?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جسٹس منظور علی شاہ کے تحریر کردہ ایک فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کا قانون سازی کا اختیار آئین میں دی گئی حدود کے تابع ہے، جبکہ کسی قانون کے ماضی سے اطلاق کے حوالے سے عدالتوں کے فیصلے شہریوں کے حقوق سلب کر سکتے ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار پر اہم فیصلہ سنادیا۔
ٹیکس مقدمے میں 41 صفحات کا فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا جس میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پارلیمان کا قانون سازی کا اختیار آئین میں دی گئی حدود کے تابع ہے، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو آرٹیکل 142 قانون سازی کا اختیار دیتا ہے جبکہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی بھی کر سکتی ہے جس کا ماضی سے اطلاق ہوتا ہو۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قوانین کا ماضی سے اطلاق ہونا آئین سے مشروط ہے، لفظ آئین سے مشروط کا مطلب واضح ہے کہ قانون سازی آئین میں دی گئی حدود کے مطابق ہی ممکن ہے، آئین پارلیمان پر پابندی عائد کرتا ہے کہ آرٹیکل 9 اور 28 میں دیے گئے حقوق ختم نہیں کیے جاسکتے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ آرٹیکل 12 کے مطابق فوجداری معاملات میں قوانین کا ماضی سے اطلاق نہیں ہوسکتا، صرف آئین شکنی سے متعلق فوجداری معاملے پر قانون سازی ماضی سے ہوسکتی ہے، سول حقوق کو ماضی سے لاگو کرنے کا پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کو اختیار نہیں جبکہ قانون کے ماضی سے اطلاق سے فریقین کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔
تحریری فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ شہریوں کو موجودہ قوانین کا علم ہوتا ہے جس کے مطابق وہ اپنے امور انجام دیتے ہیں، مستقبل میں اگر کوئی قانون بنے تو اس کا ماضی کے اقدامات پر اطلاق کیسے ممکن ہے؟
انہوں نے لکھا کہ عدالتوں کو سمجھنا ہوگا کہ قوانین کے ماضی سے اطلاق سے حتمی ہوچکے معاملات بھی دوبارہ کھل سکتے ہیں، فیصلے کے مطابق کسی قانون کی دو تشریحات ممکن ہوں تو وہی کرنی چاہیے جو لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرے، جتنی زیادہ ناانصافی ہوگی مقننہ کا کردار بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے جبکہ عدالت ماضی میں قرار دے چکی کہ قانون میں ترمیم یا قانون ختم کرنا ایک ہی جیسا ہے۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ کوئی بھی ترمیم دراصل کسی نہ کسی انداز میں قانون یا کسی شق کا خاتمہ ہی ہوتا ہے، ماضی سے اطلاق صرف انہی قوانین کا ممکن ہے جو پہلے سے دیے گئے حقوق کو ختم نہ کرے۔
عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نجی کمپنیوں کی اپیلیں جزوی طور پر منظور کرلی ہیں۔


مشہور خبریں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، پاکستان کسی بھی ممکنہ اثر سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے، محمد اورنگزیب
?️ 17 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے
جون
ہر 2 ماہ بعد وزارتوں کی کارکردگی جانچیں گے، اچھے نتائج نہ دینے پر کارروائی ہوگی۔ شہباز شریف
?️ 16 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہر
جولائی
بحرینی عوام کے آل خیلفہ اور صیہونیوں کے خلاف مظاہرے
?️ 16 اپریل 2022سچ خبریں:بحرینی عوام نے فلسطینی عوام کی حمایت اور صیہونی حکومت کے
اپریل
امریکہ میں شہید نصراللہ کی ٹی شرٹس کی فروخت پر عبرانی میڈیا چراغپا
?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں: Ynet نیوز سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق شہید یحییٰ
دسمبر
کشتی حنظلہ پر اسرائیلی حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت
?️ 31 جولائی 2025کشتی حنظلہ پر اسرائیلی حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت غزہ
جولائی
واشنگٹن نے تل ابیب کو ایران کو رعایتیں نہ دینے کی یقین دہانی کرائی
?️ 21 اگست 2022سچ خبریں: جب کہ مغربی حکام اور میڈیا حالیہ دنوں میں
اگست
بھارت کا نیا وزیراعظم کون ہو گا؟
?️ 5 جون 2024سچ خبریں: بھارت کے الیکشن کمیشن نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) کی
جون
ہفتہ وار مہنگائی بدستور 37 فیصد سے زائد
?️ 7 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) سے پیمائش
اکتوبر