بھارت افغانستان سے پاکستان کے خلاف ’کم شدت کی جنگ‘ لڑ رہا ہے، وزیرِ دفاع

اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو افغانستان سے جنگ ممکن ہے: پاکستان کا انتباہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان سے پاکستان کے خلاف ’کم شدت کی جنگ‘ لڑ رہا ہے اور نئی دہلی مئی میں اسلام آباد کے ساتھ ہونے والی چار روزہ جھڑپ میں شکست کے بعد ’بدلہ لینے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات العربیہ انگلش کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جو بدھ کی رات جاری ہوا، ان کے یہ بیانات ان تنقیدوں کا تسلسل ہیں جو وہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات، سرحدی جھڑپوں اور طالبان حکام سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کابل حکومت پر کر رہے ہیں۔

العربیہ کے انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس کیا ثبوت ہیں، جن کی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ نئی دہلی دوحہ اور ترکی میں طالبان نمائندوں سے مذاکرات کے دوران “پتلی تماشا” چلا رہا تھا؟

اس پر خواجہ آصف نے جواب دیا کہ جب ثبوت دکھانے یا پیش کرنے کی بات آئے گی تو ہم ضرور کریں گے، ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں شروع ہوئیں تو اس وقت افغان وزیرِ خارجہ بھارتی دارالحکومت کے دورے پر تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان ’بھارتی پراکسی‘ بن چکا ہے، اور بھارت دراصل افغان سرزمین سے ہمارے خلاف کم شدت کی جنگ لڑ رہا ہے اور پچھلی جھڑپ میں ہونے والی اپنی شکست کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے، تقریباً 5 یا 6 ماہ پہلے، جب وہ بری طرح ہارے تھے۔ ان کے 7 طیارے گرائے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے کئی مواقع پر (حتیٰ کہ کل بھی) اس بات کا ذکر کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپ میں 7 خوبصورت طیارے تباہ ہوئے تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان مئی میں ہونے والا تصادم مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا، جس کا الزام نئی دہلی نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دیا تھا، اسلام آباد نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

نئی دہلی نے 7 مئی کو پنجاب اور آزاد کشمیر میں مہلک فضائی حملے کیے تھے، 4 روزہ تصادم کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد 10 مئی کو امریکی مداخلت سے جنگ بندی عمل میں آئی، پاکستان نے ابتدا میں 5 بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جسے بعد میں بڑھا کر 7 کر دیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی متعدد مواقع پر 7 طیارے گرائے جانے کا ذکر کیا ہے، لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ کس ملک کے طیارے تباہ ہوئے۔

جب انٹرویو کے دوران خواجہ آصف نے ایک بار پھر مئی کے واقعے کا حوالہ افغان سرحدی کشیدگی کے تناظر میں دیا تو میزبان نے کہا کہ آپ کا یہ کہنا کہ بھارت کسی دوسرے ملک کو استعمال کر کے بدلہ لینا چاہتا ہے، ایک جرات مندانہ بیان ہے۔

اس پر خواجہ آصف نے جواب دیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ بیان دوبارہ دہرا دوں؟ میں بلا جھجھک ایسا کر سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کابل اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے رہے ہیں، چاہے دونوں ملکوں میں حکومتیں بدلتی رہیں، دونوں ممالک کے تعلقات میں تسلسل ہے، اور یہ ہمیشہ پاکستان کے نقصان میں رہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی مشرقی یا مغربی سرحد، یعنی بھارت یا افغانستان کے ساتھ کسی قسم کی خلاف ورزی ہوئی تو پاکستان مؤثر جواب دے گا۔

وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ افغانستان نے بھارت کا مہرہ یا پراکسی بننے کا انتخاب کیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ افغانستان کے ساتھ وسیع یا مکمل جنگ کا خدشہ دیکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا میں قیاس آرائی نہیں کروں گا کہ مکمل جنگ ہو سکتی ہے، لیکن سرحد پر حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ ضرور ہے، اور اگر ہمیں اس بات کے ثبوت ملے کہ سرحد پار سے مداخلت ہو رہی ہے، تو ہم جوابی کارروائی کریں گے، ہم اندر جا کر حساب برابر کریں گے۔

انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کا حصہ بننے کے لیے فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے؟

اس پر خواجہ آصف نے جواب دیا کہ ہم پہلے ہی ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت ہوئی تو ہم امن، استحکام اور حالات کی بحالی کے لیے اس فورس کا حصہ بننے کو تیار ہیں، پاکستان ہمیشہ اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار رہے گا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر یہ بات چل رہی ہے کہ پاکستان نے کوئٹہ کے قریب ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا ہے، تو وزیرِ دفاع نے جواب دیا کہ یہ محض قیاس آرائی ہے۔

مشہور خبریں۔

سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے، وفاقی وزیر توانائی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف

?️ 8 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی

صیہونیوں کا بڑا چیلنج: حریدی کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟

?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی ریاست کو گھیرنے والے کثیرالجہتی سیاسی و عسکری بحران کے

اسرائیل ونزوئلا میں کیا کر رہا ہے؟

?️ 16 دسمبر 2025سچ خبریں:اسرائیل نے امریکہ کی طرف سے ونزوئلا پر حملے کی حمایت

ٹرمپ کا انصاراللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مقصد

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے

نیتن یاہو وائٹ ہاؤس سے خالی ہاتھ واپس

?️ 9 اپریل 2025سچ خبریں: یہ وہ تفصیل ہے جو منگل کو واللا نیوز کے تجزیہ

دنیا کو ایرانی تیل کی ضرورت ہے: امریکی نائب وزیر خارجہ

?️ 20 جولائی 2022سچ خبریں:امریکی نائب وزیر خارجہ نے ایک بیان میں یہ دعویٰ کرتے

غزہ پر زمینی حملے جنوری 2024 تک جاری رہیں گے

?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں:سی ین ان نے بدھ کی صبح امریکی حکام کے حوالے

ڈالر کی قدر میں 2 روز سے جاری اضافے کا رجحان رک گیا، پاکستانی کرنسی 2.09 روپے مہنگی

?️ 19 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل 2 روز سے امریکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے