 5 بھارتی فوجی ہلاک، ایک زخمی
?️ 5 مئی 2023سرینگر: (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن
مئی