?️
کشتی حنظلہ پر اسرائیلی حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت
غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش میں شامل کشتی حنظلہ پر صیہونی ریاست کے حالیہ حملے کو فلسطینی حلقوں اور بین الاقوامی برادری نے شدید الفاظ میں مذمت کا نشانہ بنایا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، یہ کشتی بین الاقوامی کمیٹی برائے خاتمہ محاصرہ غزہ کی جانب سے روانہ کی گئی تھی اور اٹلی کے جنوبی ساحل سے روانہ ہونے کے ساتویں دن، ہفتہ کی صبح صیہونی افواج نے اسے نشانہ بنایا۔
یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب کشتی بین الاقوامی پانیوں میں موجود تھی۔ صیہونی افواج نے عملے کو دھمکی دی کہ اگر وہ غزہ کی طرف بڑھنے سے باز نہ آئے تو زبردستی کشتی کو روک لیا جائے گا۔
کشتی سے براہِ راست نشر ہونے والی آخری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ صیہونی اہلکار نگرانی کے کیمرے ضبط کر رہے ہیں، جس کے فوراً بعد کشتی سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
کشتی پر موجود بین الاقوامی کارکنوں نے حملے سے قبل اپنے آخری بیانات میں کہا تھا کہ وہ ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہیں اور غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے مشن کو ہر صورت جاری رکھیں گے۔
عالمی سطح پر سخت ردعمل
بین الاقوامی کمیٹی برائے خاتمہ محاصرہ غزہ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر کشتی کو روکا گیا تو اس میں موجود متعدد یورپی اراکینِ پارلیمان، صحافی اور فنکار غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال پر جائیں گے۔
کمیٹی نے کشتی کی بین الاقوامی پانیوں میں ضبطی کو عالمی بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نوار غزہ کی سرکاری اطلاعاتی دفتر نے اس حملے کو "نئی بحری ڈکیتی” قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے فوری اور مؤثر ردعمل کا مطالبہ کیا۔
فلسطینی تنظیموں کا مؤقف
حماس نے اسرائیلی حملے کو انسانی ارادے کے خلاف کھلی جنگ قرار دیتے ہوئے نتین یاہو حکومت کو کارکنوں کی سلامتی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا، اس قسم کی کوششیں جاری رہیں گی۔
جبهہ خلق برائے آزادی فلسطین نے بھی واقعے کو "نئی بحری قزاقی” قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس اقدام کی مذمت اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
فلسطینی مجاہدین تحریک نے ایک بیان میں کہا کہ کشتی پر حملہ اسرائیلی ریاست کے مجرمانہ چہرے کو بے نقاب کرتا ہے اور دنیا کے ہر باضمیر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ انہوں نے کشتی کے عملے کی بہادری کو سراہا اور عالمی اداروں سے ان کی جانوں کے تحفظ کی ضمانت مانگی۔
انسانی حقوق کے علمبرداروں کا مؤقف
ناوگانِ آزادی کی کمیٹی کی رہنما آن رائٹ نے واضح کیا کہ اسرائیل کے پاس بین الاقوامی کارکنوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ اسرائیل کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاملہ ہے، اور اس اقدام کو خودسر اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
کشتی حنظلہ پر 21 غیرملکی کارکن سوار تھے جو دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ مشن 17 سال سے جاری محاصرے کے خلاف ایک نئی کوشش تھی تاکہ فلسطینیوں تک آزادانہ امداد اور یکجہتی کا پیغام پہنچایا جا سکے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
میں نے صدارت کے پہلے 100 دنوں میں کوئی غلطی نہیں کی؛ٹرمپ کا دعویٰ
?️ 1 مئی 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت صدارت کے
مئی
’جمال جمالو کدو‘ پر یشما گل کے ڈانس کی ویڈیو وائرل
?️ 22 دسمبر 2023سچ خبریں: اداکارہ یشما گل اور ان کی سہیلیوں کی جانب سے
دسمبر
مشکل فیصلوں میں سب کو اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا:شاہد خاقان عباسی
?️ 16 مئی 2022(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر ترین رہنما
مئی
وزیر خارجہ نے ایران کے نو منتخب صدر کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکیا
?️ 24 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران کے نو
جون
نتن یاہو کے ایران سے متعلق دعوے پر زاخارووا کا ردعمل: غلط پتہ نہ دیں
?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے صہیونی حکومت کے
اپریل
کورونا پر قابو پانے میں سب سے ناکام ملک
?️ 13 اگست 2021سچ خبریں:یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ امریکہ کی کورونا پر قابو پانے
اگست
پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف کینیڈا کی ایران مخالف کارروائی
?️ 9 اکتوبر 2022کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جمعہ کو ایران کے خلاف
اکتوبر
صیہونی حکومت کی مدد کا منصوبہ لغو
?️ 10 نومبر 2023سچ خبریں:کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان یوکرین کو مزید امداد
نومبر