ترسیلات زر 10.8 فیصد کمی کے بعد 17.9 ارب ڈالر رہ گئیں

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر میں رواں مالی سال کے ابتدائی 8 مہینے میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تاہم ماہانہ بنیادوں پر فروری میں ترسیلات زر میں 5 فیصد اضافہ ہوا، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جنوری کے آخری ہفتے میں شرح تبادلہ پر کیپ ہٹانے کے بعد ڈالر کے 230 روپے سے موجودہ حقیقی قیمت 280 روپے پر ہونے کے بعد ہوا۔

مرکزی بینک نے جمعہ کو رپورٹ کیا مالی سال 23-2022 کے ابتدائی 8 مہینے (جولائی تا فروری) میں مجموعی طور پر 17 ارب 99 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر آئیں جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 20 ارب 18 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، یہ 10.8 فیصد کمی ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری میں رقوم کی آمد 4.9 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 98 کروڑ ڈالر رہی، جو جنوری میں ایک ارب 89 کروڑ ڈالر تھی، اس میں بہتری اچھا عندیہ ہے لیکن جب ترسیلات زر کا موازنہ گزشتہ برس کی اسی مہینے کی 2 ارب 19 کروڑ ڈالر سے کیا جائے تو اس میں 9.4 فیصد کمی ہوئی۔

فروری میں ڈالر کی بُلند قیمت کے سبب ترسیلات زر بڑھنے کی امید تھی، شرح تبادلہ سے کیپ ہٹانے کے نتیجے میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی لیکن اس سے ترسیلات کے رجحان میں تبدیلی ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی کی وجہ سے ترسیلات زر غیرقانونی ذرائع سے بھیجی جا رہی تھیں کیونکہ غیرقانونی گرے مارکیٹ میں ڈالر کی 30 سے 40 روپے زیادہ قیمت کی پیش کش کی جارہی تھی، اس پس منظر میں آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شرح تبادلہ کو اس سطح پر لائیں جو پاک۔افغان سرحد پر ہے۔

شرح تبادلہ سے کیپ ہٹانے سے نہ صرف کابل کے لیے ڈالر کی اسمگلنگ میں کمی آئی بلکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی میں بھی بہتری آئی، جس کے سبب درآمدکنندگان کے لیے سبز کرنسی خریدنے میں آسانی ہوئی۔

رواں مہینے کے آخر میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مارکیٹ اور بینکوں کو زیادہ ترسیلات زر آنے کی امید ہے کیونکہ عام طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانی خیرات، زکوۃ اور مقدس مہینے میں زیادہ اخرجات کی وجہ سے 15 سے 20 فیصد زیادہ رقم بھیجتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے مزید ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 8 مہینے میں امریکا کے علاوہ تقریباً تمام ممالک سے رقوم کی آمد میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

سب سے زیادہ 4 ارب 34 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر سعودی عرب سے آئیں لیکن اس میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 15.5 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی۔

زیادہ ترسیلات میں دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات ہے، جہاں سے 3 ارب 19 کروڑ ڈالر موصول ہوئے لیکن گزشتہ برس کے مقابلے میں 15.3 فیصد کی کمی نوٹ کی گئی۔

صرف امریکا سے ترسیلات زر میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جو رواں مالی سال کے ابتدائی 8 مہینے میں بڑھ کر ایک ارب 97 ارب ڈالر ہو گئیں۔

مالی سال 2023 کے ابتدائی 8 مہینوں میں لندن سے ترسیلات زر 5.7 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 63 کروڑ، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے 8.9 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 11 کروڑ ڈالر اور یورپی ممالک سے 8.6 فیصد کمی کے بعد 2 ارب 3 کروڑ ڈالر رہیں۔

مشہور خبریں۔

آجرلو: امریکا کے عملی اور عینی اقدام کے بغیر، ہم معاہدہ نہیں کریں گے

?️ 30 مئی 2026سچ خبریں: ایرانی مذاکراتی وفد کی میڈیا کمیٹی کے رکن نے زور

 الاسکا میٹنگ کی دستاویزات کے ہوٹل میں رہنے کی خبروں پر وائٹ ہاوس کا رد عمل 

?️ 18 اگست 2025 الاسکا میٹنگ کی دستاویزات کے ہوٹل میں رہنے کی خبروں پر وائٹ

ٹرمپ کے حامیوں کی ممکنہ مسلح بغاوت

?️ 22 فروری 2021سچ خبریں:ریاستہائے متحدہ میں نئی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے ایک مہینے

سوڈان میں جنگ کے باعث 10 لاکھ سے زیادہ بچے بے گھر: یونیسیف

?️ 17 جون 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسیف نے اعلان کیا ہے

نائیجیریا میں مسلح دہشتگردوں کے ہاتھوں140 عام شہریوں کا قتل عام

?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:شمالی نائیجیریا میں مسلح دہشتگردوں نےمتعدد گاؤں پر حملے کرکے ایک

نئی حلقہ بندیاں ڈیجیٹل مردم شماری کے حتمی نتائج سے قبل ممکن نہیں، الیکشن کمیشن

?️ 17 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے کہا

پی آئی اے نے مسافروں کو خوشخبری سنا دی

?️ 8 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پی آئی اے نے مسافروں کو خوشخبری سنا

تیران اور صنافیر جزائر کی ملکیت سعودی عرب کو منتقل کرنے کا عمل معطل

?️ 24 دسمبر 2022سچ خبریں:امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مصری حکام نے بحیرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے