ایکسٹینشن سے متعلق قانون سازی غلطی تھی، ترمیم کی ضرورت ہے، شاہد خاقان عباسی

?️

اسلام اباد(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ سے متعلق ترمیم کی ضرورت ہے، ہم نے ترمیم نہ کی تو فوج خود ایکسٹینشن سے متعلق قانون میں ترمیم کروائے گی۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایکسٹینشن سے متعلق قانون سازی کو غلطی قرار دیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دیتے وقت جو قانون میں ترمیم کی گئی وہ غلطی تھی، قانون میں کی گئی ترمیم کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ورنہ فوج خود اس قانون میں ترمیم کروائے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فوج کے سربراہ کو ایکسٹینشن دے دی گئی اور فوج کے سربراہ نے قبول کرلی، اس کے بعد فیصلے کو بدلنا فوج یا ملک کے مفاد میں نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بغیر مشورے کے جنرل باجوہ کو ساڑھے 3 ماہ قبل ایکسٹینشن دے دی تھی، جنرل باجوہ کو اگست کے درمیان توسیع دی گئی جبکہ اگست میں توسیع کی گنجائش نہیں تھی، فیصلہ نومبر میں ہونا چاہیے تھا، عمران خان نے باجوہ کو ایکسٹینشن دینے میں جلد بازی کی۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایکسٹینشن ایک غیر معمولی عمل ہے، اس کو معمول کا عمل نہیں بنانا چاہیے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کے دھڑوں کو اگر کوئی ملا رہا ہے تو یہ درست نہیں، اگر خود مل رہے ہیں تو اچھی بات ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب اور باجوہ صاحب بیٹھ کر طے کرلیں کہ کس نے کس کو چھرا گھونپا، نہ باجوہ صاحب کا کام تھا اس ملک میں سیاست کرنا اور نہ ہی خان صاحب کا کام تھا ان کے ساتھ کھیلنا، کھیلیں گے تو اس کھیل کے حالات یہی ہوں گے جو آج ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کو ہم مینیج کر رہے تھے تو عدالت نےکارروائی کر کے دھرنے کو ختم کرنے کا کہا، 10 ہزار کی نفری 200 اشخاص کو ہٹانے میں ناکام کیوں ہوئی؟ یہ معاملہ ٹُرتھ کمیشن کے حوالے کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرتھ کمیشن بنایا جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئیں، حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ شایع کر دیتے تو شاید آج ہم ان مشکلات میں نہ ہوتے

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ معلوم نہیں پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ ملے گا یا نہیں کیونکہ پرویز الہٰی ووٹ کے ذریعے نہیں بلکہ عدالتی حکم سے آئے تھے، اسمبلی وہی شخص توڑ سکتا ہے جس کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہو۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی فائدہ اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو نہ ہٹاتے تو ملک کے ڈیفالٹ کرجانے کا خدشہ تھا، ڈیفالٹ سے زیادہ مہنگائی آئی ایم ایف کے پروگرام میں نہیں ہوگی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا خصوصی انٹرویو آج شام 7 بجے ڈان نیوز پر نشر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں عسکری قیادت میں تبدیلی سے قبل یہ اطلاعات گردش کررہی تھیں کہ حکومت ’پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) 1952‘ میں اہم ترمیم کرنے پر غور و خوض کررہی ہے جس سے کسی بھی امیدوار کی ایک سادہ نوٹی فکیشن کے ذریعے تعیناتی اور تقرر کا اختیار وزیر اعظم کو حاصل ہوجائے گا اور اس سلسلے میں پیچیدہ آئینی کارروائی سے گزرنا نہیں پڑے گا۔

متعدد قانونی تبدیلیوں سے متعلق سمری کابینہ کی قانون سازی کے معاملات سے متعلق کمیٹی (سی سی ایل سی) کے سامنے پیش کیے جانے کے لیے تیار ہے جس کی وزارت دفاع نے منظوری دے چکی ہے، بعد ازاں مسودے کو مجوزہ قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

پاکستان آرمی ایکٹ کے سیکشن 176 کی ذیلی شق (2 اے) کی شق اے کے موجودہ متن میں ’ری اپائنٹمنٹ‘ کے بعد لفظ ’ری ٹینشن‘ ڈالا جائے گا، اسی طرح سے لفظ ’ریلیز‘ کے بعد ’ریزائن‘ بھی شامل کیا جائے گا۔

تاہم نومبر میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا تھا کہ پاکستان آرمی ایکٹ میں ترامیم سے متعلق میڈیا میں جاری قیاس آرائیاں بلاجواز ہیں۔

انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے 2019 کے فیصلے میں آرمی ایکٹ کی متعلقہ شقوں کا جائزہ لینےکی ہدایت کی تھی جس کے مطابق سروسز چیفس کی مدت ملازمت پر قانون سازی درکار ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مناسب وقت پر اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

سید حسن نصر اللہ کی قائدانہ صلاحیت کے بارے میں صہیونی میڈیا کیا کہتا ہے؟

?️ 6 فروری 2024سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ حزب اللہ

ہندوستان کا نام بدل کر "بہارت” کر دیا گیا ہے

?️ 5 ستمبر 2023سچ خبریں: بھارتی میڈیا نے اعلان کیا کہ ملک کی حکومت جلد

خواتین کی تعلیم اور کام پر سے پابندی جلد ختم کر دی جائے گی: طالبان

?️ 13 فروری 2023سچ خبریں:استانکزئی نے کابل میں ایران کے اسلامی انقلاب کی فتح کی

کرپشن کے سال؛ امریکہ میں ایک ریاست کے پراسیکیوٹر کے بے مثال مقدمے کا آغاز

?️ 5 ستمبر 2023سچ خبریں: ٹیکساس کے ریپبلکن اٹارنی جنرل، جنہیں حال ہی میں بدعنوانی

پارلیمان کا قانون سازی کا اختیار آئین میں دی گئی حدود کے تابع ہے، جسٹس منصور علی شاہ

?️ 21 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جسٹس منظور علی شاہ کے

فیصل سلطان نے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات سے متعلق ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ غیر مستند قرار دے دی

?️ 6 مئی 2022اسلام آباد (سچ خبریں)سابق معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کورونا

برلن پولیس کی طرف سے یوم قدس کے اجتماعات کے انعقاد پر پابندی

?️ 15 اپریل 2023سچ خبریں:برلن پولیس نے ہفتے کے آخر میں منعقد کی جانے والی

بڑے پیمانے پر روسی میزائل اور ڈرون حملہ راستے میں ہیں: امریکی حکام

?️ 8 جون 2025سچ خبریں: امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کے حالیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے