تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کے سلسلے میں عمران خان تک ’رسائی‘ کی کوششیں ناکام

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جمعرات کو عمران خان تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی رہنماؤں نے مذاکرات کے تیسرے دور میں اپنے تحریری مطالبات پیش کرنے کے ارادے کا اعلان سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنی تھی۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے دسمبر کے آخری ہفتے میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، لیکن کئی ہفتوں کے مذاکرات کے باوجود عدالتی کمیشن کی تشکیل اور پی ٹی آئی قیدیوں کی رہائی جیسے اہم معاملات پر بات چیت کا عمل مشکل سے آگے بڑھا ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ انہیں پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم اور سابق وزیراعظم کے درمیان ملاقات کے لیے اڈیالہ انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن دن بھر کی کوششوں کے باوجود جیل حکام نے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے پشاور میں محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ 9 مئی اور 26 نومبر کے کریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے کر مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

پی ٹی آئی کے رہنما نے کہا کہ بانی تک رسائی ان کا بنیادی مطالبہ ہے، کیونکہ انہیں مذاکرات کے حوالے سے بانی سے مشاورت کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم ساڑھے 3 ماہ سے عمران خان تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کے ساتھ حالیہ ملاقات کے بارے میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ان کی پچھلی ملاقاتیں تفصیلی نہیں تھیں، اور پارٹی ان سے ’تفصیلی ملاقات‘ کے لیے رسائی چاہتی ہے، کیونکہ اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا باقی ہے، ایک چھوٹے سے کمرے میں ہونے والی ملاقات ’مناسب رسائی‘ نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پی ٹی آئی کے بانی نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور اپنی پارٹی کے مذاکرات کاروں کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے مرحلے میں تحریری طور پر اپنے مطالبات پیش کرنے کی اجازت دی، عمران خان سے ملاقات ہمارا بنیادی حق ہے جس سے ہمیں محروم رکھا گیا ہے۔

اس سے ایک روز قبل پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے سابق وزیراعظم تک ’غیر نگرانی‘ رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی ملاقات نگرانی میں ہوئی، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ جیل قوانین کے تحت اس طرح کی میٹنگ ممکن نہیں ہے۔

شیخ وقاص اکرم کے مطابق حکومت نے سنگجانی احتجاج کو روکنے کے لیے صبح 7 بجے جیل کے دروازے کھولے، انہوں نے اس ملاقات کے حوالے سے کہا کہ کس جیل مینوئل نے اس کی اجازت دی؟

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس طرح کے اجلاس کا اہتمام نہیں کر سکتی تو وہ ہماری پارٹی کے دیگر مطالبات کو کیسے حل کرے گی؟ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ایک اہم مطالبہ ہے جس سے مذاکراتی عمل میں مدد ملے گی۔

شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کے بانی کو جیل میں دی جانے والی سہولیات کے بارے میں جھوٹ بول رہی ہے، عمران خان کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو اخبار اور ٹیلی ویژن کی اجازت نہیں دی گئی اور جیل حکام ان کا پڑھنے کا مواد بھی لے جا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ترکی میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے کا قانون ختم

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:ترکی میں نیشنل اینٹی کورونا ہیڈ کوارٹرز کے فیصلے کے مطابق

اسد حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی کانگریس کے وفد کا شام کا پہلا دورہ

?️ 19 اپریل 2025سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان کے دو ارکان جمعے کے روز گولانی کی

مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں: پیوٹن

?️ 7 ستمبر 2022سچ خبریں:      ایسٹرن اکنامک فورم کے جنرل اجلاس میں روس

اردگان کی جیت پر مبارکباد دینے والے پہلے غیر ملکی رہنما

?️ 29 مئی 2023سچ خبریں:ترکی کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے باضابطہ اختتام

عرفان صدیقی صحافت کیساتھ سیاست میں بھی اعلی روایات کے علمبردار تھے۔ محسن نقوی

?️ 10 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹر عرفان

رفح بارڈر کراسنگ کے انتظامی ڈھانچے پر اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ

?️ 15 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی نیوز نیٹ ورک آئی 24 نیوز کے دعوے کے مطابق،

صیہونیوں کے جبر کے خلاف فلسطینیوں کا اقوام متحدہ کو احتجاجی خط

?️ 15 جنوری 2022سچ خبریں:   فلسطینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اقوام متحدہ کے

مغربی کنارے میں ایک بار پھر صیہونی جارحیت؛مجاہدین کا دندان شکن جواب

?️ 3 اگست 2023سچ خبریں: فلسطینیوں کے خلاف اپنے جابرانہ اقدامات کے تسلسل میں صیہونی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے